مکمل مشقی کوئز
کثیرالانتخابی سوالات — مکمل مشق
تمام پندرہ اسباق کے کل 263 کثیرالانتخابی سوالات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ اسباق منتخب کریں اور مشق شروع کریں۔
اسباق منتخب کریں
سبق 1۔ اسم اشارہ (ھذا) اور سوالیہ کلمات — ما، ہل
1عربی زبان میں کلمہ (لفظ) کی کتنی اقسام ہیں؟
عربی میں ہر کلمہ اسم، فعل یا حرف میں سے کسی ایک قسم میں آتا ہے۔
2﴿كَتَبَ﴾ (اس نے لکھا) کس قسم کا کلمہ ہے؟
كَتَبَ کسی کام کے سرزد ہونے اور زمانے پر دلالت کرتا ہے، اس لیے یہ فعل ہے۔
3﴿فِي﴾ (میں) کس قسم کا کلمہ ہے؟
فِي کا مستقل معنی نہیں بلکہ یہ نسبت ظاہر کرتا ہے، اس لیے یہ حرف ہے۔
4هَذَا کس چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
هَذَا اسم اشارہ قریب مذکر ہے۔
5﴿هَذَا ___﴾ (یہ ایک کتاب ہے) میں خالی جگہ پُر کریں۔
'کتاب' کا عربی لفظ كِتَابٌ ہے۔
6'یہ ایک دروازہ ہے' کا درست عربی ترجمہ کون سا ہے؟
'دروازہ' کے لیے بَابٌ استعمال ہوتا ہے۔
7جملہ اسمیہ کی تعریف کیا ہے؟
جملہ اسمیہ فعل کے بغیر، محض اسموں کی ترتیب سے مکمل ہوتا ہے، جیسے هَذَا كِتَابٌ۔
8﴿مَا هَذَا؟﴾ کا اردو مفہوم کیا ہے؟
مَا کسی غیر ذی روح چیز کی شناخت پوچھنے کے لیے آتا ہے، یعنی 'یہ کیا ہے؟'۔
9﴿مَا هَذَا؟ هَذَا ___﴾ کا جواب مکمل کریں اگر تصویر میں چابی ہو۔
'چابی' کا عربی لفظ مِفْتَاحٌ ہے۔
10هَلْ کا بنیادی کام کیا ہے؟
هَلْ سوالیہ حرف ہے جو خبریہ جملے کو ہاں/نہیں والے سوال میں بدل دیتا ہے۔
11﴿هَلْ هَذَا قَلَمٌ؟﴾ کا اثباتی (ہاں والا) جواب کیا ہوگا؟
اثباتی جواب نَعَمْ سے شروع ہو کر وہی جملہ دہراتا ہے۔
12اگر سوال ﴿هَلْ هَذَا كِتَابٌ؟﴾ ہو مگر اصل چیز قلم ہو تو درست جواب کیا ہوگا؟
غلط بات کی نفی لَا سے کی جاتی ہے اور پھر درست اسم بتایا جاتا ہے۔
13هَلْ کو اسم یا فعل کی بجائے حرف کیوں کہا جاتا ہے؟
حرف کا کام صرف نسبت پیدا کرنا ہوتا ہے، اسم اور فعل کی طرح مستقل معنی نہیں رکھتا۔
14درج ذیل میں سے کون سا لفظ 'چٹائی' کے معنی میں ہے؟
حَصِيرٌ کا معنی چٹائی ہے۔
15﴿هَذَا مَسْجِدٌ﴾ میں 'مَسْجِدٌ' جملے میں کیا کہلاتا ہے؟
جملہ اسمیہ میں پہلا اسم (هَذَا) مبتدأ اور دوسرا اسم (مَسْجِدٌ) خبر ہوتا ہے۔
16'یہ ایک چراغ ہے' کا عربی ترجمہ منتخب کریں۔
'چراغ' کا عربی لفظ مِصْبَاحٌ ہے۔
17عربی زبان بی ایس اسلامیات کے طلبہ کے لیے بنیادی طور پر کیوں اہم ہے؟
قرآن و حدیث اور دیگر اسلامی علوم عربی زبان میں ہیں، اس لیے اس کا فہم اسلامیات کے طالب علم کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
سبق 2۔ من ھذا؟، تنوین اور ال تعریف
1کسی انسان کی شناخت پوچھنے کے لیے کون سا سوالیہ کلمہ استعمال ہوتا ہے؟
مَنْ ذی روح انسانوں کی شناخت پوچھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2﴿مَنْ هَذَا؟ هَذَا ___﴾ میں خالی جگہ کے لیے موزوں لفظ چنیں۔
مَنْ کا جواب ذی روح انسان سے دیا جاتا ہے، جیسے رَجُلٌ (آدمی)۔
3تنوین کس چیز کی علامت ہے؟
تنوین اسم کے نکرہ (غیر معین) ہونے کی علامت ہے۔
4﴿كِتَابٌ﴾ میں آخری حرکت کو کیا کہتے ہیں؟
دو پیش کی یہ حرکت تنوین کہلاتی ہے۔
5کسی نکرہ اسم کو معرفہ بنانے کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟
شروع میں ال لگانے سے اسم معرفہ (ال تعریف) بن جاتا ہے۔
6الْقَلَمُ میں ال لگنے کے بعد اسم کے آخر میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
ال لگنے کے بعد تنوین ختم ہو جاتی ہے اور صرف ایک حرکت باقی رہتی ہے۔
7کیا ایک ہی اسم پر تنوین اور ال دونوں بیک وقت آ سکتے ہیں؟
تنوین اور ال ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتے، یہ نکرہ اور معرفہ کی الگ الگ علامتیں ہیں۔
8'وہ (معلوم) آدمی' کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
معین شخص کے لیے ال تعریف کے ساتھ الرَّجُلُ استعمال ہوتا ہے۔
9'ایک لڑکا' اور 'وہ (معلوم) لڑکا' میں فرق کس چیز سے ظاہر ہوتا ہے؟
وَلَدٌ (نکرہ) اور الْوَلَدُ (معرفہ) کا فرق تنوین اور ال کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔
10فعل ماضی کس زمانے پر دلالت کرتا ہے؟
فعل ماضی کسی ایسے کام پر دلالت کرتا ہے جو پہلے مکمل ہو چکا ہو۔
11﴿هُوَ كَتَبَ﴾ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
هُوَ مذکر واحد غائب ضمیر ہے اور اس کا فعل كَتَبَ ہے۔
12مؤنث واحد غائب کے لیے كَتَبَ کا کون سا صیغہ استعمال ہوگا؟
مؤنث واحد غائب کے لیے كَتَبَتْ استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں تاء ساکن لگتی ہے۔
13تثنیہ مذکر غائب (هُمَا) کے لیے كَتَبَ کا کون سا صیغہ آئے گا؟
هُمَا (مذکر) کے ساتھ كَتَبَا استعمال ہوتا ہے، یعنی 'ان دونوں نے لکھا'۔
14جمع مذکر غائب (هُمْ) کے لیے كَتَبَ کا صیغہ کیا ہوگا؟
هُمْ کے ساتھ كَتَبُوا استعمال ہوتا ہے، یعنی 'انہوں نے لکھا'۔
15﴿الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ﴾ میں فعل کا صیغہ فاعل سے کیوں مطابقت رکھتا ہے؟
الطَّالِبَةُ مؤنث واحد فاعل ہے، اس لیے فعل بھی مؤنث واحد غائب یعنی كَتَبَتْ آیا۔
16درج ذیل میں سے کون سا لفظ 'کسان' کے معنی میں ہے؟
فَلَّاحٌ کا معنی کسان ہے۔
17﴿مَنْ هَذَا؟ هَذَا مُدَرِّسٌ﴾ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
مَنْ سے انسان کی شناخت پوچھی جاتی ہے، اور جواب میں مُدَرِّسٌ (استاد) بتایا گیا۔
سبق 3۔ أین؟ اور بنیادی ظروف مکان
1کسی چیز کا مقام دریافت کرنے کے لیے کون سا سوالیہ کلمہ استعمال ہوتا ہے؟
أَيْنَ مقام (کہاں) دریافت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2﴿أَيْنَ الْكِتَابُ؟﴾ میں الْكِتَابُ کس حالت میں ہے؟
الْكِتَابُ ال تعریف کے ساتھ معرفہ اسم ہے۔
3'قلم گھر میں ہے' کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
'میں' کے معنی کے لیے فِي استعمال ہوتا ہے۔
4عَلَى کا بنیادی معنی کیا ہے؟
عَلَى کا معنی 'پر' یعنی سطح پر ہونا ہے۔
5'بلی میز کے نیچے ہے' کا عربی ترجمہ کیا ہوگا؟
'کے نیچے' کے لیے تَحْتَ استعمال ہوتا ہے۔
6أَمَامَ کا معنی کیا ہے؟
أَمَامَ کا معنی 'کے سامنے' ہے۔
7'باغ گھر کے پیچھے ہے' کا درست عربی ترجمہ چنیں۔
'کے پیچھے' کے لیے وَرَاءَ استعمال ہوتا ہے۔
8جار و مجرور کی ترکیب میں 'جار' کا کیا کردار ہے؟
جار (حرف جر) اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کر دیتا ہے۔
9﴿الْكِتَابُ عَلَى الْمَكْتَبِ﴾ میں 'عَلَى الْمَكْتَبِ' جملے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟
جار و مجرور کی یہ ترکیب جملے میں خبر کا کام دے رہی ہے۔
10مذکر مخاطب (أَنْتَ) کے ساتھ كَتَبَ کا صیغہ کیا ہوگا؟
أَنْتَ کے ساتھ كَتَبْتَ (تَ کی حرکت کے ساتھ) استعمال ہوتا ہے۔
11مؤنث مخاطب (أَنْتِ) کے ساتھ درست صیغہ کون سا ہے؟
أَنْتِ کے ساتھ كَتَبْتِ (زیر کے ساتھ) استعمال ہوتا ہے۔
12'میں نے لکھا' کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
متکلم واحد أَنَا کے ساتھ كَتَبْتُ استعمال ہوتا ہے۔
13'ہم نے لکھا' کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
متکلم جمع نَحْنُ کے ساتھ كَتَبْنَا استعمال ہوتا ہے۔
14أَنْتُنَّ (مؤنث مخاطب جمع) کے ساتھ كَتَبَ کا درست صیغہ کیا ہے؟
أَنْتُنَّ کے ساتھ كَتَبْتُنَّ استعمال ہوتا ہے۔
15هُنَّ (مؤنث جمع غائب) کے ساتھ كَتَبَ کا صیغہ کیا ہوگا؟
هُنَّ کے ساتھ كَتَبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
16فعل ماضی کی مکمل گردان میں کل کتنے صیغے ہوتے ہیں؟
فعل ماضی کی مکمل گردان میں چودہ صیغے ہوتے ہیں: چھ غائب، پانچ حاضر، اور دو متکلم۔
17أَنْتُمَا (تثنیہ مخاطب) کے ساتھ كَتَبَ کا صیغہ، خواہ مذکر ہوں یا مؤنث، کیا ہوگا؟
تثنیہ مخاطب میں مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے یکساں صیغہ كَتَبْتُمَا استعمال ہوتا ہے۔
سبق 4۔ مؤنث اشارہ (ھذہ، تلک، ذلک) اور اضافت
1درج ذیل میں سے کون سا اسم مؤنث ہے؟
سَيَّارَةٌ کے آخر میں تاء مربوطہ ہے، جو علامتِ تانیث ہے، اس لیے یہ مؤنث اسم ہے۔
2علامتِ تانیث کس حرف کی صورت میں عام طور پر ظاہر ہوتی ہے؟
عربی میں مؤنث اسم کے آخر میں عموماً تاء مربوطہ (ة) لگتی ہے، جیسے حقیبۃ اور ساعۃ۔
3خالی جگہ پُر کریں: ...... حَقِيبَةٌ (یہ ایک بیگ ہے)
حقیبۃ مؤنث اسم ہے اور قریب کی چیز کی طرف اشارہ کے لیے مؤنث صیغہ ھذہ استعمال ہوگا۔
4﴿ذَلِكَ كِتَابٌ﴾ میں ذلک کیوں استعمال ہوا؟
ذلک اسم اشارہ بعید مذکر ہے، اور چونکہ کتاب مذکر اسم ہے اس لیے ذلک درست ہے۔
5﴿تِلْكَ سَيَّارَةٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
تلک بعید مؤنث کے لیے اشارہ ہے، اس لیے ترجمہ وہ ایک گاڑی ہے ہوگا۔
6اضافت کی ترکیب میں پہلا جزو کیا کہلاتا ہے؟
اضافت کے پہلے اسم کو مضاف کہا جاتا ہے، جس پر ال یا تنوین نہیں آتی۔
7اضافت میں مضاف پر کیا نہیں آتا؟
مضاف کبھی معرف بہ ال نہیں ہوتا اور نہ اس پر تنوین آتی ہے، کیونکہ یہ اپنی تعریف مضاف الیہ سے حاصل کرتا ہے۔
8مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟
اضافت کا قاعدہ ہے کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ باقی جملے کا اعراب کچھ بھی ہو۔
9﴿بَابُ الْبَيْتِ﴾ میں البیت کا اعراب کیا ہے؟
البیت مضاف الیہ ہے، اس لیے یہ کسرہ کے ساتھ مجرور ہے۔
10﴿كِتَابُ الطَّالِبِ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
یہ سادہ اضافت کی ترکیب ہے جس کا ترجمہ طالب علم کی کتاب ہے۔
11﴿مِفْتَاحُ السَّيَّارَةِ﴾ میں مضاف کون سا لفظ ہے؟
مفتاح پہلا جزو ہے، اس پر نہ ال ہے نہ تنوین، اس لیے یہی مضاف ہے۔
12فعل مضارع کس زمانے کی خبر دیتا ہے؟
فعل مضارع حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
13حروفِ مضارعت کتنے اور کون سے ہیں؟
حروفِ مضارعت چار ہیں جنہیں مجموعی طور پر أنيت کہا جاتا ہے۔
14﴿كَتَبَ﴾ سے فعل مضارع بنانے پر کیا حاصل ہوگا؟
ماضی كَتَبَ سے حرفِ مضارعت ی کے اضافے اور حرکات کی تبدیلی سے مضارع يَكْتُبُ بنتا ہے۔
15درج ذیل میں سے کون سا فعل مضارع ہے؟
يَكْتُبُ حرفِ مضارعت ی کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اس لیے یہ فعل مضارع ہے۔
16اسم اشارہ اور مشار الیہ کے درمیان کون سی موافقت لازمی ہے؟
اسم اشارہ کا انتخاب ہمیشہ مشار الیہ کی جنس (مذکر یا مؤنث) کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
17﴿هَذِهِ سَاعَةٌ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
ھذہ قریب مؤنث کے لیے ہے اور ساعۃ مؤنث اسم ہے، اس لیے ترجمہ یہ ایک گھڑی ہے ہوگا۔
سبق 5۔ ضمائر غائب (ہو، ہی) اور نعت و منعوت
1ھو کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
ھو غائب مذکر واحد کے لیے استعمال ہونے والا ضمیر منفصل ہے۔
2﴿هِيَ مُدَرِّسَةٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
ھی مؤنث غائب واحد کا ضمیر ہے، اور مدرسۃ کا مطلب استانی ہے۔
3خالی جگہ پر کون سا ضمیر آئے گا: ...... طَالِبَانِ (وہ دونوں طالب علم ہیں)
دو افراد کی طرف اشارہ کے لیے ھما استعمال ہوتا ہے۔
4نعت اور منعوت میں مطابقت کے کتنے اصول ہیں؟
نعت اور منعوت میں چار اصولوں کی مطابقت لازم ہے: جنس، عدد، تعریف و تنکیر، اور اعراب۔
5﴿بَيْتٌ كَبِيرٌ﴾ میں کبیر کیا کہلاتا ہے؟
کبیر بیت کی صفت بیان کر رہا ہے، اس لیے یہ نعت ہے۔
6﴿سَيَّارَةٌ جَمِيلَةٌ﴾ میں جنس کی مطابقت کیسے ہے؟
سیارۃ اور جمیلۃ دونوں تاء مربوطہ کے ساتھ مؤنث ہیں، اس لیے جنس کی مطابقت درست ہے۔
7﴿الْكِتَابُ الْجَدِيدُ﴾ کس اصول کی مثال ہے؟
دونوں الفاظ پر ال آنے کی وجہ سے یہ تعریف و تنکیر کی مطابقت کی مثال ہے۔
8اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت کیسی ہونی چاہیے؟
تعریف و تنکیر کی مطابقت کے مطابق نکرہ منعوت کے ساتھ نعت بھی نکرہ ہی آئے گی۔
9فعل مضارع کی گردان میں ھن کا صیغہ کیا ہے؟
ھن (غائب مؤنث جمع) کے لیے صیغہ يَكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
10أنتِ کے لیے فعل مضارع کا صحیح صیغہ کیا ہے؟
حاضرہ مؤنث واحد (أنتِ) کے لیے تَكْتُبِينَ استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں یاء اور نون ہے۔
11نحن کے لیے فعل مضارع کا صیغہ کیا ہے؟
متکلم جمع (نحن) کے لیے حرفِ مضارعت ن کے ساتھ نَكْتُبُ آتا ہے۔
12أنتما کے لیے فعل مضارع کیا ہوگا؟
دونوں جنسوں کے تثنیہ مخاطب أنتما کے لیے تَكْتُبَانِ استعمال ہوتا ہے۔
13رفع کی علامت کیا ہے؟
رفع کی بنیادی علامت ضمہ (پیش) ہے، جیسے يَكْتُبُ کے آخر میں۔
14نصب کی علامت کیا ہے؟
نصب کی بنیادی علامت فتحہ (زبر) ہے۔
15جزم کی علامت کیا ہے؟
جزم کی علامت سکون ہے، جیسے لا تَكْتُبْ میں آخری حرف پر سکون ہے۔
16فعل مضارع عمومی حالت میں کس اعراب میں ہوتا ہے؟
جب تک کوئی ناصب یا جازم حرف نہ آئے، فعل مضارع اپنی اصل حالت یعنی مرفوع میں رہتا ہے۔
17درج ذیل میں سے کون سا صیغہ ھم (غائب مذکر جمع) کے لیے درست ہے؟
غائب مذکر جمع ھم کے لیے يَكْتُبُونَ استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں واو اور نون ہے۔
سبق 6۔ ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر و نہی
1أنتِ کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
أنتِ سامنے موجود مؤنث واحد کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2﴿أَنَا طَالِبٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
أنا متکلم واحد کا ضمیر ہے، اس لیے ترجمہ میں طالب علم ہوں ہوگا۔
3نحن کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
نحن متکلم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی ہم ہے۔
4فعل امر بنیادی طور پر کس فعل سے ماخوذ ہوتا ہے؟
فعل امر، مخاطب کے فعل مضارع مجزوم سے حرفِ مضارعت گرا کر بنایا جاتا ہے۔
5﴿تَكْتُبُ﴾ سے فعل امر بنانے کا پہلا قدم کیا ہے؟
سب سے پہلے حرفِ مضارعت ت کو گرایا جاتا ہے، جس سے كْتُبْ باقی بچتا ہے۔
6ہمزہ وصل کب لگائی جاتی ہے؟
اگر حرفِ مضارعت گرانے کے بعد فعل کا پہلا حرف ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزہ وصل لگائی جاتی ہے، جیسے اُكْتُبْ میں۔
7أنتَ کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
مخاطب مذکر واحد (أنتَ) کے لیے فعل امر اُكْتُبْ استعمال ہوتا ہے۔
8أنتِ کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
مخاطب مؤنث واحد (أنتِ) کے لیے فعل امر اُكْتُبِي استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں یاء ہے۔
9أنتم کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
مخاطب مذکر جمع (أنتم) کے لیے فعل امر اُكْتُبُوا استعمال ہوتا ہے۔
10أنتن کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
مخاطب مؤنث جمع (أنتن) کے لیے فعل امر اُكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
11فعل نہی بنانے کے لیے کون سا حرف استعمال ہوتا ہے؟
فعل نہی بنانے کے لیے حرفِ نہی لا، جسے لا الناہیہ کہتے ہیں، فعل مضارع مجزوم سے پہلے لگایا جاتا ہے۔
12﴿لَا تَكْتُبْ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
لا الناہیہ کے ساتھ مضارع مجزوم آنے سے نہی کا معنی مت لکھو بنتا ہے۔
13فعل نہی میں حرفِ مضارعت کا کیا ہوتا ہے؟
امر کے برعکس نہی میں حرفِ مضارعت گرایا نہیں جاتا بلکہ فعل مضارع مجزوم اپنی اصل شکل میں لا کے بعد آتا ہے۔
14أنتن کے لیے فعل نہی کیا ہوگا؟
مخاطب مؤنث جمع (أنتن) کے لیے فعل نہی لَا تَكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
15امر اور نہی دونوں کس اعرابی حالت پر مبنی ہیں؟
دونوں فعل مضارع مجزوم سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کی بنیاد جزم پر ہے۔
16فعل امر صرف کن صیغوں میں پایا جاتا ہے؟
چونکہ حکم ہمیشہ سامنے والے کو دیا جاتا ہے، اس لیے فعل امر صرف مخاطب کے پانچ صیغوں میں پایا جاتا ہے۔
17أنتما کے لیے فعل امر کیا ہوگا (دونوں جنسوں کے لیے مشترک)؟
مخاطب تثنیہ (أنتما) کے لیے فعل امر اُكْتُبَا استعمال ہوتا ہے، جو مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے یکساں ہے۔
سبق 7۔ رنگ و اعداد؛ اسم الفاعل و اسم المفعول
1أَحْمَر کی مؤنث شکل کیا ہے؟
رنگوں کا مؤنث وزن فَعْلَاء ہوتا ہے، اس لیے أَحْمَر کی مؤنث حَمْرَاء ہے۔
2أَخْضَر کا اردو معنی کیا ہے؟
أَخْضَر کا معنی سبز ہے، اس کی مؤنث خَضْرَاء ہے۔
3﴿وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ﴾ میں حَمْرَاءُ مؤنث کیوں ہے؟
نعت اپنے منعوت (وَرْدَة، جو تاء مربوطہ کی وجہ سے مؤنث ہے) کے مطابق مؤنث آئی ہے۔
4أَبْيَض کی مؤنث کیا ہے؟
أَبْيَض کا مؤنث وزن فَعْلَاء کے مطابق بَيْضَاء بنتا ہے۔
5رنگوں کا وزن أَفْعَل/فَعْلَاء بنیادی طور پر کس بڑے خاندان کا حصہ سمجھا جاتا ہے؟
یہ وزن دراصل اسم تفضیل کے خاندان کا خاص استعمال ہے، اگرچہ رنگوں میں یہ زیادتی کے معنی نہیں دیتا۔
6عربی میں عدد ثَلَاثَة کا اردو معنی کیا ہے؟
ثَلَاثَة کا معنی تین ہے۔
7﴿ثَلَاثَةُ كُتُبٍ﴾ میں كُتُبٍ کس حالت میں آیا ہے؟
عدد کے بعد معدود عام طور پر جمع اور مجرور کی حالت میں آتا ہے، جیسے كُتُبٍ۔
8عربی میں عدد ٨ (آٹھ) کا لفظ کیا ہے؟
آٹھ کے لیے ثَمَانِيَةٌ استعمال ہوتا ہے۔
9اسم الفاعل کا وزن کیا ہے؟
ثلاثی مجرد فعل سے اسم الفاعل کا وزن ہمیشہ فَاعِل آتا ہے۔
10کَتَبَ سے اسم الفاعل کیا بنے گا؟
کَتَبَ سے وزن فَاعِل پر كَاتِبٌ (لکھنے والا) بنتا ہے۔
11قَرَأَ سے اسم الفاعل کیا ہوگا؟
قَرَأَ سے وزن فَاعِل پر قَارِئٌ (پڑھنے والا) بنتا ہے۔
12اسم المفعول کا وزن کیا ہے؟
ثلاثی مجرد فعل سے اسم المفعول کا وزن ہمیشہ مَفْعُول آتا ہے۔
13فَتَحَ سے اسم المفعول کیا بنے گا؟
فَتَحَ سے وزن مَفْعُول پر مَفْتُوحٌ (کھولا ہوا) بنتا ہے۔
14﴿الْبَابُ مَفْتُوحٌ﴾ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
مَفْتُوحٌ کا معنی 'کھلا ہوا' ہے۔
15فَاتِحٌ کا معنی کیا ہے؟
فَاتِحٌ اسم الفاعل ہے اور اس کا معنی 'کھولنے والا' ہے۔
16اسم الفاعل اور اسم المفعول میں بنیادی فرق کیا ہے؟
اسم الفاعل کرنے والے کو اور اسم المفعول جس پر کام ہوا اسے ظاہر کرتا ہے۔
17أَزْرَق کی مؤنث شکل کیا ہے؟
أَزْرَق کی مؤنث وزن فَعْلَاء کے مطابق زَرْقَاء ہے۔
سبق 8۔ جمع تکسیر و سالم؛ مزید مشتقات
1كِتَابٌ کی جمع تکسیر کیا ہے؟
كِتَابٌ کی جمع تکسیر بے قاعدہ وزن پر كُتُبٌ آتی ہے۔
2بَيْتٌ کی جمع تکسیر کیا ہے؟
بَيْتٌ کی جمع تکسیر بُيُوتٌ ہے۔
3وَلَدٌ کی جمع تکسیر کیا ہے؟
وَلَدٌ کی معروف جمع تکسیر أَوْلَادٌ ہے۔
4رَجُلٌ کی جمع تکسیر کیا ہے؟
رَجُلٌ کی جمع تکسیر رِجَالٌ ہے۔
5جمع تکسیر کے اوزان کے بارے میں کون سا بیان درست ہے؟
جمع تکسیر کے اوزان غیر یکساں ہوتے ہیں اس لیے انہیں لفظ بہ لفظ یاد کرنا پڑتا ہے۔
6جمع مذکر سالم میں حالتِ رفع کی علامت کیا ہے؟
جمع مذکر سالم میں حالتِ رفع میں ونَ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے مُسْلِمُونَ۔
7مُسْلِمٌ کی جمع نصب و جر کی حالت میں کیا ہوگی؟
نصب و جر کی حالت میں مُسْلِمِينَ آتا ہے۔
8جمع مؤنث سالم کیسے بنتی ہے؟
جمع مؤنث سالم میں تاء مربوطہ کی جگہ اتٌ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے مُسْلِمَاتٌ۔
9مُسْلِمَةٌ کی جمع مؤنث سالم کیا ہے؟
مُسْلِمَةٌ کی جمع مُسْلِمَاتٌ بنتی ہے۔
10جمع مؤنث سالم میں حالتِ نصب کی علامت کیا ہے؟
جمع مؤنث سالم میں نصب کی حالت بھی کسرہ کے ساتھ آتی ہے، برخلاف جمع مذکر سالم کے۔
11اسم تفضیل کا وزن کیا ہے؟
اسم تفضیل کا وزن ہمیشہ أَفْعَل آتا ہے۔
12كَبِيرٌ سے اسم تفضیل کیا بنے گا؟
كَبِيرٌ سے وزن أَفْعَل پر أَكْبَرُ (بڑا تر/سب سے بڑا) بنتا ہے۔
13کَتَبَ سے اسم ظرف مکان کیا بنے گا؟
کَتَبَ سے وزن مَفْعَل پر مَكْتَبٌ (لکھنے کی جگہ) بنتا ہے۔
14جَلَسَ سے اسم ظرف مکان کیا بنے گا؟
جَلَسَ سے مَجْلِسٌ (بیٹھنے کی جگہ) بنتا ہے۔
15مِفْتَاحٌ کس زمرے کا اسم ہے؟
مِفْتَاحٌ اسم آلہ ہے کیونکہ یہ اس آلے کو ظاہر کرتا ہے جس سے تالا کھولا جاتا ہے۔
16مِكْنَسَةٌ کا اردو معنی کیا ہے؟
مِكْنَسَةٌ کا معنی جھاڑو ہے، جو صفائی کے آلے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
17الَّذِي کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الَّذِي اسم موصول کا مذکر واحد صیغہ ہے۔
18الَّتِي کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الَّتِي اسم موصول کا مؤنث واحد صیغہ ہے۔
19الَّذِينَ کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الَّذِينَ اسم موصول کا مذکر جمع صیغہ ہے۔
20﴿جَاءَ الَّذِي كَتَبَ الدَّرْسَ﴾ میں اسم موصول کون سا لفظ ہے؟
الَّذِي اسم موصول ہے جس کے بعد جملہ صلہ 'كَتَبَ الدَّرْسَ' آیا ہے۔
سبق 9۔ مثنی (تثنیہ)؛ مرکب اضافی و توصیفی
1مثنی کی رفع کی علامت کیا ہے؟
مثنی کی حالتِ رفع میں ـَانِ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے كِتَابَانِ۔
2مثنی کی نصب و جر کی علامت کیا ہے؟
مثنی کی حالتِ نصب و جر میں ـَيْنِ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے كِتَابَيْنِ۔
3كِتَابٌ کی مثنی حالتِ رفع میں کیا ہوگی؟
حالتِ رفع میں كِتَابٌ کی مثنی كِتَابَانِ بنتی ہے۔
4﴿رَأَيْتُ كِتَابَيْنِ﴾ میں كِتَابَيْنِ کس حالت میں ہے؟
یہ لفظ فعل رَأَيْتُ کا مفعول ہے، اس لیے یہ حالتِ نصب میں ہے اور ـَيْنِ کے ساتھ آیا ہے۔
5مذکر مثنی کے لیے اسم اشارہ قریب کیا ہے؟
مذکر مثنی کے لیے هَذَانِ استعمال ہوتا ہے۔
6مؤنث مثنی کے لیے اسم اشارہ قریب کیا ہے؟
مؤنث مثنی کے لیے هَاتَانِ استعمال ہوتا ہے۔
7هَذَانِ کی حالتِ نصب و جر میں شکل کیا ہوگی؟
هَذَانِ نصب و جر کی حالت میں هَذَيْنِ بن جاتا ہے۔
8فعل ماضی كَتَبَ کی مثنی مذکر غائب کی صورت کیا ہے؟
مثنی مذکر غائب کے لیے كَتَبَا (وہ دونوں مرد لکھے) استعمال ہوتا ہے۔
9فعل ماضی كَتَبَ کی مثنی مؤنث غائب کی صورت کیا ہے؟
مثنی مؤنث غائب کے لیے كَتَبَتَا (وہ دونوں عورتیں لکھیں) استعمال ہوتا ہے۔
10مرکب اضافی میں مضاف الیہ کی اعرابی حالت کیا ہوتی ہے؟
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی حالت میں ہو۔
11مرکب اضافی میں مضاف پر کیا نہیں آتا؟
مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین۔
12﴿كِتَابُ الطَّالِبِ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
یہ مرکب اضافی ہے جس کا معنی 'طالب علم کی کتاب' ہے۔
13مرکب توصیفی کسے کہتے ہیں؟
مرکب توصیفی موصوف اور اس کی صفت کے امتزاج سے بنتا ہے۔
14﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ﴾ میں دونوں اجزاء کے اعراب کے بارے میں کیا درست ہے؟
مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت اعراب میں مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔
15مرکب اضافی اور مرکب توصیفی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
مرکب اضافی نسبت/ملکیت ظاہر کرتا ہے جبکہ مرکب توصیفی وصف بیان کرتا ہے۔
16﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَمِيلُ﴾ میں الْجَمِيلُ کس کی صفت ہے؟
الْجَمِيلُ پوری اضافت کے مجموعی موصوف یعنی كِتَابُ کی صفت ہے، اسی لیے وہ مرفوع آیا۔
17هَاتَانِ سَيَّارَتَانِ میں سَيَّارَتَانِ کس اعرابی حالت میں ہے؟
یہ جملہ اسمیہ کی خبر ہے، مبتدا هَاتَانِ کی طرح مرفوع ہے، اس لیے ـَانِ کے ساتھ آیا۔
سبق 10۔ جمع سالم اور ضمائر جمع؛ فعل صحیح و مضاعف
1﴿الطَّالِبَاتُ کَتَبْنَ الدَّرْسَ﴾ میں فعل کے ساتھ لگا لاحقہ کیا کہلاتا ہے؟
جمع مؤنث غائب کے فاعل کی علامت ﴿نون النسوۃ﴾ ہے، جو یہاں ﴿کَتَبْنَ﴾ میں موجود ہے۔
2جمع مذکر سالم بنانے کے لیے حالتِ نصب و جر میں واحد کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟
حالتِ نصب و جر میں جمع مذکر سالم ﴿ين﴾ کے اضافے سے بنتی ہے، جبکہ رفع میں ﴿ون﴾ آتا ہے۔
3الفعل الصحیح کی تعریف کیا ہے؟
فعل صحیح وہ ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حروفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔
4﴿کَتَبَ﴾ فعل صحیح کی کس ذیلی قسم میں آتا ہے؟
﴿کَتَبَ﴾ میں نہ دوسرا تیسرا حرف یکساں ہے نہ ہمزہ ہے، اس لیے یہ فعل سالم ہے۔
5﴿أَکَلَ﴾ فعلِ صحیح کی کس قسم میں شمار ہوتا ہے؟
﴿أَکَلَ﴾ میں ہمزہ حرفِ اصلی کے طور پر موجود ہے، اس لیے یہ فعل مہموز ہے۔
6الفعل المضاعف کی پہچان کیا ہے؟
مضاعف وہ فعل ہے جس کے جڑ کے آخری دو حروف باہم یکساں ہوں، جیسے مَدَّ (م-د-د)۔
7﴿مَدَّ﴾ کی اصل جڑ کیا ہے؟
﴿مَدَّ﴾ کی جڑ ﴿م-د-د﴾ ہے جہاں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں 'د' ہیں، جو ادغام کے بعد ایک مشدد حرف میں بدل جاتے ہیں۔
8﴿رَدَّ﴾ کا صحیح مضارع کیا ہے؟
﴿رَدَّ﴾ کا مضارع ﴿يَرُدُّ﴾ (وہ لوٹاتا ہے) ہے، جس میں ادغام باقی رہتا ہے۔
9ادغام کا مطلب کیا ہے؟
ادغام سے مراد دو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک حرف بنا دینا ہے جس پر شدہ لگتی ہے۔
10﴿مَدَدْتُ﴾ میں ادغام کیوں نہیں ہوتا؟
چونکہ ضمیر ﴿ـتُ﴾ ساکن ﴿ت﴾ سے شروع ہوتا ہے، دو ساکن حروف کے اجتماع سے بچنے کے لیے ادغام ٹوٹ جاتا ہے۔
11درج ذیل میں سے کس صیغے میں فعل مضاعف کا ادغام قائم رہے گا؟
﴿ہُمْ مَدُّوا﴾ میں واو الجماعۃ متحرک حرف سے شروع ہوتا ہے، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے، جبکہ باقی مثالوں میں ساکن ضمیر ادغام توڑ دیتا ہے۔
12﴿يَمُدُّ﴾ کا مجزوم صیغہ کیا بنے گا؟
جزم میں آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، اس لیے دو ساکن حروف سے بچنے کے لیے ادغام ٹوٹ کر ﴿لَمْ يَمْدُدْ﴾ بنتا ہے۔
13نہی کی صورت میں ﴿مَدَّ﴾ سے کیا صیغہ بنے گا؟
نہی میں فعل مجزوم ہوتا ہے، اس لیے آخری حرف ساکن ہونے کی وجہ سے ادغام ٹوٹ کر ﴿لَا تَمْدُدْ﴾ بنتا ہے۔
14امر مثبت ﴿مُدَّ﴾ میں ادغام کیوں قائم رہتا ہے؟
امر مثبت میں آخری حرف پر حرکت (فتحہ) ہوتی ہے، اس لیے دو ساکن حروف کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور ادغام برقرار رہتا ہے۔
15فعلِ صحیح کی کتنی ذیلی اقسام بیان کی گئی ہیں؟
فعل صحیح کی تین ذیلی اقسام ہیں: سالم، مضاعف اور مہموز۔
16درج ذیل میں سے کون سا فعل مضاعف ہے؟
﴿شَدَّ﴾ کی جڑ ﴿ش-د-د﴾ ہے جہاں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہے، اس لیے یہ فعل مضاعف ہے۔
17فعل صحیح اور فعل مضاعف کی بنیادی مشترک بات کیا ہے؟
مضاعف دراصل فعل صحیح ہی کی ایک ذیلی قسم ہے، اور دونوں کے حروفِ اصلیہ حرفِ علت و ہمزہ سے خالی ہوتے ہیں، فرق صرف دوسرے تیسرے حرف کے یکساں یا مختلف ہونے کا ہے۔
سبق 11۔ فعل مثال اور فعل اجوف کی اقسام و گردان
1الفعل المعتل کی تعریف کیا ہے؟
فعل معتل وہ ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے کوئی ایک حرفِ علت (و، ي، ا) ہو۔
2فعل معتل کی کتنی بنیادی اقسام بیان کی گئی ہیں؟
تین بنیادی اقسام ہیں: مثال، اجوف اور ناقص، جو حرفِ علت کے مقام کے مطابق تقسیم کی گئی ہیں۔
3الفعل المثال کی پہچان کیا ہے؟
مثال وہ فعل ہے جس کا پہلا حرفِ اصلی واو یا یاء ہو، جیسے وَعَدَ۔
4﴿وَعَدَ﴾ کی جڑ کیا ہے؟
﴿وَعَدَ﴾ کی جڑ ﴿و-ع-د﴾ ہے، جہاں پہلا حرف واو ہے۔
5﴿وَعَدَ﴾ کا صحیح مضارع کون سا ہے؟
مضارع میں ابتدائی واو گر جاتا ہے، اس لیے صحیح صورت ﴿يَعِدُ﴾ ہے، نہ کہ يَوْعِدُ۔
6مثال واوی کے مضارع میں ابتدائی واو کیوں گر جاتا ہے؟
حرفِ مضارعت کے بعد ساکن واو کا تلفظ بوجھل ہونے کی وجہ سے، فصاحت کے لیے اسے حذف کیا جاتا ہے۔
7﴿وَجَدَ﴾ کا مضارع کیا ہے؟
﴿وَجَدَ﴾ کا مضارع بھی اسی قاعدے کے تحت ﴿يَجِدُ﴾ (وہ پاتا ہے) بنتا ہے۔
8مثال یائی کی کیا خصوصیت بیان کی گئی ہے؟
مثال یائی، جیسے يَسَرَ، عربی میں بہت کم یاب قسم ہے، اس لیے نصاب میں بنیادی توجہ مثال واوی پر دی جاتی ہے۔
9الفعل الأجوف کی پہچان کیا ہے؟
اجوف وہ فعل ہے جس کا درمیانی حرفِ اصلی واو یا یاء ہو، جیسے قَالَ (ق-و-ل)۔
10﴿قَالَ﴾ کی اصل جڑ کیا ہے؟
﴿قَالَ﴾ اصل میں ﴿قَوَلَ﴾ تھا، یعنی جڑ ﴿ق-و-ل﴾ ہے، جو ماضی میں الف کی صورت اختیار کر گئی۔
11﴿بَاعَ﴾ کا صحیح مضارع کیا ہے؟
﴿بَاعَ﴾ کی جڑ ﴿ب-ي-ع﴾ ہے، مضارع میں درمیانی یاء ماقبل کسرہ کے ساتھ مل کر ﴿يَبِيعُ﴾ بنتا ہے۔
12﴿قَالَ﴾ سے ﴿قُلْتُ﴾ بننے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
چونکہ ساکن ضمیر ﴿ـتُ﴾ سے پہلے حرفِ مد نہیں آ سکتا، اس لیے طویل آواز مختصر ضمہ میں بدل جاتی ہے۔
13﴿بَاعَ﴾ سے متکلم کا صیغہ کیا بنتا ہے؟
اصل یاء کی علامت کے طور پر پہلے حرف پر کسرہ آتی ہے، اس لیے ﴿بِعْتُ﴾ (میں نے بیچا) بنتا ہے۔
14﴿لَمْ يَقُلْ﴾ میں فعل کی کیا حالت ہے؟
﴿لَمْ﴾ کے بعد فعل مضارع مجزوم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے حرفِ مد سکڑ کر مختصر حرکت میں بدل جاتا ہے۔
15﴿قَالَ﴾ کا امر کا صیغہ کیا ہے؟
امر میں بھی ساکن حرف کے باعث حرفِ مد سکڑ کر مختصر ضمہ میں بدل جاتا ہے، اس لیے ﴿قُلْ﴾ بنتا ہے۔
16درج ذیل میں سے کون سا فعل اجوف یائی ہے؟
﴿بَاعَ﴾ کی جڑ ﴿ب-ي-ع﴾ ہے جہاں درمیانی حرف یاء ہے، اس لیے یہ اجوف یائی ہے، جبکہ باقی افعال کا درمیانی حرف واو ہے۔
17فعل مثال اور فعل اجوف میں مسئلہ کہاں پیدا ہوتا ہے؟
مثال میں حرفِ علت فعل کے آغاز میں ہونے کی وجہ سے مضارع میں حذف ہوتا ہے، جبکہ اجوف میں حرفِ علت وسط میں ہونے کی وجہ سے طویل و مختصر آواز کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔
سبق 12۔ فعل ناقص، فعل لفیف اور رباعی مجرد و مزید
1الفعل الناقص کی پہچان کیا ہے؟
ناقص وہ فعل ہے جس کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہو، جیسے دَعَا (د-ع-و)۔
2﴿دَعَا﴾ کی جڑ کیا ہے؟
﴿دَعَا﴾ اصل میں ﴿دَعَوَ﴾ تھا، یعنی جڑ ﴿د-ع-و﴾ ہے، آخری واو فتحہ کے بعد الف بن گیا۔
3﴿رَمَى﴾ کا مضارع کیا ہے؟
﴿رَمَى﴾ کی جڑ ﴿ر-م-ي﴾ ہے، اس لیے مضارع ﴿يَرْمِي﴾ (وہ پھینکتا ہے) بنتا ہے۔
4﴿دَعَوْتُ﴾ میں اصل واو کیوں ظاہر ہوا؟
ساکن ضمیر ﴿ـتُ﴾ سے پہلے حرفِ مد (الف) نہیں آ سکتا، اس لیے اصل واو دوبارہ ظاہر ہو کر ساکن حالت میں آتا ہے۔
5﴿يَدْعُو﴾ کا مجزوم صیغہ کیا بنتا ہے؟
جزم کی حالت میں آخری حرفِ علت مکمل حذف ہو جاتا ہے، اس لیے ﴿لَمْ يَدْعُ﴾ بنتا ہے۔
6﴿لَمْ يَرْمِ﴾ میں کیا تبدیلی رونما ہوئی؟
جزم کی وجہ سے آخری حرفِ علت یاء حذف ہو جاتی ہے، اس لیے ﴿لَمْ يَرْمِ﴾ بنتا ہے۔
7الفعل اللفیف کی تعریف کیا ہے؟
لفیف وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔
8﴿وَفَى﴾ کس قسم کا لفیف ہے؟
﴿وَفَى﴾ (و-ف-ي) میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہیں اور درمیان میں صحیح حرف حائل ہے، اس لیے یہ لفیف مفروق ہے۔
9﴿طَوَى﴾ کس قسم کا لفیف ہے؟
﴿طَوَى﴾ (ط-و-ي) میں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں حرفِ علت اور باہم ملے ہوئے ہیں، اس لیے یہ لفیف مقرون ہے۔
10لفیف مفروق کی گردان میں کون کون سے قواعد یکجا ہوتے ہیں؟
چونکہ پہلا حرف حرفِ علت مثال کا اور تیسرا حرف ناقص کا قاعدہ لاتا ہے، اس لیے دونوں قواعد ایک ساتھ لاگو ہوتے ہیں۔
11الرباعی المجرد کا وزن کیا ہے؟
رباعی مجرد کا وزن ﴿فَعْلَلَ﴾ ہے، جو چار حروفِ اصلیہ سے بغیر کسی زائد حرف کے بنتا ہے۔
12﴿دَحْرَجَ﴾ کا مضارع کیا ہے؟
رباعی مجرد کے مضارع کی علامت ابتدائی ﴿يُ﴾ ہے، اس لیے ﴿يُدَحْرِجُ﴾ (وہ لڑھکاتا ہے) بنتا ہے۔
13الرباعی المزید کی پہچان کیا ہے؟
رباعی مزید میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک اضافی حرف، عموماً ت، شامل کیا جاتا ہے۔
14﴿تَدَحْرَجَ﴾ کا معنی کیا ہے اور یہ کس بنیاد پر دَحْرَجَ سے مختلف ہے؟
زائد حرف ﴿ت﴾ فعل میں انعکاسی (مطاوعت کا) معنی شامل کرتا ہے، اس لیے تَدَحْرَجَ کا معنی 'خود لڑھک جانا' ہے۔
15درج ذیل میں سے کون سا فعل ناقص یائی ہے؟
﴿رَمَى﴾ کی جڑ ﴿ر-م-ي﴾ ہے، جہاں آخری حرف یاء ہے، اس لیے یہ ناقص یائی ہے۔
16فعل صحیح اور فعل ناقص میں بنیادی فرق کیا ہے؟
فعل صحیح کے حروفِ اصلیہ حرفِ علت سے پاک ہوتے ہیں، جبکہ ناقص کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہوتا ہے، جو گردان میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
17مثال، اجوف اور ناقص میں حرفِ علت کی جگہ کے اعتبار سے کیا ترتیب ہے؟
مثال میں پہلا حرف، اجوف میں درمیانی حرف اور ناقص میں آخری حرف حرفِ علت ہوتا ہے، یہی بنیادی امتیاز ہے۔
سبق 13۔ الادب العربی: نشأۃ اللغۃ العربیہ اور منتخب نثری اقتباسات
1عربی زبان کس زبانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟
متن میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ عربی قدیم سامی زبانوں میں سے ایک ہے۔
2اقتباس کے مطابق عربی کی 'بہن زبانوں' میں کون سی زبانیں شامل ہیں؟
متن میں عبرانی اور آرامی کو عربی کی ہم خاندان (بہن) زبانیں قرار دیا گیا ہے۔
3لفظ «نَشَأَتْ» کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
«نَشَأَتْ» فعل ماضی مؤنث ہے جس کا معنی ہے 'وہ وجود میں آئی/پیدا ہوئی'۔
4عربی زبان جزیرہ عرب میں کب پروان چڑھی؟
متن کے مطابق یہ زبان ظہورِ اسلام سے بہت پہلے ہی وجود میں آ چکی تھی۔
5اسلام سے پہلے کے عرب اپنی زبان پر کس بنا پر فخر کرتے تھے؟
متن میں بیان ہے کہ عرب لوگ شعر و خطابت میں اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کیا کرتے تھے۔
6لفظ «فَصَاحَة» کا قریب ترین اردو مفہوم کیا ہے؟
فصاحت کا مطلب ہے صاف، رواں اور خوبصورت انداز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت۔
7قرآن کریم کے نزول کے بعد عربی زبان کی حیثیت میں کیا تبدیلی آئی؟
متن کے مطابق قرآن کریم کے نزول سے عربی پوری اسلامی دنیا میں دین اور علم کی زبان بن گئی۔
8متن کے مطابق عربی زبان کے قواعد و ساختیں کیوں محفوظ رہیں؟
متن میں صراحت ہے کہ قرآن کریم نے اس زبان کو تبدیلی اور زوال سے محفوظ رکھا۔
9لفظ «حَفِظَ» کا معنی درج ذیل میں سے کیا ہے؟
«حَفِظَ» کا معنی ہے 'اس نے محفوظ رکھا / یاد رکھا'۔
10متن کے مطابق آج کا طالب علم قدیم عربی نصوص کو کیوں نسبتاً آسانی سے سمجھ سکتا ہے؟
متن کی رو سے استحکام کی وجہ سے پرانے متون آج بھی نسبتاً آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں۔
11«جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» کی ترکیب گرامری اعتبار سے کیا ہے؟
«جَزِيرَة» مضاف اور «الْعَرَبِ» مضاف الیہ ہے، یہ مرکب اضافی ہے۔
12جملہ «نَشَأَتْ هَذِهِ اللُّغَةُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» میں فاعل کیا ہے؟
فعل «نَشَأَتْ» کا فاعل «هَذِهِ اللُّغَةُ» ہے، اسی مناسبت سے فعل مؤنث آیا ہے۔
13«قَبْلَ ظُهُورِ الْإِسْلَامِ» کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
«قَبْلَ» کا معنی 'پہلے' ہے، لہٰذا یہ 'ظہورِ اسلام سے پہلے' کا مفہوم دیتا ہے۔
14درسِ حاضر کے مطابق دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول میں پڑھائے گئے کون سے قاعدے کا اس اقتباس میں عملی استعمال ملتا ہے؟
متن میں اضافت اور حروفِ جر کا عملی استعمال بار بار دیکھا جا سکتا ہے، جو بنیادی کتاب میں پہلے پڑھائے جا چکے ہیں۔
15لفظ «تَغْيِير» کا اردو معنی کیا ہے؟
«تَغْيِير» کا معنی ہے 'تبدیلی'، جیسا کہ متن میں زبان کے تبدیل نہ ہونے کے سیاق میں آیا ہے۔
16«وَالِانْدِثَارِ» کا قریب ترین اردو مفہوم کیا ہے؟
«اِنْدِثَار» کا معنی ہے کسی چیز کا مٹ جانا یا زوال پذیر ہو جانا۔
17اقتباس کا مجموعی مرکزی خیال کیا ہے؟
پورا اقتباس عربی زبان کی نسل، قرآن کریم سے اس کے تعلق اور اس کے قواعد کے استحکام کے گرد گھومتا ہے۔
سبق 14۔ الادب العربی: اخلاقی و علمی مضامین پر مبنی نثری اقتباسات
1اقتباس کے مطابق علم کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے؟
متن میں کہا گیا ہے 'الْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي صَاحِبَهُ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ'۔
2لفظ «يَهْدِي» کا اردو معنی کیا ہے؟
«يَهْدِي» کا معنی ہے 'وہ راہنمائی/رہبری کرتا ہے'۔
3متن کے مطابق انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے، اسے کیسا ہونا چاہیے؟
متن میں بیان ہے کہ علم میں اضافے کے ساتھ تواضع میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
4لفظ «تَوَاضُع» کا مطلب کیا ہے؟
«تَوَاضُع» کا معنی ہے عاجزی یا انکساری۔
5متن کے مطابق حقیقی عالم اپنے علم پر لوگوں کے سامنے کیا نہیں کرتا؟
متن میں کہا گیا ہے 'لَا يَفْتَخِرُ بِعِلْمِهِ عَلَى النَّاسِ'۔
6«مَا عَرَفَهُ قَلِيلٌ بِجَانِبِ مَا جَهِلَهُ» کا مفہوم کیا ہے؟
یہ جملہ بیان کرتا ہے کہ عالم کا حاصل کردہ علم اس کی نادانستہ باتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
7روایت میں مذکور عالم نے اپنے آپ کو کیا کہا؟
عالم نے کہا 'مَا أَنَا إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ لَمْ يَبْلُغْ نِهَايَةَ الطَّرِيقِ'۔
8لفظ «نِهَايَة» کا اردو معنی کیا ہے؟
«نِهَايَة» کا معنی ہے انتہا یا اختتام۔
9اقتباس کے مطابق نفع بخش علم حاصل کرنے کے لیے طالب علم کو کیا کرنا چاہیے؟
متن میں کہا گیا ہے کہ نفع بخش علم کے لیے تواضع اور صبر ضروری ہیں۔
10متن کے مطابق علم کس چیز سے حاصل نہیں ہوتا؟
متن میں کہا گیا ہے 'الْعِلْمُ لَا يُنَالُ بِالتَّكَبُّرِ وَلَا بِالْعَجَلَةِ'۔
11لفظ «التَّكَبُّر» کا مطلب کیا ہے؟
«التَّكَبُّر» کا معنی ہے تکبر یا غرور۔
12«كُلَّمَا» کا گرامری استعمال کیا ظاہر کرتا ہے؟
«كُلَّمَا» شرط کا اسلوب پیدا کرتا ہے جس کا معنی ہے 'جب بھی'۔
13جملہ «ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا» میں «عِلْمًا» کا اعرابی کردار کیا ہے؟
«عِلْمًا» یہاں تمییز کے طور پر منصوب آیا ہے تاکہ اضافے کی نوعیت واضح ہو۔
14«مَا... إِلَّا» کا اسلوب عربی گرامر میں کیا کہلاتا ہے؟
«مَا... إِلَّا» حصر کا اسلوب ہے جو کسی بات کو نفی کے بعد صرف ایک چیز میں محدود کرتا ہے۔
15«فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ» میں «يَتَوَاضَعَ» منصوب کیوں ہے؟
حرفِ ناصبہ «أَنْ» کے بعد فعل مضارع منصوب ہو جاتا ہے۔
16اس اقتباس کا مرکزی سبق کیا ہے؟
پورا اقتباس اسی نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ حقیقی علم تواضع پیدا کرتا ہے۔
17لفظ «رُوِيَ» کا استعمال متن میں کس مقصد کے لیے ہوا ہے؟
«رُوِيَ» کا معنی ہے 'روایت کیا گیا'، جو کسی قول یا واقعے کو نقل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سبق 15۔ قصص النبیین سے منتخب حکایت؛ جامع نظرثانی
1حکایت کے مطابق چرواہا کس صفت کی وجہ سے مشہور تھا؟
متن میں بیان ہے کہ چرواہا صدق اور امانت کی وجہ سے مشہور تھا۔
2اجنبی شخص سے کیا چیز گری؟
متن میں بیان ہے 'فَسَقَطَتْ مِنْهُ كِيسَةٌ فِيهَا دَرَاهِمُ كَثِيرَةٌ'۔
3چرواہے نے تھیلی ملنے کے بعد کیا کیا؟
متن کے مطابق چرواہے نے مالک کا انتظار کیا اور پوری تھیلی واپس کر دی۔
4لفظ «ضَائِع» کا معنی کیا ہے؟
«ضَائِع» کا معنی ہے گمشدہ یا ضائع شدہ۔
5اجنبی شخص نے تھیلی واپس ملنے پر کیا پیشکش کی؟
متن کے مطابق اجنبی نے چرواہے کو انعام دینا چاہا۔
6چرواہے نے انعام قبول کرنے سے انکار کیوں کیا؟
چرواہے نے کہا 'إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً لَا أَطْلُبُ عَلَيْهَا أَجْرًا'۔
7حکایت کے آخر میں گاؤں کے لوگ چرواہے کو کس چیز کی مثال کے طور پر یاد کرنے لگے؟
متن میں بیان ہے کہ لوگ اسے صدق و امانت کی مثال کے طور پر یاد کرتے تھے۔
8یہ حکایت اس سبق میں کس طور پر پیش کی گئی ہے؟
متن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ایک تدریسی و اخلاقی حکایت ہے، مستند تاریخی روایت نہیں۔
9جملہ «كَانَ فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ رَجُلٌ صَالِحٌ» میں «رَجُلٌ» کا گرامری کردار کیا ہے؟
یہاں خبر مقدم (جار مجرور) کے بعد «رَجُلٌ» اسمِ کان مؤخر مرفوع ہے۔
10«رَأَى» کس قسم کا فعل ہے؟
«رَأَى» کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہے، اس لیے یہ فعلِ معتل ناقص ہے۔
11نحو کے خلاصے کے مطابق مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟
قاعدے کے مطابق مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔
12نعت اور منعوت کس چیز میں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں؟
خلاصے کے مطابق نعت اپنے منعوت سے ان چار پہلوؤں میں مطابقت کرتا ہے۔
13جمع مذکر سالم کی علامت کیا ہوتی ہے؟
جمع مذکر سالم کی علامت «ـونَ» یا «ـينَ» ہوتی ہے، جیسے «مُسْلِمُونَ»۔
14تثنیہ کی علامت کیا ہے؟
تثنیہ کی علامت «ـانِ» یا «ـيْنِ» ہوتی ہے، جیسے «كِتَابَانِ»۔
15اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کس زمرے میں آتے ہیں؟
اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول فعل کے مادّے سے بننے والے مشتق اسماء ہیں۔
16فعل مضارع ہمیشہ کن حروف میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے؟
فعل مضارع حروفِ مضارعت أ، ن، ي، ت میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے۔
17فعل نہی کیسے بنایا جاتا ہے؟
فعل نہی، فعل مضارع سے پہلے «لَا» لگا کر اور فعل کو مجزوم کر کے بنایا جاتا ہے، جیسے «لَا تَكْتُبْ»۔
18فعلِ مضعّف کی پہچان کیا ہے؟
فعلِ مضعّف میں دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہوتا ہے، جیسے «مَدَّ»۔
19فعلِ اجوف کی مثال کون سی ہے؟
«قَالَ» کا درمیانی حرفِ اصلی حرفِ علت ہے، اس لیے یہ فعلِ اجوف ہے۔
20فعلِ لفیف کی پہچان کیا ہے؟
فعلِ لفیف میں دو حروفِ علت اکٹھے پائے جاتے ہیں، جیسے «وَفَى»۔
21فعلِ رباعی مجرد کی مثال کون سی دی گئی ہے؟
«دَحْرَجَ» چار اصلی حروف پر مشتمل فعلِ رباعی مجرد کی مثال ہے۔
22مضاف اسم پر عموماً کیا چیز نہیں آتی؟
قاعدے کے مطابق مضاف تنوین اور 'ال' دونوں سے خالی ہوتا ہے۔