أین؟ اور بنیادی ظروف مکان
اگر کسی سے پوچھا جائے کہ کتاب کہاں ہے تو عربی میں سوال کیسے بنے گا، اور 'میز پر'، 'دروازے کے پیچھے' جیسے مقامات کیسے بیان کیے جائیں گے؟
1سوالیہ کلمہ: أَيْنَ؟
پچھلے دو اسباق میں هَذَا، مَا، مَنْ اور هَلْ کے ذریعے چیزوں اور انسانوں کی شناخت اور تصدیق سیکھی گئی۔ اب باری آتی ہے کسی چیز کے مقام کے بارے میں سوال کرنے کی، جس کے لیے سوالیہ کلمہ أَيْنَ (کہاں) استعمال ہوتا ہے۔ یہ کلمہ کسی معرفہ اسم کے ساتھ آتا ہے، کیونکہ عموماً ہم اسی چیز کا مقام پوچھتے ہیں جو پہلے سے معلوم اور متعین ہو، جیسے:
یہاں سوال میں الْكِتَابُ (معرفہ) استعمال ہوا، اور جواب میں مقام بتانے کے لیے ایک ظرف مکان لگایا گیا۔
2ظرف مکان: فِي اور عَلَى
مقام بیان کرنے کے لیے چند بنیادی ظروف مکان اور حروفِ جر استعمال ہوتے ہیں۔ فِي کا مطلب ہے 'میں' یعنی کسی چیز کے اندر ہونا، جیسے
۔ عَلَى کا مطلب ہے 'پر' یعنی کسی چیز کی سطح پر ہونا، جیسے
۔ یہ دونوں حروفِ جر اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتے ہیں، یعنی اس کی آخری حرکت زیر میں بدل جاتی ہے، جیسے الْمَكْتَبِ میں زیر آئی نہ کہ پیش۔
3ظرف مکان: تَحْتَ، أَمَامَ، وَرَاءَ
ان کے علاوہ تَحْتَ اور أَمَامَ بھی بنیادی ظروف مکان ہیں۔ تَحْتَ کا مطلب ہے 'کے نیچے'، جیسے
۔ أَمَامَ کا مطلب ہے 'کے سامنے'، جیسے
۔ اسی سلسلے میں وَرَاءَ (کے پیچھے) کا بھی ذکر ضروری ہے، جیسے
۔ یہ چاروں الفاظ ظرف مکان کہلاتے ہیں کیونکہ یہ کسی چیز کے مقانی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، اور تَحْتَ، أَمَامَ، وَرَاءَ خود اپنے بعد آنے والے مضاف الیہ کو مجرور رکھتے ہیں۔
4جار و مجرور کا ابتدائی تصور
جب کوئی حرف جر (جیسے فِي یا عَلَى) کسی اسم کے ساتھ مل کر آتا ہے تو اس پوری ترکیب کو جار و مجرور کہا جاتا ہے۔ جار وہ حرف ہے جو اسم کو جر دیتا ہے یعنی اس کی حالت بدلتا ہے، اور مجرور وہ اسم ہے جس پر یہ اثر پڑتا ہے۔ جار و مجرور کی ترکیب اکثر جملے میں خبر کا کام دیتی ہے، جیسے
میں عَلَى الْمَكْتَبِ پوری ترکیب مل کر خبر بنتی ہے۔ یہ تصور آئندہ اسباق میں اضافت اور اعراب کی مزید تفصیلات سمجھنے میں مدد دے گا۔
5فعل ماضی: حاضر و متکلم کے صیغے
اسی سبق میں فعل ماضی کی گردان مکمل کی جاتی ہے۔ پہلے دو اسباق میں صرف غائب کے صیغے (هُوَ، هِيَ، هُمَا، هُمْ وغیرہ) سکھائے گئے تھے، اب مخاطب اور متکلم کے صیغے شامل کیے جاتے ہیں۔ مذکر مخاطب کے لیے أَنْتَ كَتَبْتَ (تُو نے لکھا)، مؤنث مخاطب کے لیے أَنْتِ كَتَبْتِ (تُو نے لکھا، مؤنث)، متکلم واحد کے لیے أَنَا كَتَبْتُ (میں نے لکھا)، اور متکلم جمع کے لیے نَحْنُ كَتَبْنَا (ہم نے لکھا) استعمال ہوتا ہے۔ غور کریں کہ یہ تمام صیغے ماضی کے مادّے كَتَبَ کے ساتھ ضمیر متصل (تَ، تِ، تُ، نَا) لگا کر بنائے جاتے ہیں، جبکہ غائب کے صیغوں میں یہ ضمائر مختلف تھے۔
6كَتَبَ کے مکمل چودہ صیغے
چونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ فعل ماضی کے تمام چودہ صیغے مکمل ہو رہے ہیں، اس لیے ان سب کو ایک ساتھ ترتیب سے یاد رکھنا ضروری ہے: غائب میں هُوَ كَتَبَ، هِيَ كَتَبَتْ، هُمَا (مذکر) كَتَبَا، هُمَا (مؤنث) كَتَبَتَا، هُمْ كَتَبُوا، هُنَّ كَتَبْنَ؛ حاضر میں أَنْتَ كَتَبْتَ، أَنْتِ كَتَبْتِ، أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (دونوں صورتوں میں یکساں)، أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ، أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ؛ اور متکلم میں أَنَا كَتَبْتُ، نَحْنُ كَتَبْنَا۔ اس مکمل جدول کو بار بار زبانی دہرانا اگلے اسباق کی بنیاد بنے گا، خصوصاً جب فعل مضارع کی گردان سیکھی جائے گی۔
7خلاصہ
خلاصہ یہ ہے کہ اس سبق میں أَيْنَ سے مقام دریافت کرنا، فِي، عَلَى، تَحْتَ، أَمَامَ اور وَرَاءَ جیسے ظروف مکان کا استعمال، جار و مجرور کا ابتدائی تصور، اور فعل ماضی کی مکمل چودہ صیغوں والی گردان سیکھی گئی۔ یہ تمام مباحث مل کر طالب علم کو مکمل اور بامعنی عربی جملے بنانے کے قابل بناتے ہیں۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 4 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
أَيْنَ سوالیہ کلمہ ہے جو کسی چیز یا شخص کے مقام کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے
۔ عموماً اس کے بعد معرفہ اسم آتا ہے، یعنی ال تعریف والا اسم، کیونکہ سوال اسی چیز کے بارے میں ہوتا ہے جو پہلے سے معلوم یا متعین ہو۔ جواب میں مناسب ظرف مکان یا حرف جر استعمال کر کے مقام بتایا جاتا ہے، جیسے
۔
فِي کا مطلب ہے 'میں' یعنی کسی چیز کے اندر ہونا، جیسے
۔ جبکہ عَلَى کا مطلب ہے 'پر' یعنی کسی چیز کی سطح پر ہونا، جیسے
۔ دونوں حروفِ جر ہیں اور اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کر دیتے ہیں، یعنی اس کی آخری حرکت زیر میں بدل جاتی ہے، جیسے الْبَيْتِ اور الْمَكْتَبِ میں۔
تَحْتَ کا مطلب ہے 'کے نیچے'، جیسے
۔ أَمَامَ کا مطلب ہے 'کے سامنے'، جیسے
۔ وَرَاءَ کا مطلب ہے 'کے پیچھے'، جیسے
۔ یہ تینوں ظروف مکان اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور رکھتے ہیں۔
جب کوئی حرف جر، جیسے فِي یا عَلَى، کسی اسم کے ساتھ مل کر آتا ہے تو اس مجموعی ترکیب کو جار و مجرور کہا جاتا ہے۔ جار وہ حرف ہے جو اسم کی حالت بدل کر اسے مجرور بناتا ہے، یعنی اس پر زیر لگ جاتی ہے، اور مجرور وہ اسم ہے جس پر یہ اثر پڑتا ہے۔ جار و مجرور اکثر جملے میں خبر کا کردار ادا کرتا ہے، جیسے
میں عَلَى الْمَكْتَبِ پوری ترکیب خبر ہے۔
فعل ماضی کے مخاطب صیغے فعل کے مادّے کے ساتھ ضمیر متصل لگا کر بنائے جاتے ہیں۔ مذکر مخاطب کے لیے كَتَبَ کے ساتھ تَ لگا کر
بنتا ہے، اور مؤنث مخاطب کے لیے تِ لگا کر
بنتا ہے۔ ان دونوں صیغوں میں فرق صرف آخری حرکت کا ہے، تَ مذکر کے لیے اور تِ مؤنث کے لیے، اور یہ فرق زبان اور تلفظ میں نہایت اہم ہے۔
متکلم واحد یعنی اپنی ذات کے لیے أَنَا کے ساتھ
استعمال ہوتا ہے، جس میں فعل کے آخر میں تُ لگتا ہے۔ متکلم جمع یعنی 'ہم' کے لیے نَحْنُ کے ساتھ
استعمال ہوتا ہے، جس میں آخر میں نَا لگتا ہے۔ یہ دونوں صیغے متکلم کے زمرے میں آتے ہیں اور ماضی کی گردان کے آخری دو صیغے ہیں۔
فعل ماضی کے چودہ صیغے تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں: پہلا گروہ غائب کا ہے جس میں هُوَ، هِيَ، هُمَا (مذکر و مؤنث)، هُمْ، هُنَّ شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جن کا ذکر تیسرے شخص کے طور پر ہو رہا ہو۔ دوسرا گروہ حاضر یا مخاطب کا ہے جس میں أَنْتَ، أَنْتِ، أَنْتُمَا، أَنْتُمْ، أَنْتُنَّ شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جن سے براہ راست بات کی جا رہی ہو۔ تیسرا گروہ متکلم کا ہے جس میں أَنَا اور نَحْنُ شامل ہیں، یعنی خود بولنے والا۔
غائب: هُوَ كَتَبَ، هِيَ كَتَبَتْ، هُمَا (مذکر) كَتَبَا، هُمَا (مؤنث) كَتَبَتَا، هُمْ كَتَبُوا، هُنَّ كَتَبْنَ۔ حاضر: أَنْتَ كَتَبْتَ، أَنْتِ كَتَبْتِ، أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا، أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ، أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ۔ متکلم: أَنَا كَتَبْتُ، نَحْنُ كَتَبْنَا۔ ان چودہ صیغوں کو ترتیب سے یاد رکھنا آئندہ اسباق میں فعل مضارع کی گردان سمجھنے کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
کا ترجمہ ہے 'کتاب میز پر ہے'، جس میں عَلَى الْمَكْتَبِ جار و مجرور کی ترکیب ہے جو ظرف مکان کا کردار ادا کر رہی ہے۔
کا ترجمہ ہے 'تُو نے لکھا'، جس میں فعل ماضی کا مخاطب مذکر صیغہ استعمال ہوا ہے۔ یہ دونوں جملے اس سبق کے دو بنیادی موضوعات یعنی ظروف مکان اور فعل ماضی کی مکمل گردان کی عملی مثالیں ہیں۔