ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر و نہی
کسی کو کوئی کام کرنے کا حکم دینا ہو، یا کسی کام سے روکنا ہو، تو عربی میں فعل مضارع کی صورت کس طرح بدلی جاتی ہے؟
1تمہید
اس سبق میں ہم ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر اور فعل نہی کا مطالعہ کریں گے، جو دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق نو اور دس پر مبنی ہیں اور فعل مضارع کی سابقہ گردان پر بنیاد رکھتے ہیں۔
2ضمائر مخاطب کا تعارف
ضمائر مخاطب وہ ضمائر ہیں جن سے سامنے موجود شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ مذکر واحد کے لیے أنتَ (تُو، آپ)، مؤنث واحد کے لیے أنتِ، دونوں جنسوں کے تثنیہ کے لیے أنتما، مذکر جمع کے لیے أنتم، اور مؤنث جمع کے لیے أنتن استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر
اور
ان ضمائر کے سادہ استعمال کی مثالیں ہیں۔
3ضمائر متکلم — أنا، نحن
ضمائر متکلم میں أنا (میں) واحد کے لیے اور نحن (ہم) جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ دونوں جنسوں کے لیے مشترک ہیں، یعنی ایک مرد اور ایک عورت دونوں اپنے لیے أنا ہی کہیں گے۔ مثلاً
اور
درست جملے ہیں، اور اگر بولنے والی لڑکی ہو تو کہا جائے گا
۔ ان تمام ضمائر کی مدد سے اب مکمل گفتگو، سوال و جواب اور خط و کتابت کے جملے آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں، اور طالب علم پچھلے اسباق کے تمام ضمائر (غائب، مخاطب، متکلم) کو یکجا کر کے استعمال کرنا سیکھ لیتا ہے۔
4فعل امر کی تشکیل کا قاعدہ
اب فعل امر کی طرف آتے ہیں، جو کسی کام کے کرنے کا حکم دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فعل امر، فعل مضارع مجزوم سے بنتا ہے: پہلے حرفِ مضارعت (ت) کو گرا دیا جاتا ہے، اور اگر باقی ماندہ فعل کا پہلا حرف ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزہ وصل لگا دی جاتی ہے۔ مثلاً
سے ت گرانے پر كْتُبْ باقی رہتا ہے، اور چونکہ ک ساکن ہے، اس لیے شروع میں ہمزہ وصل لگا کر
بنایا جاتا ہے۔
5فعل امر کی مکمل گردان
اب فعل امر کی مکمل گردان ملاحظہ کریں: أنتَ کے لیے
، أنتما کے لیے
، اور أنتم کے لیے
۔ مؤنث کے لیے: أنتِ کے لیے
، أنتما کے لیے
، اور أنتن کے لیے
۔ فعل امر صرف مخاطب کے صیغوں میں آتا ہے، کیونکہ حکم ہمیشہ سامنے والے شخص کو دیا جاتا ہے۔
6فعل نہی — لا الناہیہ
اس کے بعد فعل نہی آتا ہے، جو کسی کام سے روکنے یا منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نہی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ حرفِ نہی لا (لا الناہیہ) کو فعل مضارع مجزوم کے شروع میں لگا دیا جاتا ہے، اور اس صورت میں حروفِ مضارعت کو نہیں گرایا جاتا، بلکہ فعل مضارع اپنی اصل شکل میں رہتا ہے، صرف اس کی آخری حرکت جزم میں بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر أنتَ کے لیے
، أنتما کے لیے
، أنتم کے لیے
، أنتِ کے لیے
، اور أنتن کے لیے
استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح فعل نہی کا اطلاق بھی مخاطب کے تمام پانچ صیغوں پر ہو سکتا ہے، اور اس کی ساخت امر کی نسبت آسان ہے کیونکہ اس میں حرفِ مضارعت گرانے یا ہمزہ وصل لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
7امر و نہی میں جزم کا کردار
امر اور نہی دونوں کا آخری تعلق جزم سے ہے۔ نہی میں فعل مضارع کی آخری علامت واضح طور پر سکون (جزم) کی صورت میں نظر آتی ہے، جیسے
میں ب پر سکون ہے۔ فعل امر میں بھی یہی جزم کی حالت اصل بنیاد ہے، اگرچہ حرفِ مضارعت گرا دینے کی وجہ سے یہ بات براہِ راست نظر نہیں آتی۔ اسی وجہ سے علماء نحو فعل امر کو مضارع مجزوم سے ماخوذ سمجھتے ہیں، اور یوں رفع، نصب اور جزم کی تینوں علامتیں امر و نہی کے مباحث میں عملی طور پر مکمل ہو جاتی ہیں۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 9 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 10 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
ضمائر مخاطب پانچ ہیں: أنتَ سامنے موجود مذکر واحد کے لیے، أنتِ مؤنث واحد کے لیے، أنتما دونوں جنسوں کے تثنیہ کے لیے، أنتم مذکر جمع کے لیے، اور أنتن مؤنث جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر
کا مطلب ہے تُو ایک طالب علم ہے، اور
کا مطلب ہے تُو ایک طالبہ ہے۔ ان ضمائر کا صحیح انتخاب مخاطب کی جنس اور تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔
أنا متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی خود بات کرنے والا شخص، اور اس کا معنی میں ہے۔ نحن متکلم جمع کے لیے آتا ہے اور اس کا معنی ہم ہے، جو دو یا زیادہ افراد کی طرف سے بات ہونے پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دونوں ضمائر مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے مشترک ہیں، اس لیے ان کی صورت جنس کے مطابق تبدیل نہیں ہوتی۔
فعل امر وہ فعل ہے جو کسی کام کے کرنے کا حکم دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اصل میں فعل مضارع مجزوم سے ماخوذ ہوتا ہے، یعنی مضارع کی مخاطب والی شکل سے حرفِ مضارعت گرا کر اور ضرورت پڑنے پر ہمزہ وصل لگا کر بنایا جاتا ہے۔ چونکہ اس کی بنیاد مضارع مجزوم ہے، اس لیے اس میں جزم کا اثر پوشیدہ طور پر موجود رہتا ہے۔
سب سے پہلے فعل مضارع
سے حرفِ مضارعت ت کو گرایا گیا، جس سے كْتُبْ باقی بچا۔ چونکہ اس کا پہلا حرف ک ساکن رہ گیا تھا اور عربی میں کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہو سکتا، اس لیے شروع میں ایک اضافی ہمزہ وصل لگا دی گئی۔ اس طرح مکمل فعل امر
بن گیا، جس کا معنی ہے لکھو۔
مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ
، أنتما کے ساتھ
، اور أنتم کے ساتھ
۔ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ
، أنتما کے ساتھ
، اور أنتن کے ساتھ
۔ اس طرح فعل امر کے کل پانچ الگ الگ صیغے ہیں جو صرف مخاطب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
فعل نہی وہ فعل ہے جو کسی کام سے روکنے یا منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے بنانے کے لیے حرفِ نہی لا، جسے لا الناہیہ کہا جاتا ہے، فعل مضارع مجزوم کے شروع میں لگایا جاتا ہے، اور امر کے برخلاف اس میں حرفِ مضارعت کو گرایا نہیں جاتا۔ مثال کے طور پر
کا معنی ہے مت لکھو۔
مذکر جمع مخاطب (أنتم) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تم سب مت لکھو۔
مؤنث واحد مخاطب (أنتِ) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تُو مت لکھ۔ دونوں جملوں میں لا الناہیہ کے بعد فعل مضارع مجزوم آیا ہے، مگر صیغہ مخاطب کی جنس اور تعداد کے مطابق مختلف ہے۔
امر اور نہی دونوں کی بنیاد فعل مضارع مجزوم پر ہے، یعنی دونوں میں فعل کی آخری حرکت سکون (جزم) ہوتی ہے۔ نہی میں یہ سکون واضح طور پر نظر آتا ہے، جیسے
میں، جبکہ امر میں چونکہ حرفِ مضارعت گرا دیا جاتا ہے، اس لیے جزم کا اثر بالواسطہ طور پر موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کو مضارع مجزوم سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔
فعل امر کا مقصد کسی کو حکم دینا ہوتا ہے، اور حکم ہمیشہ سامنے موجود شخص کو دیا جاتا ہے، اس لیے فعل امر صرف دوسرے شخص یعنی مخاطب کے پانچ صیغوں (أنتَ، أنتِ، أنتما، أنتم، أنتن) میں پایا جاتا ہے۔ غائب یا متکلم کے لیے براہ راست امر نہیں بنایا جاتا، بلکہ ان کے لیے دوسری ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں جو آئندہ اسباق میں پڑھائی جائیں گی۔