ہوماسباق ‹ سبق 6
سبق 6 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 9-10

ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر و نہی

کسی کو کوئی کام کرنے کا حکم دینا ہو، یا کسی کام سے روکنا ہو، تو عربی میں فعل مضارع کی صورت کس طرح بدلی جاتی ہے؟

1تمہید

اس سبق میں ہم ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر اور فعل نہی کا مطالعہ کریں گے، جو دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق نو اور دس پر مبنی ہیں اور فعل مضارع کی سابقہ گردان پر بنیاد رکھتے ہیں۔

2ضمائر مخاطب کا تعارف

ضمائر مخاطب وہ ضمائر ہیں جن سے سامنے موجود شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ مذکر واحد کے لیے أنتَ (تُو، آپ)، مؤنث واحد کے لیے أنتِ، دونوں جنسوں کے تثنیہ کے لیے أنتما، مذکر جمع کے لیے أنتم، اور مؤنث جمع کے لیے أنتن استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿أَنْتَ طَالِبٌتُو ایک طالب علم ہے

اور

﴿أَنْتِ طَالِبَةٌتُو ایک طالبہ ہے

ان ضمائر کے سادہ استعمال کی مثالیں ہیں۔

3ضمائر متکلم — أنا، نحن

ضمائر متکلم میں أنا (میں) واحد کے لیے اور نحن (ہم) جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ دونوں جنسوں کے لیے مشترک ہیں، یعنی ایک مرد اور ایک عورت دونوں اپنے لیے أنا ہی کہیں گے۔ مثلاً

﴿أَنَا طَالِبٌمیں ایک طالب علم ہوں

اور

﴿نَحْنُ طُلَّابٌہم طالب علم ہیں

درست جملے ہیں، اور اگر بولنے والی لڑکی ہو تو کہا جائے گا

﴿أَنَا طَالِبَةٌمیں ایک طالبہ ہوں

۔ ان تمام ضمائر کی مدد سے اب مکمل گفتگو، سوال و جواب اور خط و کتابت کے جملے آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں، اور طالب علم پچھلے اسباق کے تمام ضمائر (غائب، مخاطب، متکلم) کو یکجا کر کے استعمال کرنا سیکھ لیتا ہے۔

4فعل امر کی تشکیل کا قاعدہ

اب فعل امر کی طرف آتے ہیں، جو کسی کام کے کرنے کا حکم دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فعل امر، فعل مضارع مجزوم سے بنتا ہے: پہلے حرفِ مضارعت (ت) کو گرا دیا جاتا ہے، اور اگر باقی ماندہ فعل کا پہلا حرف ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزہ وصل لگا دی جاتی ہے۔ مثلاً

﴿تَكْتُبُ

سے ت گرانے پر كْتُبْ باقی رہتا ہے، اور چونکہ ک ساکن ہے، اس لیے شروع میں ہمزہ وصل لگا کر

﴿اُكْتُبْلکھو

بنایا جاتا ہے۔

5فعل امر کی مکمل گردان

اب فعل امر کی مکمل گردان ملاحظہ کریں: أنتَ کے لیے

﴿اُكْتُبْتم لکھو

، أنتما کے لیے

﴿اُكْتُبَاتم دونوں لکھو

، اور أنتم کے لیے

﴿اُكْتُبُواتم سب لکھو

۔ مؤنث کے لیے: أنتِ کے لیے

﴿اُكْتُبِيتُو لکھ

، أنتما کے لیے

﴿اُكْتُبَاوہی صیغہ دونوں جنسوں کے لیے مشترک ہے

، اور أنتن کے لیے

﴿اُكْتُبْنَتم سب لکھو

۔ فعل امر صرف مخاطب کے صیغوں میں آتا ہے، کیونکہ حکم ہمیشہ سامنے والے شخص کو دیا جاتا ہے۔

6فعل نہی — لا الناہیہ

اس کے بعد فعل نہی آتا ہے، جو کسی کام سے روکنے یا منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نہی بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ حرفِ نہی لا (لا الناہیہ) کو فعل مضارع مجزوم کے شروع میں لگا دیا جاتا ہے، اور اس صورت میں حروفِ مضارعت کو نہیں گرایا جاتا، بلکہ فعل مضارع اپنی اصل شکل میں رہتا ہے، صرف اس کی آخری حرکت جزم میں بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر أنتَ کے لیے

﴿لَا تَكْتُبْمت لکھو

، أنتما کے لیے

﴿لَا تَكْتُبَاتم دونوں مت لکھو

، أنتم کے لیے

﴿لَا تَكْتُبُواتم سب مت لکھو

، أنتِ کے لیے

﴿لَا تَكْتُبِيتُو مت لکھ

، اور أنتن کے لیے

﴿لَا تَكْتُبْنَتم سب مت لکھو

استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح فعل نہی کا اطلاق بھی مخاطب کے تمام پانچ صیغوں پر ہو سکتا ہے، اور اس کی ساخت امر کی نسبت آسان ہے کیونکہ اس میں حرفِ مضارعت گرانے یا ہمزہ وصل لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

7امر و نہی میں جزم کا کردار

امر اور نہی دونوں کا آخری تعلق جزم سے ہے۔ نہی میں فعل مضارع کی آخری علامت واضح طور پر سکون (جزم) کی صورت میں نظر آتی ہے، جیسے

﴿لَا تَكْتُبْ

میں ب پر سکون ہے۔ فعل امر میں بھی یہی جزم کی حالت اصل بنیاد ہے، اگرچہ حرفِ مضارعت گرا دینے کی وجہ سے یہ بات براہِ راست نظر نہیں آتی۔ اسی وجہ سے علماء نحو فعل امر کو مضارع مجزوم سے ماخوذ سمجھتے ہیں، اور یوں رفع، نصب اور جزم کی تینوں علامتیں امر و نہی کے مباحث میں عملی طور پر مکمل ہو جاتی ہیں۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 9 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
  2. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 10 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
أَنْتَتُو (مذکر)
أَنْتِتُو (مؤنث)
أَنْتُمَاتم دونوں
أَنْتُمْتم سب (مذکر)
أَنْتُنَّتم سب (مؤنث)
أَنَامیں
نَحْنُہم
اُكْتُبْتم لکھو (امر)
لَا تَكْتُبْمت لکھو (نہی)
هَمْزَةُ الْوَصْلِہمزہ وصل
فِعْلُ الْأَمْرِفعل امر (حکم)
لَا النَّاهِيَةُنہی کرنے والا حرفِ لا
طَالِبَةٌطالبہ (لڑکی طالب علم)
طُلَّابٌطالب علم (جمع)

ضمائر مخاطب پانچ ہیں: أنتَ سامنے موجود مذکر واحد کے لیے، أنتِ مؤنث واحد کے لیے، أنتما دونوں جنسوں کے تثنیہ کے لیے، أنتم مذکر جمع کے لیے، اور أنتن مؤنث جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿أَنْتَ طَالِبٌ

کا مطلب ہے تُو ایک طالب علم ہے، اور

﴿أَنْتِ طَالِبَةٌ

کا مطلب ہے تُو ایک طالبہ ہے۔ ان ضمائر کا صحیح انتخاب مخاطب کی جنس اور تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔

أنا متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی خود بات کرنے والا شخص، اور اس کا معنی میں ہے۔ نحن متکلم جمع کے لیے آتا ہے اور اس کا معنی ہم ہے، جو دو یا زیادہ افراد کی طرف سے بات ہونے پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دونوں ضمائر مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے مشترک ہیں، اس لیے ان کی صورت جنس کے مطابق تبدیل نہیں ہوتی۔

فعل امر وہ فعل ہے جو کسی کام کے کرنے کا حکم دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اصل میں فعل مضارع مجزوم سے ماخوذ ہوتا ہے، یعنی مضارع کی مخاطب والی شکل سے حرفِ مضارعت گرا کر اور ضرورت پڑنے پر ہمزہ وصل لگا کر بنایا جاتا ہے۔ چونکہ اس کی بنیاد مضارع مجزوم ہے، اس لیے اس میں جزم کا اثر پوشیدہ طور پر موجود رہتا ہے۔

سب سے پہلے فعل مضارع

﴿تَكْتُبُ

سے حرفِ مضارعت ت کو گرایا گیا، جس سے كْتُبْ باقی بچا۔ چونکہ اس کا پہلا حرف ک ساکن رہ گیا تھا اور عربی میں کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہو سکتا، اس لیے شروع میں ایک اضافی ہمزہ وصل لگا دی گئی۔ اس طرح مکمل فعل امر

﴿اُكْتُبْ

بن گیا، جس کا معنی ہے لکھو۔

مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ

﴿اُكْتُبْ

، أنتما کے ساتھ

﴿اُكْتُبَا

، اور أنتم کے ساتھ

﴿اُكْتُبُوا

۔ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ

﴿اُكْتُبِي

، أنتما کے ساتھ

﴿اُكْتُبَاتثنیہ میں دونوں جنسوں کا صیغہ ایک جیسا ہوتا ہے

، اور أنتن کے ساتھ

﴿اُكْتُبْنَ

۔ اس طرح فعل امر کے کل پانچ الگ الگ صیغے ہیں جو صرف مخاطب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

فعل نہی وہ فعل ہے جو کسی کام سے روکنے یا منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے بنانے کے لیے حرفِ نہی لا، جسے لا الناہیہ کہا جاتا ہے، فعل مضارع مجزوم کے شروع میں لگایا جاتا ہے، اور امر کے برخلاف اس میں حرفِ مضارعت کو گرایا نہیں جاتا۔ مثال کے طور پر

﴿لَا تَكْتُبْ

کا معنی ہے مت لکھو۔

﴿لَا تَكْتُبُوا

مذکر جمع مخاطب (أنتم) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تم سب مت لکھو۔

﴿لَا تَكْتُبِي

مؤنث واحد مخاطب (أنتِ) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تُو مت لکھ۔ دونوں جملوں میں لا الناہیہ کے بعد فعل مضارع مجزوم آیا ہے، مگر صیغہ مخاطب کی جنس اور تعداد کے مطابق مختلف ہے۔

امر اور نہی دونوں کی بنیاد فعل مضارع مجزوم پر ہے، یعنی دونوں میں فعل کی آخری حرکت سکون (جزم) ہوتی ہے۔ نہی میں یہ سکون واضح طور پر نظر آتا ہے، جیسے

﴿لَا تَكْتُبْ

میں، جبکہ امر میں چونکہ حرفِ مضارعت گرا دیا جاتا ہے، اس لیے جزم کا اثر بالواسطہ طور پر موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کو مضارع مجزوم سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔

فعل امر کا مقصد کسی کو حکم دینا ہوتا ہے، اور حکم ہمیشہ سامنے موجود شخص کو دیا جاتا ہے، اس لیے فعل امر صرف دوسرے شخص یعنی مخاطب کے پانچ صیغوں (أنتَ، أنتِ، أنتما، أنتم، أنتن) میں پایا جاتا ہے۔ غائب یا متکلم کے لیے براہ راست امر نہیں بنایا جاتا، بلکہ ان کے لیے دوسری ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں جو آئندہ اسباق میں پڑھائی جائیں گی۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1أنتِ کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الفمخاطب مذکر واحد
بمخاطب مؤنث واحد
جمتکلم واحد
دغائب مؤنث واحد
أنتِ سامنے موجود مؤنث واحد کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2﴿أَنَا طَالِبٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
الفتُو طالب علم ہے
بمیں طالب علم ہوں
جہم طالب علم ہیں
دوہ طالب علم ہے
أنا متکلم واحد کا ضمیر ہے، اس لیے ترجمہ میں طالب علم ہوں ہوگا۔
3نحن کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الفمتکلم واحد
بمتکلم جمع
جمخاطب جمع
دغائب جمع
نحن متکلم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی ہم ہے۔
4فعل امر بنیادی طور پر کس فعل سے ماخوذ ہوتا ہے؟
الففعل ماضی
بفعل مضارع مرفوع
جفعل مضارع مجزوم
دفعل مضارع منصوب
فعل امر، مخاطب کے فعل مضارع مجزوم سے حرفِ مضارعت گرا کر بنایا جاتا ہے۔
5﴿تَكْتُبُ﴾ سے فعل امر بنانے کا پہلا قدم کیا ہے؟
الفآخری حرف پر زبر لگانا
بحرفِ مضارعت ت کو گرانا
جشروع میں لا لگانا
ددرمیانی حرف بدلنا
سب سے پہلے حرفِ مضارعت ت کو گرایا جاتا ہے، جس سے كْتُبْ باقی بچتا ہے۔
6ہمزہ وصل کب لگائی جاتی ہے؟
الفجب فعل کا پہلا حرف متحرک ہو
بجب فعل کا پہلا حرف ساکن رہ جائے
جہمیشہ
دکبھی نہیں
اگر حرفِ مضارعت گرانے کے بعد فعل کا پہلا حرف ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزہ وصل لگائی جاتی ہے، جیسے اُكْتُبْ میں۔
7أنتَ کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
الفاُكْتُبِي
باُكْتُبَا
جاُكْتُبْ
داُكْتُبُوا
مخاطب مذکر واحد (أنتَ) کے لیے فعل امر اُكْتُبْ استعمال ہوتا ہے۔
8أنتِ کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
الفاُكْتُبْ
باُكْتُبِي
جاُكْتُبُوا
داُكْتُبْنَ
مخاطب مؤنث واحد (أنتِ) کے لیے فعل امر اُكْتُبِي استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں یاء ہے۔
9أنتم کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
الفاُكْتُبَا
باُكْتُبِي
جاُكْتُبُوا
داُكْتُبْنَ
مخاطب مذکر جمع (أنتم) کے لیے فعل امر اُكْتُبُوا استعمال ہوتا ہے۔
10أنتن کے لیے فعل امر کیا ہوگا؟
الفاُكْتُبُوا
باُكْتُبَا
جاُكْتُبْنَ
داُكْتُبِي
مخاطب مؤنث جمع (أنتن) کے لیے فعل امر اُكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
11فعل نہی بنانے کے لیے کون سا حرف استعمال ہوتا ہے؟
الفما
بلا الناہیہ
جہل
دأین
فعل نہی بنانے کے لیے حرفِ نہی لا، جسے لا الناہیہ کہتے ہیں، فعل مضارع مجزوم سے پہلے لگایا جاتا ہے۔
12﴿لَا تَكْتُبْ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
الفلکھو
بمت لکھو
جلکھتا ہے
دلکھے گا
لا الناہیہ کے ساتھ مضارع مجزوم آنے سے نہی کا معنی مت لکھو بنتا ہے۔
13فعل نہی میں حرفِ مضارعت کا کیا ہوتا ہے؟
الفگرا دیا جاتا ہے
ببرقرار رہتا ہے
جدو بار آتا ہے
دبدل جاتا ہے
امر کے برعکس نہی میں حرفِ مضارعت گرایا نہیں جاتا بلکہ فعل مضارع مجزوم اپنی اصل شکل میں لا کے بعد آتا ہے۔
14أنتن کے لیے فعل نہی کیا ہوگا؟
الفلَا تَكْتُبُوا
بلَا تَكْتُبْنَ
جلَا تَكْتُبِي
دلَا تَكْتُبَانِ
مخاطب مؤنث جمع (أنتن) کے لیے فعل نہی لَا تَكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
15امر اور نہی دونوں کس اعرابی حالت پر مبنی ہیں؟
الفرفع
بنصب
ججزم
دجر
دونوں فعل مضارع مجزوم سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کی بنیاد جزم پر ہے۔
16فعل امر صرف کن صیغوں میں پایا جاتا ہے؟
الفغائب کے صیغوں میں
بمتکلم کے صیغوں میں
جمخاطب کے صیغوں میں
دتمام صیغوں میں
چونکہ حکم ہمیشہ سامنے والے کو دیا جاتا ہے، اس لیے فعل امر صرف مخاطب کے پانچ صیغوں میں پایا جاتا ہے۔
17أنتما کے لیے فعل امر کیا ہوگا (دونوں جنسوں کے لیے مشترک)؟
الفاُكْتُبَانِ
باُكْتُبَا
جاُكْتُبُوا
داُكْتُبْ
مخاطب تثنیہ (أنتما) کے لیے فعل امر اُكْتُبَا استعمال ہوتا ہے، جو مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے یکساں ہے۔