الادب العربی: نشأۃ اللغۃ العربیہ اور منتخب نثری اقتباسات
کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی زبان صدیوں بعد بھی تقریباً ویسی کی ویسی کیوں باقی ہے؟
1تعارف
اس سبق میں ہم عربی ادب اور عربی نثر کے مطالعے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ ذیل میں ایک منتخب عربی نثری اقتباس دیا گیا ہے جو عربی زبان کی تاریخی نشأت، اس کے سامی زبانوں سے تعلق اور قرآن کریم کے ساتھ اس کے گہرے ربط پر روشنی ڈالتا ہے۔ پہلے مکمل عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ ملاحظہ کریں، پھر اس کی گرامری ساخت اور اہم الفاظ پر تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
2اقتباس: پہلا حصہ
3اقتباس: دوسرا حصہ
4گرامری وضاحت
گرامری اعتبار سے یہ اقتباس نہایت سادہ اور واضح جملوں پر مشتمل ہے، جس میں جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ دونوں کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ ابتدائی جملہ «اَللُّغَةُ الْعَرَبِيَّةُ مِنَ اللُّغَاتِ السَّامِيَّةِ» جملہ اسمیہ ہے جس میں مبتدا «اللغة العربية» اور خبر جار مجرور کی صورت میں «من اللغات» ہے۔ اس کے برعکس «نَشَأَتْ هَذِهِ اللُّغَةُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» جملہ فعلیہ ہے جس میں فعل ماضی «نشأت» مؤنث فاعل «هذه اللغة» کے مطابق تانیث کی علامت کے ساتھ آیا ہے۔ متن میں «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» اور «قَوَاعِدُهَا وَأَبْنِيَتُهَا» جیسی مثالوں میں اضافت (مضاف مضاف الیہ) کا استعمال نمایاں ہے، جبکہ حروفِ جر «مِنْ، فِي، قَبْلَ، مُنْذُ، بِخِلَافِ» جملوں کو آپس میں جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔ اسی طرح فعل مضارع «يَسْتَطِيعُ، يَقْرَأَ، يَفْهَمَهَا» زمانۂ حال اور استمرار کا مفہوم دیتے ہیں۔ اِن تمام قواعد کا بنیادی تعارف کتاب دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول میں پہلے ہی پڑھایا جا چکا ہے، اور یہاں انہیں ایک حقیقی نثری متن کے اندر پہچاننے کی مشق کروائی جا رہی ہے۔
5فہمی نکات
اقتباس کا بنیادی مضمون یہ ہے کہ عربی زبان قدیم سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اور اس کی خاص عظمت یہ ہے کہ قرآن کریم اسی زبان میں نازل ہوا۔ چونکہ قرآن کریم کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اس لیے عربی زبان کے بنیادی قواعد و ساختیں بھی صدیوں گزرنے کے باوجود محفوظ رہیں، جبکہ دیگر بہت سی قدیم زبانیں وقت کے ساتھ اس قدر بدل گئیں کہ ان کے پرانے متون کو سمجھنا مشکل ہو گیا۔ طالب علم کو چاہیے کہ نئے الفاظ کو نوٹ کرے، جملوں کی ساخت پر غور کرے اور ترجمے کا موازنہ اصل عربی متن سے کرے، تاکہ عربی عبارت کو بلاواسطہ سمجھنے کی صلاحیت پروان چڑھے۔
مصادر و مراجع
- اس طرز کے منتخب اقتباسات پر مبنی اصل تحریر
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — گرامری اعادہ
اقتباس کے مطابق عربی زبان قدیم سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس خاندان کی دیگر اہم زبانوں میں عبرانی اور آرامی شامل ہیں، جنہیں متن میں عربی کی 'بہن زبانیں' کہا گیا ہے، یعنی یہ زبانیں آپس میں قریبی رشتہ رکھتی ہیں اور ان کی بنیادی ساخت میں کئی مشترکات پائے جاتے ہیں۔ یہ نکتہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عربی کوئی الگ تھلگ زبان نہیں بلکہ ایک وسیع لسانی خاندان کا حصہ ہے، جس کی جڑیں قدیم مشرق وسطیٰ کی تہذیبوں سے جا ملتی ہیں۔ یہی پس منظر عربی گرامر کی بعض خصوصیات، جیسے جڑ الفاظ کا نظام اور صرفی ساخت، کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
متن کے مطابق عربی زبان جزیرہ عرب میں ظہورِ اسلام سے کافی عرصہ پہلے وجود میں آ چکی تھی۔ اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں شعر و خطابت کو نہایت اہمیت دی جاتی تھی، اور لوگ اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کیا کرتے تھے۔ شاعری اور خطابت اس دور میں محض ادبی مشغلہ نہ تھی بلکہ سماجی مرتبے اور قبائلی وقار کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی تھی۔ اسی ماحول نے عربی زبان کو ایک نہایت ترقی یافتہ، وسیع الفاظ اور باریک قواعد رکھنے والی زبان بنا دیا، جو بعد میں قرآن کریم کے نزول کے لیے موزوں ترین ذریعۂ اظہار ثابت ہوئی۔
قرآن کریم کے عربی زبان میں نازل ہونے نے اس زبان کی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔ اقتباس کے مطابق عربی محض ایک قبائلی یا علاقائی زبان نہ رہی بلکہ پوری اسلامی دنیا میں دین اور علم کی زبان بن گئی۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمانوں نے، خواہ ان کی مادری زبان کچھ بھی ہو، عربی سیکھنا ضروری سمجھا تاکہ وہ قرآن کریم اور دینی علوم کو براہِ راست سمجھ سکیں۔ اسی وجہ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی بنیادی کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں، اور عربی نے ایک بین الاقوامی علمی زبان کی حیثیت اختیار کر لی۔
متن کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس زبان کو تبدیلی اور زوال سے محفوظ رکھا۔ چونکہ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ ہے اور مسلمان ہر دور میں اسے بعینہٖ اسی زبان اور اسی متن کے ساتھ پڑھتے، حفظ کرتے اور پڑھاتے رہے، اس لیے عربی کے قواعد اور بنیادی ساختیں بھی صدیوں کے گزرنے سے کوئی خاص تبدیلی محسوس نہ کر سکیں۔ یوں عربی زبان دیگر بہت سی زبانوں کے برعکس ایک مستحکم اور مستقل نظام کی حامل رہی، جس نے علمِ نحو و صرف کو بھی ایک ٹھوس اور محفوظ بنیاد فراہم کی۔
اقتباس کے آخری حصے میں بتایا گیا ہے کہ آج کا طالب علم قدیم عربی نصوص کو نسبتاً آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے، جبکہ بہت سی دوسری زبانوں کے پرانے متون کو سمجھنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ زبانیں زمانوں کے ساتھ بہت زیادہ بدل چکی ہیں۔ اس کا عملی فائدہ یہ ہے کہ ایک طالب علم جو آج بنیادی عربی گرامر سیکھ لے، وہ صدیوں پرانی کتابیں، تفاسیر اور شعری دواوین بھی نسبتاً کم دشواری کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ یہ استحکام عربی زبان کو دیگر زبانوں کے مقابلے میں سیکھنے کے اعتبار سے ایک منفرد اور قیمتی خصوصیت عطا کرتا ہے۔
یہ جملہ فعلیہ ہے، یعنی اس کی ابتدا فعل سے ہوئی ہے۔ فعل «نَشَأَتْ» فعل ماضی مؤنث غائب ہے، اور اس پر تاء تانیث اس لیے آئی ہے کہ اس کا فاعل «هَذِهِ اللُّغَةُ» مؤنث ہے۔ «هَذِهِ اللُّغَةُ» دراصل اسم اشارہ اور اس کے بعد آنے والا اسم مل کر مرکب اشاری بناتے ہیں، اور یہاں یہ فعل کا فاعل مرفوع ہے۔ اس کے بعد «فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» جار مجرور ہے جو فعل سے متعلق ظرفِ مکان کا کام دیتا ہے، جبکہ «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» خود ایک اضافی ترکیب ہے جس میں «جَزِيرَة» مضاف اور «الْعَرَبِ» مضاف الیہ مجرور ہے۔
اقتباس میں کئی حروفِ جر استعمال ہوئے ہیں جن میں «مِنْ، فِي، قَبْلَ، بِـ، مُنْذُ اور بِخِلَافِ» شامل ہیں۔ حروفِ جر کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتے ہیں اور جملے کے دوسرے اجزاء کے ساتھ معنوی ربط پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر «مِنَ اللُّغَاتِ» میں «مِنْ» کسی چیز کے تعلق یا نسبت کو ظاہر کرتا ہے، «فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» میں «فِي» ظرفیت یعنی مکان کے اندر ہونے کا مفہوم دیتا ہے، اور «قَبْلَ ظُهُورِ الْإِسْلَامِ» میں «قَبْلَ» زمانی ترتیب یعنی کسی واقعے سے پہلے ہونے کو بیان کرتا ہے۔ ان حروف کے بغیر جملوں کے اجزاء کا آپس میں معنوی تعلق واضح نہیں ہو سکتا۔
متن میں اضافت کی واضح مثالیں «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» اور «قَوَاعِدُهَا وَأَبْنِيَتُهَا» ہیں۔ «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» میں «جَزِيرَة» مضاف ہے اور «الْعَرَبِ» مضاف الیہ، اور اضافت کی وجہ سے مضاف سے تنوین گر گئی ہے جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔ دوسری مثال «قَوَاعِدُهَا وَأَبْنِيَتُهَا» میں «قَوَاعِدُ» اور «أَبْنِيَةُ» مضاف ہیں جبکہ ضمیر «هَا» جو 'اللغۃ' کی طرف لوٹتی ہے، مضاف الیہ کے طور پر ان سے متصل ہوئی ہے۔ اس قسم کی اضافت کو اضافتِ ضمیری بھی کہا جاتا ہے، جو عربی میں ملکیت یا نسبت ظاہر کرنے کا نہایت عام طریقہ ہے۔
اس اقتباس سے سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ عربی زبان سیکھنا محض ایک لسانی مہارت نہیں بلکہ قرآن کریم اور دینِ اسلام کو براہِ راست سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ چونکہ یہ زبان قرآن کریم کی برکت سے صدیوں سے محفوظ چلی آ رہی ہے، اس لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اسے سنجیدگی اور محنت کے ساتھ سیکھے، تاکہ وہ دینی متون تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کسی زبان کی ترقی میں اس کے بولنے والوں کی فصاحت، ادب سے محبت اور اس کی حفاظت کی کوشش کا بڑا کردار ہوتا ہے، جیسا کہ قدیم عرب اپنی زبان کی حفاظت اور اس کے فروغ میں پیش پیش رہے۔