ہوماسباق ‹ سبق 10
سبق 10 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 15 و مباحثِ صرف

جمع سالم اور ضمائر جمع؛ فعل صحیح و مضاعف

کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی فعل ﴿مَدَّ﴾ اصل میں تین حروف پر مشتمل ہے، اور بعض صیغوں میں وہ تیسرا حرف دوبارہ نمودار ہو جاتا ہے؟

1جمع سالم اور جمع کے ضمائر کا اعادہ

سبق دس میں پہلے اسم کی جمع سالم کا اعادہ کرتے ہیں: جمع مذکر سالم واحد کے آخر میں رفع میں

﴿ون

اور نصب و جر میں

﴿ين

بڑھا کر بنتی ہے، جیسے

﴿مُسْلِمٌ

سے

﴿مُسْلِمُونَ

اور

﴿رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَمیں نے مسلمانوں کو دیکھا

۔ جمع مؤنث سالم واحد کی تاء مربوطہ ہٹا کر

﴿ات

لگانے سے بنتی ہے، جیسے

﴿مُسْلِمَةٌ

سے

﴿مُسْلِمَاتٌ

۔ اسی سلسلے میں جمع کے ضمائر

﴿ہُمْ

اور

﴿ہُنَّ

کا فعل کے ساتھ استعمال بھی مکمل ہوتا ہے:

﴿الطُّلَّابُ کَتَبُوا الدَّرْسَطلبہ نے سبق لکھا

اور

﴿الطَّالِبَاتُ کَتَبْنَ الدَّرْسَطالبات نے سبق لکھا

۔ یہاں بالترتیب

﴿واو الجماعۃ

اور

﴿نون النسوۃ

فعل کے ساتھ جڑ کر فاعل کی علامت بنتے ہیں۔

2اقسام الافعال کا تعارف: صحیح اور معتل

نحو کی تکمیل کے بعد اب صرف کے میدان میں داخل ہوتے ہوئے فعل کی تقسیم، یعنی

﴿أَقْسَامُ الْأَفْعَالِ

کا مطالعہ شروع ہوتا ہے۔ یہ تقسیم فعل کے حروفِ اصلیہ، یعنی جڑ کے تین بنیادی حروف کی نوعیت پر مبنی ہے، نہ کہ سابقے لاحقے یا زائد حروف پر۔ فعل یا تو

﴿صَحِيحٌ

ہوتا ہے یا

﴿مُعْتَلٌّ

۔ اگر حروفِ اصلیہ حرفِ علت (و، ي) یا ہمزہ سے پاک ہوں تو فعلِ صحیح، ورنہ فعلِ معتل کہلاتا ہے۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ حرفِ علت اور ہمزہ فطری طور پر کمزور آوازیں ہیں اور گردان کے دوران حذف، ادغام یا تبدیلی جیسی صوتی تبدیلیوں سے دوچار ہوتی ہیں، جبکہ صحیح حروف اپنی اصل صورت میں ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔

3الفعل الصحیح اور اس کی ذیلی اقسام

﴿الْفِعْلُ الصَّحِيحُ

وہ فعل ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حرفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔ مثالیں:

﴿کَتَبَاس نے لکھا

،

﴿ذَہَبَوہ گیا

،

﴿فَتَحَاس نے کھولا

۔ ان کی گردان میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں آتی، اس لیے یہ فعل کی اصل حالت سمجھی جاتی ہے۔ فعلِ صحیح کی تین ذیلی قسمیں ہیں:

﴿سَالِمٌجیسے کَتَبَ

،

﴿مُضَاعَفٌدوسرا تیسرا حرف یکساں، جیسے مَدَّ

اور

﴿مَہْمُوزٌجس میں ہمزہ حرفِ اصلی ہو، جیسے أَکَلَ

۔ اس سبق میں مضاعف کا خصوصی مطالعہ کریں گے۔

4الفعل المضاعف: تعریف اور مثالیں

﴿الْفِعْلُ الْمُضَاعَفُ

وہ فعل ہے جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہو۔

﴿مَدَّ

کی جڑ

﴿م-د-د

ہے، مضارع

﴿يَمُدُّوہ پھیلاتا ہے

۔

﴿رَدَّ

کی جڑ

﴿ر-د-د

ہے، مضارع

﴿يَرُدُّوہ لوٹاتا ہے

۔ چونکہ دو یکساں حروف متصل آ جاتے ہیں، صوتی سہولت کے اصول کے مطابق انہیں

﴿إِدْغَامٌ

کے ذریعے ایک حرف میں ضم کر کے شدہ لگا دی جاتی ہے، یعنی اصل

﴿مَدَدَ

ادغام کے بعد

﴿مَدَّ

بن جاتا ہے۔

5ادغام کا اصول اور اس کے ٹوٹنے کی شرط

یہ ادغام ہر جگہ برقرار نہیں رہتا، بلکہ فاعل کے ضمیری لاحقے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ جب لاحقہ متحرک حرف سے شروع ہو، جیسے

﴿واو الجماعۃ

یا

﴿ألف الاثنین

، تو دونوں یکساں حروف کے درمیان کوئی ساکن حرف حائل نہیں ہوتا، اس لیے ادغام باقی رہتا ہے۔ لیکن جب لاحقہ ساکن حرف سے شروع ہو، جیسے متکلم

﴿ـتُ

، متکلم جمع

﴿ـنَا

یا مخاطب

﴿ـتَ

، تو چونکہ عربی میں دو ساکن حروف کا اجتماع ممکن نہیں، اس لیے مدغم حروف کو دوبارہ الگ کر کے اصل حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے:

﴿مَدَدْتُمیں نے پھیلایا

،

﴿مَدَدْنَاہم نے پھیلایا

،

﴿مَدَدْتَتو نے پھیلایا

، جہاں دونوں

﴿د

الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں، جبکہ

﴿ہُوَ مَدَّ

،

﴿ہُمَا مَدَّا

اور

﴿ہُمْ مَدُّوا

میں ادغام قائم رہتا ہے کیونکہ ان ضمائر کا آغاز متحرک حرف سے ہوتا ہے۔

6مضارع، امر اور نہی میں ادغام کا اطلاق

مضارع میں بھی یہی اصول ہے:

﴿يَمُدُّ

،

﴿يَمُدَّانِ

اور

﴿يَمُدُّونَ

میں ادغام قائم رہتا ہے، مگر مجزوم ہونے پر آخری حرف ساکن ہو جانے کے باعث

﴿لَمْ يَمْدُدْاس نے نہیں پھیلایا

میں ادغام ٹوٹ جاتا ہے اور دونوں

﴿د

الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح نہی میں

﴿لَا تَمْدُدْتو نہ پھیلا

بنتا ہے، جبکہ امر مثبت

﴿مُدَّتو پھیلا

میں فتحہ کی حرکت موجود ہونے کی وجہ سے ادغام برقرار رہتا ہے۔ اس مکمل قاعدے کو یاد رکھنا فعلِ مضاعف کی درست گردان کے لیے ضروری ہے۔

7خلاصہ: صحیح و مضاعف کا موازنہ

خلاصہ یہ ہے کہ صحیح وہ عام فعل ہے جس میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں آتی، جبکہ مضاعف میں دوسرے تیسرے حرف کے یکساں ہونے کے باعث خاص قاعدہ لاگو ہوتا ہے: متحرک لاحقے پر ادغام قائم اور ساکن لاحقے پر حروف الگ۔ یہی اصول آگے حروفِ علت والے افعال کی گردان سمجھنے کی بنیاد بنے گا۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 15 اور اس سے متعلقہ مباحثِ صرف
  2. میزان الصرف و پنج گنج، مؤلفہ مولانا عبد الستار خان — قواعدِ صرف کی تائید کے لیے
كَتَبَ - يَكْتُبُلکھنا
ذَہَبَ - يَذْہَبُجانا
فَتَحَ - يَفْتَحُکھولنا
أَکَلَ - يَأْكُلُکھانا
مَدَّ - يَمُدُّپھیلانا
رَدَّ - يَرُدُّلوٹانا
شَدَّ - يَشُدُّمضبوط باندھنا
ظَنَّ - يَظُنُّگمان کرنا
حَبَّ - يُحِبُّپسند کرنا (چوتھی بابِ افعال)
إِدْغَامٌدو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک مشدد حرف بنانا
وَاوُ الْجَمَاعَۃِجمع مذکر کی فاعلی ضمیر (و)
نُونُ النِّسْوَۃِجمع مؤنث کی فاعلی ضمیر (ن)

جمع مذکر سالم واحد کے آخر میں حالتِ رفع میں

﴿ون

اور حالتِ نصب و جر میں

﴿ين

کا اضافہ کر کے بنائی جاتی ہے، جیسے

﴿مُسْلِمٌ

سے

﴿مُسْلِمُونَ

اور

﴿الْمُسْلِمِينَ

۔ جمع مؤنث سالم واحد کی تاء مربوطہ ختم کر کے اس کی جگہ

﴿ات

کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے

﴿مُسْلِمَةٌ

سے

﴿مُسْلِمَاتٌ

۔ دونوں قسمیں بے قاعدہ تبدیلی کے بغیر واحد پر مبنی ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں 'سالم' کہا جاتا ہے، یعنی واحد کی بنیادی ساخت محفوظ رہتی ہے اور صرف لاحقہ بڑھایا جاتا ہے۔

﴿ہُمْ

جمع مذکر غائب کا ضمیر ہے اور فعل ماضی کے ساتھ فاعل کی علامت

﴿واو الجماعۃ

کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے

﴿ہُمْ کَتَبُواوہ سب مردوں نے لکھا

۔

﴿ہُنَّ

جمع مؤنث غائب کا ضمیر ہے اور اس کے ساتھ فعل پر

﴿نُونُ النِّسْوَۃِ

لگتی ہے، جیسے

﴿ہُنَّ کَتَبْنَوہ سب عورتوں نے لکھا

۔ دونوں مثالوں میں فعل کے آخر میں لگا ہوا لاحقہ ہی دراصل فاعل کا ضمیر متصل ہوتا ہے، اور

﴿ہُمْ

/

﴿ہُنَّ

صرف تاکید یا وضاحت کے لیے الگ سے لکھے جاتے ہیں۔

یہ تقسیم فعل کے تینوں حروفِ اصلیہ کی نوعیت پر مبنی ہے۔ اگر فعل کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت، یعنی واو یا یاء، اور نہ ہی ہمزہ شامل ہو تو وہ

﴿الفعل الصحیح

کہلاتا ہے، جیسے

﴿کَتَبَ

۔ اگر ان تین حروف میں سے کوئی ایک حرفِ اصلی واو، یاء یا ہمزہ ہو تو وہ

﴿الفعل المعتل

ہوتا ہے، جیسے

﴿وَعَدَ

یا

﴿قَالَ

۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حروفِ علت اپنی فطرت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں اور گردان کے دوران حذف، تبدیلی یا اِدغام جیسی صوتی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں، جبکہ صحیح فعل کی گردان میں کوئی ایسی پیچیدگی پیش نہیں آتی۔

﴿الفعل الصحیح

وہ فعل ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حروفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔ اس کی تین ذیلی اقسام ہیں: پہلی

﴿سالم

، جس میں نہ دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہو اور نہ ہمزہ ہو، جیسے

﴿کَتَبَ

؛ دوسری

﴿مضاعف

، جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی یکساں ہو، جیسے

﴿مَدَّ

؛ تیسری

﴿مہموز

، جس میں کسی بھی مقام پر ہمزہ بطور حرفِ اصلی موجود ہو، جیسے

﴿أَکَلَ

۔ ان تینوں میں سالم کی گردان سب سے سادہ ہوتی ہے جبکہ مضاعف اور مہموز میں خاص صوتی قواعد لاگو ہوتے ہیں۔

﴿الفعل المضاعف

وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دوسرا اور تیسرا حرف ایک ہی جنس کا ہو، یعنی جڑ کے آخری دو حروف باہم مماثل ہوں۔ مثال کے طور پر

﴿مَدَّ

کی اصل جڑ

﴿م-د-د

ہے، جہاں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں

﴿د

ہیں، اور اس کا مضارع

﴿يَمُدُّوہ پھیلاتا ہے

بنتا ہے۔ اسی طرح

﴿رَدَّ

کی جڑ

﴿ر-د-د

ہے اور مضارع

﴿يَرُدُّوہ لوٹاتا ہے

ہے۔ یہ دونوں مثالیں اس قاعدے کی وضاحت کرتی ہیں کہ مضاعف میں دو ایک جیسے حروف کا اجتماع بعد میں ادغام کا سبب بنتا ہے۔

ادغام کا مطلب ہے دو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک مشدد حرف بنا دینا۔ فعل مضاعف میں چونکہ جڑ کا دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہوتا ہے، اس لیے جب یہ دونوں حروف براہِ راست ایک دوسرے سے متصل آتے ہیں تو انہیں ادغام کر کے ایک حرف پر شدہ لگا دی جاتی ہے۔ مثلاً

﴿مَدَدَ

کی اصل بناوٹ ادغام کے بعد

﴿مَدَّ

بن جاتی ہے۔ یہ عمل عربی زبان کی صوتی سہولت کا اصول ہے، کیونکہ متحرک حروف کے درمیان دو یکساں حروف کو الگ الگ ادا کرنا مشکل اور غیرفصیح سمجھا جاتا ہے۔

﴿مَدَّ

میں فعل کے دونوں یکساں حروف کے بعد کوئی ساکن حرف نہیں آتا، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔ لیکن

﴿مَدَدْتُ

میں فاعل کا ضمیر

﴿ـتُ

ساکن

﴿ت

سے شروع ہوتا ہے۔ چونکہ عربی میں دو ساکن حروف کا اکٹھا آنا ممکن نہیں، اس لیے دوسرے مدغم

﴿د

کو حرکت دے کر پہلے

﴿د

سے الگ کرنا پڑتا ہے، تاکہ ساکن ضمیر سے پہلے ایک متحرک حرف موجود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ متکلم اور مخاطب کے صیغوں میں، جہاں ضمیر ساکن سے شروع ہوتا ہے، ادغام ٹوٹ جاتا ہے اور اصل تین حروف

﴿م، د، د

الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔

جب فعل مضاعف کا مضارع مجزوم ہوتا ہے تو اس کا آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، اور چونکہ دو ساکن حروف کا تسلسل ممکن نہیں، اس لیے ادغام ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً

﴿يَمُدُّ

کا مجزوم

﴿لَمْ يَمْدُدْاس نے نہیں پھیلایا

بنتا ہے، جہاں دونوں

﴿د

الگ الگ اور صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح امر کی نہی کی صورت میں

﴿لَا تَمْدُدْتو نہ پھیلا

بنے گا۔ اس کے برعکس عام مضارع مرفوع

﴿يَمُدُّ

اور امر مثبت

﴿مُدَّ

میں چونکہ حرکت موجود ہوتی ہے، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔

فعل صحیح، جیسے

﴿کَتَبَ

، کی گردان میں تمام صیغوں میں تینوں حروفِ اصلیہ ہمیشہ ایک ہی صورت میں اور الگ الگ باقی رہتے ہیں، کوئی صوتی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس فعل مضاعف، جیسے

﴿مَدَّ

، میں دوسرے اور تیسرے حرف کے یکساں ہونے کی وجہ سے بعض صیغوں میں دونوں حروف مدغم ہو کر ایک مشدد حرف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر صیغوں میں، جہاں فاعل کا ضمیر یا جزم کی علامت ساکن ہوتی ہے، وہی دونوں حروف دوبارہ الگ الگ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یوں مضاعف کی گردان ایک اضافی قاعدے کی محتاج ہوتی ہے جو صحیح میں درکار نہیں۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1﴿الطَّالِبَاتُ کَتَبْنَ الدَّرْسَ﴾ میں فعل کے ساتھ لگا لاحقہ کیا کہلاتا ہے؟
الفواو الجماعۃ
بنون النسوۃ
جتاء التانیث
دالف الاثنین
جمع مؤنث غائب کے فاعل کی علامت ﴿نون النسوۃ﴾ ہے، جو یہاں ﴿کَتَبْنَ﴾ میں موجود ہے۔
2جمع مذکر سالم بنانے کے لیے حالتِ نصب و جر میں واحد کے آخر میں کیا اضافہ کیا جاتا ہے؟
الفون
بات
جين
دان
حالتِ نصب و جر میں جمع مذکر سالم ﴿ين﴾ کے اضافے سے بنتی ہے، جبکہ رفع میں ﴿ون﴾ آتا ہے۔
3الفعل الصحیح کی تعریف کیا ہے؟
الفجس کا کوئی حرفِ اصلی حرفِ علت یا ہمزہ نہ ہو
بجس کا آخری حرف واو یا یاء ہو
ججس کا درمیانی حرف حرفِ علت ہو
دجس میں دو حروفِ علت اکٹھے ہوں
فعل صحیح وہ ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حروفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔
4﴿کَتَبَ﴾ فعل صحیح کی کس ذیلی قسم میں آتا ہے؟
الفمضاعف
بمہموز
جسالم
داجوف
﴿کَتَبَ﴾ میں نہ دوسرا تیسرا حرف یکساں ہے نہ ہمزہ ہے، اس لیے یہ فعل سالم ہے۔
5﴿أَکَلَ﴾ فعلِ صحیح کی کس قسم میں شمار ہوتا ہے؟
الفسالم
بمضاعف
جمہموز
دمعتل
﴿أَکَلَ﴾ میں ہمزہ حرفِ اصلی کے طور پر موجود ہے، اس لیے یہ فعل مہموز ہے۔
6الفعل المضاعف کی پہچان کیا ہے؟
الفپہلا حرف حرفِ علت ہو
بدوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی یکساں ہو
جدرمیانی حرف حرفِ علت ہو
دآخری حرف ہمزہ ہو
مضاعف وہ فعل ہے جس کے جڑ کے آخری دو حروف باہم یکساں ہوں، جیسے مَدَّ (م-د-د)۔
7﴿مَدَّ﴾ کی اصل جڑ کیا ہے؟
الفم-د-ا
بم-د-د
جم-و-د
دم-د-ي
﴿مَدَّ﴾ کی جڑ ﴿م-د-د﴾ ہے جہاں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں 'د' ہیں، جو ادغام کے بعد ایک مشدد حرف میں بدل جاتے ہیں۔
8﴿رَدَّ﴾ کا صحیح مضارع کیا ہے؟
الفيَرْدُدُ
بيَرُدُّ
جيَرِدُّ
ديَرَدُّ
﴿رَدَّ﴾ کا مضارع ﴿يَرُدُّ﴾ (وہ لوٹاتا ہے) ہے، جس میں ادغام باقی رہتا ہے۔
9ادغام کا مطلب کیا ہے؟
الفحرفِ علت کا حذف ہونا
بدو یکساں حروف کو مل کر ایک مشدد حرف بنانا
جہمزہ کو الف میں بدلنا
دفعل کے آخری حرف کو ساکن کرنا
ادغام سے مراد دو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک حرف بنا دینا ہے جس پر شدہ لگتی ہے۔
10﴿مَدَدْتُ﴾ میں ادغام کیوں نہیں ہوتا؟
الفکیونکہ ﴿ـتُ﴾ ساکن حرف سے شروع ہوتا ہے
بکیونکہ فعل مہموز ہے
جکیونکہ فعل معتل ہے
دکیونکہ فعل جمع کے لیے ہے
چونکہ ضمیر ﴿ـتُ﴾ ساکن ﴿ت﴾ سے شروع ہوتا ہے، دو ساکن حروف کے اجتماع سے بچنے کے لیے ادغام ٹوٹ جاتا ہے۔
11درج ذیل میں سے کس صیغے میں فعل مضاعف کا ادغام قائم رہے گا؟
الفمَدَدْتَ
بمَدَدْنَا
جہُمْ مَدُّوا
دمَدَدْتُنَّ
﴿ہُمْ مَدُّوا﴾ میں واو الجماعۃ متحرک حرف سے شروع ہوتا ہے، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے، جبکہ باقی مثالوں میں ساکن ضمیر ادغام توڑ دیتا ہے۔
12﴿يَمُدُّ﴾ کا مجزوم صیغہ کیا بنے گا؟
الفلَمْ يَمُدَّ
بلَمْ يَمْدُدْ
جلَمْ يَمُدُّ
دلَمْ يَمُدَّا
جزم میں آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، اس لیے دو ساکن حروف سے بچنے کے لیے ادغام ٹوٹ کر ﴿لَمْ يَمْدُدْ﴾ بنتا ہے۔
13نہی کی صورت میں ﴿مَدَّ﴾ سے کیا صیغہ بنے گا؟
الفلَا تَمُدُّ
بلَا تَمْدُدْ
جلَا تَمُدَّ
دلَا تَمُدَّنَّ
نہی میں فعل مجزوم ہوتا ہے، اس لیے آخری حرف ساکن ہونے کی وجہ سے ادغام ٹوٹ کر ﴿لَا تَمْدُدْ﴾ بنتا ہے۔
14امر مثبت ﴿مُدَّ﴾ میں ادغام کیوں قائم رہتا ہے؟
الفکیونکہ فعل مضارع ہے
بکیونکہ فعل پر حرکت موجود ہے
جکیونکہ فعل مہموز ہے
دکیونکہ فعل جمع کا صیغہ ہے
امر مثبت میں آخری حرف پر حرکت (فتحہ) ہوتی ہے، اس لیے دو ساکن حروف کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور ادغام برقرار رہتا ہے۔
15فعلِ صحیح کی کتنی ذیلی اقسام بیان کی گئی ہیں؟
الفدو
بتین
جچار
دپانچ
فعل صحیح کی تین ذیلی اقسام ہیں: سالم، مضاعف اور مہموز۔
16درج ذیل میں سے کون سا فعل مضاعف ہے؟
الفذَہَبَ
بفَتَحَ
جشَدَّ
دکَتَبَ
﴿شَدَّ﴾ کی جڑ ﴿ش-د-د﴾ ہے جہاں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہے، اس لیے یہ فعل مضاعف ہے۔
17فعل صحیح اور فعل مضاعف کی بنیادی مشترک بات کیا ہے؟
الفدونوں میں حرفِ علت ہوتا ہے
بدونوں کے حروفِ اصلیہ حرفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوتے ہیں
جدونوں مجہول ہوتے ہیں
ددونوں رباعی ہوتے ہیں
مضاعف دراصل فعل صحیح ہی کی ایک ذیلی قسم ہے، اور دونوں کے حروفِ اصلیہ حرفِ علت و ہمزہ سے خالی ہوتے ہیں، فرق صرف دوسرے تیسرے حرف کے یکساں یا مختلف ہونے کا ہے۔