جمع سالم اور ضمائر جمع؛ فعل صحیح و مضاعف
کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی فعل ﴿مَدَّ﴾ اصل میں تین حروف پر مشتمل ہے، اور بعض صیغوں میں وہ تیسرا حرف دوبارہ نمودار ہو جاتا ہے؟
1جمع سالم اور جمع کے ضمائر کا اعادہ
سبق دس میں پہلے اسم کی جمع سالم کا اعادہ کرتے ہیں: جمع مذکر سالم واحد کے آخر میں رفع میں
اور نصب و جر میں
بڑھا کر بنتی ہے، جیسے
سے
اور
۔ جمع مؤنث سالم واحد کی تاء مربوطہ ہٹا کر
لگانے سے بنتی ہے، جیسے
سے
۔ اسی سلسلے میں جمع کے ضمائر
اور
کا فعل کے ساتھ استعمال بھی مکمل ہوتا ہے:
اور
۔ یہاں بالترتیب
اور
فعل کے ساتھ جڑ کر فاعل کی علامت بنتے ہیں۔
2اقسام الافعال کا تعارف: صحیح اور معتل
نحو کی تکمیل کے بعد اب صرف کے میدان میں داخل ہوتے ہوئے فعل کی تقسیم، یعنی
کا مطالعہ شروع ہوتا ہے۔ یہ تقسیم فعل کے حروفِ اصلیہ، یعنی جڑ کے تین بنیادی حروف کی نوعیت پر مبنی ہے، نہ کہ سابقے لاحقے یا زائد حروف پر۔ فعل یا تو
ہوتا ہے یا
۔ اگر حروفِ اصلیہ حرفِ علت (و، ي) یا ہمزہ سے پاک ہوں تو فعلِ صحیح، ورنہ فعلِ معتل کہلاتا ہے۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ حرفِ علت اور ہمزہ فطری طور پر کمزور آوازیں ہیں اور گردان کے دوران حذف، ادغام یا تبدیلی جیسی صوتی تبدیلیوں سے دوچار ہوتی ہیں، جبکہ صحیح حروف اپنی اصل صورت میں ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
3الفعل الصحیح اور اس کی ذیلی اقسام
وہ فعل ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حرفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔ مثالیں:
،
،
۔ ان کی گردان میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں آتی، اس لیے یہ فعل کی اصل حالت سمجھی جاتی ہے۔ فعلِ صحیح کی تین ذیلی قسمیں ہیں:
،
اور
۔ اس سبق میں مضاعف کا خصوصی مطالعہ کریں گے۔
4الفعل المضاعف: تعریف اور مثالیں
وہ فعل ہے جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہو۔
کی جڑ
ہے، مضارع
۔
کی جڑ
ہے، مضارع
۔ چونکہ دو یکساں حروف متصل آ جاتے ہیں، صوتی سہولت کے اصول کے مطابق انہیں
کے ذریعے ایک حرف میں ضم کر کے شدہ لگا دی جاتی ہے، یعنی اصل
ادغام کے بعد
بن جاتا ہے۔
5ادغام کا اصول اور اس کے ٹوٹنے کی شرط
یہ ادغام ہر جگہ برقرار نہیں رہتا، بلکہ فاعل کے ضمیری لاحقے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ جب لاحقہ متحرک حرف سے شروع ہو، جیسے
یا
، تو دونوں یکساں حروف کے درمیان کوئی ساکن حرف حائل نہیں ہوتا، اس لیے ادغام باقی رہتا ہے۔ لیکن جب لاحقہ ساکن حرف سے شروع ہو، جیسے متکلم
، متکلم جمع
یا مخاطب
، تو چونکہ عربی میں دو ساکن حروف کا اجتماع ممکن نہیں، اس لیے مدغم حروف کو دوبارہ الگ کر کے اصل حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے:
،
،
، جہاں دونوں
الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں، جبکہ
،
اور
میں ادغام قائم رہتا ہے کیونکہ ان ضمائر کا آغاز متحرک حرف سے ہوتا ہے۔
6مضارع، امر اور نہی میں ادغام کا اطلاق
مضارع میں بھی یہی اصول ہے:
،
اور
میں ادغام قائم رہتا ہے، مگر مجزوم ہونے پر آخری حرف ساکن ہو جانے کے باعث
میں ادغام ٹوٹ جاتا ہے اور دونوں
الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح نہی میں
بنتا ہے، جبکہ امر مثبت
میں فتحہ کی حرکت موجود ہونے کی وجہ سے ادغام برقرار رہتا ہے۔ اس مکمل قاعدے کو یاد رکھنا فعلِ مضاعف کی درست گردان کے لیے ضروری ہے۔
7خلاصہ: صحیح و مضاعف کا موازنہ
خلاصہ یہ ہے کہ صحیح وہ عام فعل ہے جس میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں آتی، جبکہ مضاعف میں دوسرے تیسرے حرف کے یکساں ہونے کے باعث خاص قاعدہ لاگو ہوتا ہے: متحرک لاحقے پر ادغام قائم اور ساکن لاحقے پر حروف الگ۔ یہی اصول آگے حروفِ علت والے افعال کی گردان سمجھنے کی بنیاد بنے گا۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 15 اور اس سے متعلقہ مباحثِ صرف
- میزان الصرف و پنج گنج، مؤلفہ مولانا عبد الستار خان — قواعدِ صرف کی تائید کے لیے
جمع مذکر سالم واحد کے آخر میں حالتِ رفع میں
اور حالتِ نصب و جر میں
کا اضافہ کر کے بنائی جاتی ہے، جیسے
سے
اور
۔ جمع مؤنث سالم واحد کی تاء مربوطہ ختم کر کے اس کی جگہ
کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے
سے
۔ دونوں قسمیں بے قاعدہ تبدیلی کے بغیر واحد پر مبنی ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں 'سالم' کہا جاتا ہے، یعنی واحد کی بنیادی ساخت محفوظ رہتی ہے اور صرف لاحقہ بڑھایا جاتا ہے۔
جمع مذکر غائب کا ضمیر ہے اور فعل ماضی کے ساتھ فاعل کی علامت
کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے
۔
جمع مؤنث غائب کا ضمیر ہے اور اس کے ساتھ فعل پر
لگتی ہے، جیسے
۔ دونوں مثالوں میں فعل کے آخر میں لگا ہوا لاحقہ ہی دراصل فاعل کا ضمیر متصل ہوتا ہے، اور
/
صرف تاکید یا وضاحت کے لیے الگ سے لکھے جاتے ہیں۔
یہ تقسیم فعل کے تینوں حروفِ اصلیہ کی نوعیت پر مبنی ہے۔ اگر فعل کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت، یعنی واو یا یاء، اور نہ ہی ہمزہ شامل ہو تو وہ
کہلاتا ہے، جیسے
۔ اگر ان تین حروف میں سے کوئی ایک حرفِ اصلی واو، یاء یا ہمزہ ہو تو وہ
ہوتا ہے، جیسے
یا
۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حروفِ علت اپنی فطرت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں اور گردان کے دوران حذف، تبدیلی یا اِدغام جیسی صوتی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں، جبکہ صحیح فعل کی گردان میں کوئی ایسی پیچیدگی پیش نہیں آتی۔
وہ فعل ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حروفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔ اس کی تین ذیلی اقسام ہیں: پہلی
، جس میں نہ دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہو اور نہ ہمزہ ہو، جیسے
؛ دوسری
، جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی یکساں ہو، جیسے
؛ تیسری
، جس میں کسی بھی مقام پر ہمزہ بطور حرفِ اصلی موجود ہو، جیسے
۔ ان تینوں میں سالم کی گردان سب سے سادہ ہوتی ہے جبکہ مضاعف اور مہموز میں خاص صوتی قواعد لاگو ہوتے ہیں۔
وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دوسرا اور تیسرا حرف ایک ہی جنس کا ہو، یعنی جڑ کے آخری دو حروف باہم مماثل ہوں۔ مثال کے طور پر
کی اصل جڑ
ہے، جہاں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں
ہیں، اور اس کا مضارع
بنتا ہے۔ اسی طرح
کی جڑ
ہے اور مضارع
ہے۔ یہ دونوں مثالیں اس قاعدے کی وضاحت کرتی ہیں کہ مضاعف میں دو ایک جیسے حروف کا اجتماع بعد میں ادغام کا سبب بنتا ہے۔
ادغام کا مطلب ہے دو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک مشدد حرف بنا دینا۔ فعل مضاعف میں چونکہ جڑ کا دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہوتا ہے، اس لیے جب یہ دونوں حروف براہِ راست ایک دوسرے سے متصل آتے ہیں تو انہیں ادغام کر کے ایک حرف پر شدہ لگا دی جاتی ہے۔ مثلاً
کی اصل بناوٹ ادغام کے بعد
بن جاتی ہے۔ یہ عمل عربی زبان کی صوتی سہولت کا اصول ہے، کیونکہ متحرک حروف کے درمیان دو یکساں حروف کو الگ الگ ادا کرنا مشکل اور غیرفصیح سمجھا جاتا ہے۔
میں فعل کے دونوں یکساں حروف کے بعد کوئی ساکن حرف نہیں آتا، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔ لیکن
میں فاعل کا ضمیر
ساکن
سے شروع ہوتا ہے۔ چونکہ عربی میں دو ساکن حروف کا اکٹھا آنا ممکن نہیں، اس لیے دوسرے مدغم
کو حرکت دے کر پہلے
سے الگ کرنا پڑتا ہے، تاکہ ساکن ضمیر سے پہلے ایک متحرک حرف موجود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ متکلم اور مخاطب کے صیغوں میں، جہاں ضمیر ساکن سے شروع ہوتا ہے، ادغام ٹوٹ جاتا ہے اور اصل تین حروف
الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔
جب فعل مضاعف کا مضارع مجزوم ہوتا ہے تو اس کا آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، اور چونکہ دو ساکن حروف کا تسلسل ممکن نہیں، اس لیے ادغام ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً
کا مجزوم
بنتا ہے، جہاں دونوں
الگ الگ اور صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح امر کی نہی کی صورت میں
بنے گا۔ اس کے برعکس عام مضارع مرفوع
اور امر مثبت
میں چونکہ حرکت موجود ہوتی ہے، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔
فعل صحیح، جیسے
، کی گردان میں تمام صیغوں میں تینوں حروفِ اصلیہ ہمیشہ ایک ہی صورت میں اور الگ الگ باقی رہتے ہیں، کوئی صوتی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس فعل مضاعف، جیسے
، میں دوسرے اور تیسرے حرف کے یکساں ہونے کی وجہ سے بعض صیغوں میں دونوں حروف مدغم ہو کر ایک مشدد حرف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر صیغوں میں، جہاں فاعل کا ضمیر یا جزم کی علامت ساکن ہوتی ہے، وہی دونوں حروف دوبارہ الگ الگ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یوں مضاعف کی گردان ایک اضافی قاعدے کی محتاج ہوتی ہے جو صحیح میں درکار نہیں۔