من ھذا؟، تنوین اور ال تعریف
جب هَذَا کے ذریعے کسی چیز کی بجائے کسی انسان کی طرف اشارہ کرنا ہو تو سوال کیسے پوچھا جائے، اور کِتَابٌ اور الْكِتَابُ میں کیا فرق ہے؟
1سوالیہ کلمہ: مَنْ؟
پہلے سبق میں غیر ذی روح اشیاء کی شناخت کے لیے سوالیہ کلمہ مَا سیکھا گیا تھا۔ اب جب اشارہ کسی انسان کی طرف ہو تو اس کے لیے الگ سوالیہ کلمہ مَنْ استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے 'یہ کون ہے؟'۔ اس کا استعمال بالکل اسی طرز پر ہے جیسے مَا کا تھا:
یوں مَا اور مَنْ کا استعمال اس بات پر منحصر ہے کہ سوال کسی چیز کے بارے میں ہے یا کسی ذی روح انسان کے بارے میں، اور یہ فرق عربی گرامر میں شروع ہی سے واضح رکھا جاتا ہے۔
2تنوین اور نکرہ کی علامت
اب تک جتنے بھی اسم آئے، جیسے كِتَابٌ، قَلَمٌ یا رَجُلٌ، ان سب کے آخر میں دو زبر، دو زیر یا دو پیش کی علامت لگائی گئی، جسے تنوین کہتے ہیں۔ تنوین دراصل نون ساکن کی وہ آواز ہے جو اسم کے آخر میں بغیر لکھے صرف حرکت کو دوگنا کر کے ادا کی جاتی ہے، اور یہی تنوین اس بات کی علامت ہے کہ اسم نکرہ ہے، یعنی غیر معین یا عام، جس طرح اردو میں 'ایک کتاب' کہا جاتا ہے، کوئی خاص کتاب مراد نہیں۔ چنانچہ
کا مطلب ہے 'ایک کتاب' (کوئی بھی کتاب)۔
3ال تعریف اور اسم معرفہ
اس کے مقابلے میں جب کسی معین اور مخصوص چیز کی بات کرنی ہو تو اسم کے شروع میں ال لگا دیا جاتا ہے، جسے ال تعریف کہتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں بننے والا اسم معرفہ کہلاتا ہے۔ ال لگنے کے بعد اسم کے آخر کی تنوین ختم ہو جاتی ہے اور صرف ایک حرکت رہ جاتی ہے، جیسے:
یوں الْكِتَابُ اور كِتَابٌ ایک ہی لفظ کی دو حالتیں ہیں، مگر معنی میں فرق تعریف و تنکیر کا ہے۔
4نکرہ اور معرفہ میں فرق
نکرہ اور معرفہ کا یہ فرق عربی جملہ سازی کی بنیاد ہے۔ نکرہ کا مطلب ہے کوئی بھی فرد یا چیز، جبکہ معرفہ کا مطلب ہے وہی مخصوص، پہلے سے معلوم یا سامنے موجود چیز۔ مثال کے طور پر اگر ایک آدمی پہلی بار ذکر ہو رہا ہو تو
کہا جائے گا، مگر جب اسی آدمی کا دوبارہ ذکر آئے یا اشارہ کسی خاص و معلوم آدمی کی طرف ہو تو
استعمال ہوگا۔ یہ فرق سمجھنا آگے چل کر مبتدأ اور خبر کے اعرابی اصولوں کے لیے بھی ضروری ہوگا۔
5فعل ماضی کا تعارف
اس سبق میں فعل ماضی کا بھی ابتدائی تعارف کرایا جاتا ہے، یعنی وہ فعل جو کسی گزرے ہوئے کام پر دلالت کرے۔ ماڈل فعل کَتَبَ (اس نے لکھا) کو لے کر پہلے صرف غائب یعنی تیسرے شخص کے صیغے سکھائے جاتے ہیں۔ مذکر غائب کے لیے: هُوَ كَتَبَ (اس نے لکھا)، مؤنث غائب کے لیے: هِيَ كَتَبَتْ (اس نے لکھا، مؤنث)۔ تثنیہ کے لیے: هُمَا كَتَبَا (ان دونوں نے لکھا، مذکر)۔ جمع مذکر غائب کے لیے: هُمْ كَتَبُوا (انہوں نے لکھا)۔
6كَتَبَ کے واحد و جمع غائب صیغے
ان صیغوں کی مثالیں یوں ہیں:
یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ فعل ماضی کے صیغے فاعل کی جنس اور تعداد کے مطابق بدلتے ہیں، اور یہی گردان آئندہ سبق میں مکمل کی جائے گی۔
7خلاصہ
خلاصتاً اس سبق میں چار اہم چیزیں سیکھی گئیں: مَنْ سے انسانوں کی شناخت، تنوین سے نکرہ کی علامت، ال تعریف سے معرفہ کی تشکیل، اور فعل ماضی کے تین غائب صیغے۔ ان تمام قواعد کی مشق کے لیے دروس اللغۃ العربیہ کے دوسرے اور تیسرے سبق کے الفاظ رَجُلٌ، وَلَدٌ، طَالِبٌ، مُدَرِّسٌ، تَاجِرٌ اور فَلَّاحٌ کو نکرہ اور معرفہ دونوں صورتوں میں استعمال کرنے کی مشق کرنی چاہیے۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 2 و 3 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
مَنْ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب سوال کسی ذی روح انسان کے بارے میں ہو، جیسے
۔ جبکہ مَا اس وقت استعمال ہوتا ہے جب سوال کسی غیر ذی روح چیز کے بارے میں ہو، جیسے
۔ دونوں سوالیہ کلمات هَذَا کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، مگر ان کا انحصار اس پر ہے کہ مذکورہ چیز جاندار انسان ہے یا بے جان شے۔
تنوین اسم کے آخر پر لگنے والی وہ دو حرکتیں (دو زبر، دو زیر یا دو پیش) ہیں جن سے آخر میں ہلکی نون ساکن کی آواز پیدا ہوتی ہے، جیسے كِتَابٌ میں دو پیش۔ یہ تنوین اس بات کی علامت ہے کہ اسم نکرہ ہے، یعنی غیر معین اور عام، بالکل اسی طرح جیسے اردو میں 'ایک کتاب' کہا جاتا ہے جس سے کوئی خاص کتاب مراد نہیں ہوتی بلکہ کوئی بھی کتاب مراد ہو سکتی ہے۔
جب کسی نکرہ اسم کے شروع میں ال لگایا جاتا ہے تو وہ اسم معرفہ بن جاتا ہے، یعنی معین اور مخصوص چیز کی نشاندہی کرنے لگتا ہے، اور ساتھ ہی اس کے آخر کی تنوین ختم ہو کر صرف ایک حرکت رہ جاتی ہے۔ مثلاً كِتَابٌ (ایک کتاب) سے الْكِتَابُ (وہ مخصوص کتاب) بنتا ہے، اور قَلَمٌ سے الْقَلَمُ بنتا ہے۔ یوں تنوین اور ال ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتے، یعنی کسی اسم پر یا تو تنوین ہوگی یا ال، دونوں بیک وقت نہیں لگتیں۔
نکرہ وہ اسم ہے جو کسی غیر معین اور عام فرد یا چیز پر دلالت کرے، جیسے
۔ معرفہ وہ اسم ہے جو کسی معین، پہلے سے معلوم یا سامنے موجود مخصوص چیز پر دلالت کرے، جیسے
۔ فرق یہ ہے کہ نکرہ عمومیت اور معرفہ تعیین ظاہر کرتا ہے، اور یہی فرق جملے کے معنی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
کا مطلب ہے کوئی ایک عام آدمی، جس کا کوئی خاص تعین نہیں، جبکہ
کا مطلب ہے وہ خاص آدمی جو یا تو پہلے ذکر ہو چکا ہو یا سامنے موجود ہو یا سیاق و سباق سے متعین ہو۔ مثال کے طور پر پہلی بار تعارف کے لیے
کہا جائے گا، لیکن اگلے جملے میں اسی شخص کا حوالہ دیتے ہوئے
کہا جا سکتا ہے۔
فعل ماضی وہ فعل ہے جو کسی ایسے کام پر دلالت کرے جو گزرے ہوئے زمانے میں مکمل ہو چکا ہو۔ اس کی مثال ماڈل فعل
ہے، جو تین حرفی مادّہ ک-ت-ب سے بنا ہے۔ فعل ماضی کا صیغہ فاعل کی جنس، تعداد اور شخص کے مطابق بدلتا رہتا ہے، اور اسی وجہ سے عربی میں ایک ہی فعل کے چودہ مختلف صیغے ہوتے ہیں، جن میں سے اس سبق میں صرف غائب کے صیغے متعارف کرائے گئے ہیں۔
مذکر واحد غائب کے لیے
، مؤنث واحد غائب کے لیے
، تثنیہ مذکر غائب کے لیے
، اور جمع مذکر غائب کے لیے
استعمال ہوتا ہے۔ ان صیغوں میں فرق صرف فاعل کی جنس اور تعداد کی بنا پر آخری حروف کے اضافے سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ فعل کا بنیادی مادّہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔
کا اردو ترجمہ ہے 'اس طالبہ نے لکھا'۔ اس جملے میں الطَّالِبَةُ فاعل ہے، جو معرفہ اور مؤنث ہے، اور اس کے مطابق فعل بھی مؤنث واحد غائب کے صیغے یعنی كَتَبَتْ کی صورت میں آیا ہے۔ یہاں تاء ساکن (كَتَبَتْ کے آخر میں) اس بات کی علامت ہے کہ فاعل مؤنث ہے، اور یہی اصول عربی کی تمام افعال میں فاعل کی مطابقت کے لیے لاگو ہوتا ہے۔
اس سبق کے چار بنیادی نکات یہ ہیں: مَنْ سے انسانوں کی شناخت پوچھنا، تنوین سے نکرہ کی علامت، ال تعریف سے معرفہ اسم کی تشکیل، اور فعل ماضی کے غائب صیغے۔ یہ سبق پہلے سبق پر اس طرح تعمیر ہوتا ہے کہ پہلے سبق میں سیکھا گیا جملہ اسمیہ
اب مزید وسیع ہو کر معرفہ و نکرہ کی بحث اور فعل ماضی جیسے نئے عناصر کو بھی سموتا ہے، جس سے جملہ سازی کی صلاحیت بتدریج بڑھتی ہے۔