مؤنث اشارہ (ھذہ، تلک، ذلک) اور اضافت
اگر کسی مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو ھذا کے بجائے کون سا لفظ استعمال ہوگا، اور دو اسموں کو ملا کر ملکیت ظاہر کرنے کا عربی طریقہ کیا ہے؟
1تمہید
آج کے سبق میں ہم مؤنث اسمائے اشارہ، علامتِ تانیث، اضافت کی ترکیب اور فعل مضارع کے تعارف کا مطالعہ کریں گے۔ یہ تمام مباحث دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق پانچ اور چھ سے ماخوذ ہیں اور عربی جملہ سازی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔
2علامتِ تانیث (تاء مربوطہ)
سب سے پہلے علامتِ تانیث یعنی تاء مربوطہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ عربی میں اکثر مؤنث اسماء کے آخر میں ة (تاء مربوطہ) لگائی جاتی ہے، جبکہ مذکر اسماء میں یہ علامت نہیں ہوتی۔ مثلاً
اور
مؤنث ہیں، جبکہ
اور
مذکر ہیں۔ اسی طرح
اور
بھی مؤنث اسماء کی مثالیں ہیں۔ یہ فرق جملہ بنانے، اسم اشارہ اور صفت کے انتخاب پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
3اسم اشارہ قریب مؤنث — ھذہ
اسم اشارہ قریب مؤنث ھذہ کا استعمال بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے مذکر کے لیے ھذا استعمال ہوتا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ مشار الیہ مؤنث اسم ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر
اور
درست جملے ہیں۔ اسی طرح
اور
بھی صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔ اگر مشار الیہ مذکر ہو تو ھذہ استعمال کرنا غلط ہوگا، اس لیے اسم اشارہ اور مشار الیہ کے درمیان جنس کی موافقت لازمی ہے، اور طالب علم کو ہر نئے اسم کی جنس یاد رکھنے کی مشق کرنی چاہیے۔
4اسمائے اشارہ بعید — ذلک و تلک
اسمائے اشارہ بعید میں مذکر کے لیے ذلک اور مؤنث کے لیے تلک استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً
میں چونکہ کتاب مذکر ہے اس لیے ذلک آیا، جبکہ
میں سیارۃ مؤنث ہونے کی وجہ سے تلک استعمال ہوا۔ ایک اور مثال
اور
سے یہ اصول مزید پختہ ہوتا ہے۔ یوں اشارہ قریب و بعید دونوں میں جنس کی رعایت بنیادی اصول ہے، اور یہی اصول آگے چل کر ضمائر اور صفات میں بھی لاگو ہوگا۔
5الإضافہ کا تعارف
اس کے بعد اضافت کا اہم قاعدہ آتا ہے، جو دو اسموں کو ملا کر ملکیت یا نسبت کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اضافت کی ترکیب میں پہلا اسم مضاف اور دوسرا اسم مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ اہم اصول یہ ہے کہ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ اس پر ال ہو یا نہ ہو۔ مثال کے طور پر
میں باب مضاف ہے اور البیت مضاف الیہ مجرور ہے۔
6اضافت کی مزید مثالیں
اضافت کی مزید مثالیں اس اصول کو مزید واضح کرتی ہیں۔
میں کتاب پر نہ ال ہے نہ تنوین، اور الطالب مجرور ہے۔ اسی طرح
میں مفتاح مضاف اور السیارۃ مضاف الیہ مجرور ہے۔ یاد رہے کہ مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ کسرہ یا اس کے قائم مقام علامت سے ظاہر ہوتی ہے، چاہے پورا جملہ کسی بھی حالت میں ہو۔
7فعل مضارع کا تعارف
آخر میں فعل مضارع یعنی حال و مستقبل کے فعل کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ فعل مضارع، فعل ماضی سے چار حروفِ مضارعت میں سے کسی ایک کے اضافے سے بنتا ہے، اور یہ حروف أ، ن، ي، ت ہیں، جنہیں یاد رکھنے کے لیے مجموعی طور پر أنيت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ماضی کا صیغہ
سے مضارع
بنتا ہے، جس میں ابتدا میں ی کا اضافہ ہوا اور فعل کی درمیانی حرکت بھی مضارع کے قاعدے کے مطابق ساکن ہو گئی۔ یہ حروف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فعل کس ضمیر سے متعلق ہے: ی غائب کے لیے، ت مؤنث غائب اور مخاطب کے لیے، أ متکلم واحد کے لیے، اور ن متکلم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی بنیادی قاعدے کی مدد سے طالب علم آئندہ اسباق میں فعل مضارع کی مکمل چودہ صیغوں والی گردان باآسانی سیکھ سکے گا، جو نعت و منعوت اور اعراب کے مباحث سے پہلے ایک ضروری زینہ ہے۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 5 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 6 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
علامتِ تانیث سے مراد وہ نشانی ہے جو کسی اسم کے مؤنث ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عربی میں یہ عام طور پر تاء مربوطہ (ة) کی صورت میں اسم کے آخر میں آتی ہے، جیسے
اور
۔ ایسے اسماء کے بغیر تاء مربوطہ کے، جیسے
اور
، عام طور پر مذکر ہوتے ہیں۔ یہ فرق نہایت اہم ہے کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس اسم کے ساتھ کون سا اسم اشارہ اور کون سی صفت استعمال ہوگی۔
ھذہ اسم اشارہ قریب کا مؤنث صیغہ ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی نزدیک موجود مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ مثال کے طور پر
کا مطلب ہے یہ ایک گاڑی ہے، اور
کا مطلب یہ ایک بیگ ہے۔ اگر اشارہ مذکر اسم کی طرف ہو تو اس کے بجائے ھذا استعمال کیا جائے گا، کیونکہ اسم اشارہ اور مشار الیہ کی جنس میں موافقت ضروری ہے۔
تلک اور ذلک دونوں اسمائے اشارہ بعید ہیں، یعنی دور کی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر جنس کے اعتبار سے فرق رکھتے ہیں۔ ذلک مذکر اسم کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے
، جبکہ تلک مؤنث اسم کے لیے آتا ہے، جیسے
۔ اس طرح اسمائے اشارہ کا انتخاب ہمیشہ مشار الیہ کی جنس پر منحصر ہوتا ہے۔
اضافت ایک ایسی ترکیب ہے جس میں دو اسم آپس میں ملا کر ملکیت یا نسبت کا مفہوم دیتے ہیں۔ پہلا اسم مضاف کہلاتا ہے اور دوسرا مضاف الیہ۔ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین لگتی ہے، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر
میں باب مضاف ہے اور البیت مضاف الیہ مجرور ہے، جس کا مجموعی مطلب ہے گھر کا دروازہ۔
مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ جر (مجرور) ہوتی ہے، خواہ پورا جملہ کسی بھی اعرابی حیثیت میں ہو۔ یہ عربی گرامر کا ایک مستقل اصول ہے کہ اضافت کی ترکیب میں دوسرا جزو کبھی مرفوع یا منصوب نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر
میں الطالب ہمیشہ زیر کے ساتھ آئے گا، چاہے کتاب مرفوع ہو، منصوب ہو یا مجرور ہو، کیونکہ جر کا تعلق مضاف الیہ کے اپنے مقام سے ہے نہ کہ جملے کی مجموعی ترکیب سے۔
ایک اضافت کی مثال ہے جس کا ترجمہ ہے گاڑی کی چابی۔ اس میں مفتاح مضاف ہے، اس لیے اس پر نہ ال آیا ہے نہ تنوین، اور اس کا اعراب اس کے جملے میں مقام کے مطابق بدل سکتا ہے۔ السیارۃ مضاف الیہ ہے اور ہمیشہ مجرور رہے گا، جیسا کہ یہاں کسرہ سے ظاہر ہے۔ یہ مثال اضافت کے بنیادی اصول کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے۔
فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال یا مستقبل کے زمانے میں کسی کام کے واقع ہونے کی خبر دیتا ہے، جبکہ فعل ماضی گزرے ہوئے زمانے کے کام کی خبر دیتا ہے۔ فعل مضارع، فعل ماضی کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے مگر اس کے شروع میں ایک خاص حرف کا اضافہ کیا جاتا ہے جو زمانہ حال یا مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثلاً ماضی
سے مضارع
بنتا ہے۔
حروفِ مضارعت چار ہیں: أ، ن، ي، ت، اور انہیں مجموعی طور پر یاد رکھنے کے لیے أنيت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چاروں حروف مختلف ضمائر کے ساتھ فعل مضارع کے شروع میں لگتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فعل کس فاعل سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر ی کا حرف غائب مذکر کے لیے، ت کا حرف غائب مؤنث اور مخاطب کے لیے، اور أ کا حرف متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
فعل ماضی ہے جس کا مطلب ہے اس نے لکھا۔ اس سے فعل مضارع بنانے کے لیے شروع میں حرفِ مضارعت ی کا اضافہ کیا گیا اور فعل کی اندرونی حرکات کو مضارع کے مطابق تبدیل کیا گیا، جس سے
بنا، یعنی وہ لکھتا ہے۔ یہ عمل ہر صحیح فعل کے ساتھ اسی طرح دہرایا جاتا ہے، مگر بعض افعال میں درمیانی حرکت مختلف ہو سکتی ہے، جسے اگلے اسباق میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔