ہوماسباق ‹ سبق 4
سبق 4 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 5-6

مؤنث اشارہ (ھذہ، تلک، ذلک) اور اضافت

اگر کسی مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو ھذا کے بجائے کون سا لفظ استعمال ہوگا، اور دو اسموں کو ملا کر ملکیت ظاہر کرنے کا عربی طریقہ کیا ہے؟

1تمہید

آج کے سبق میں ہم مؤنث اسمائے اشارہ، علامتِ تانیث، اضافت کی ترکیب اور فعل مضارع کے تعارف کا مطالعہ کریں گے۔ یہ تمام مباحث دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق پانچ اور چھ سے ماخوذ ہیں اور عربی جملہ سازی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔

2علامتِ تانیث (تاء مربوطہ)

سب سے پہلے علامتِ تانیث یعنی تاء مربوطہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ عربی میں اکثر مؤنث اسماء کے آخر میں ة (تاء مربوطہ) لگائی جاتی ہے، جبکہ مذکر اسماء میں یہ علامت نہیں ہوتی۔ مثلاً

﴿سَيَّارَةٌگاڑی

اور

﴿حَقِيبَةٌبیگ

مؤنث ہیں، جبکہ

﴿بَابٌدروازہ

اور

﴿كِتَابٌکتاب

مذکر ہیں۔ اسی طرح

﴿سَاعَةٌگھڑی

اور

﴿مَجَلَّةٌرسالہ

بھی مؤنث اسماء کی مثالیں ہیں۔ یہ فرق جملہ بنانے، اسم اشارہ اور صفت کے انتخاب پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔

3اسم اشارہ قریب مؤنث — ھذہ

اسم اشارہ قریب مؤنث ھذہ کا استعمال بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے مذکر کے لیے ھذا استعمال ہوتا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ مشار الیہ مؤنث اسم ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر

﴿هَذِهِ سَيَّارَةٌیہ ایک گاڑی ہے

اور

﴿هَذِهِ حَقِيبَةٌیہ ایک بیگ ہے

درست جملے ہیں۔ اسی طرح

﴿هَذِهِ سَاعَةٌیہ ایک گھڑی ہے

اور

﴿هَذِهِ مَجَلَّةٌیہ ایک رسالہ ہے

بھی صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔ اگر مشار الیہ مذکر ہو تو ھذہ استعمال کرنا غلط ہوگا، اس لیے اسم اشارہ اور مشار الیہ کے درمیان جنس کی موافقت لازمی ہے، اور طالب علم کو ہر نئے اسم کی جنس یاد رکھنے کی مشق کرنی چاہیے۔

4اسمائے اشارہ بعید — ذلک و تلک

اسمائے اشارہ بعید میں مذکر کے لیے ذلک اور مؤنث کے لیے تلک استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً

﴿ذَلِكَ كِتَابٌوہ ایک کتاب ہے

میں چونکہ کتاب مذکر ہے اس لیے ذلک آیا، جبکہ

﴿تِلْكَ سَيَّارَةٌوہ ایک گاڑی ہے

میں سیارۃ مؤنث ہونے کی وجہ سے تلک استعمال ہوا۔ ایک اور مثال

﴿ذَلِكَ بَابٌوہ ایک دروازہ ہے

اور

﴿تِلْكَ حَقِيبَةٌوہ ایک بیگ ہے

سے یہ اصول مزید پختہ ہوتا ہے۔ یوں اشارہ قریب و بعید دونوں میں جنس کی رعایت بنیادی اصول ہے، اور یہی اصول آگے چل کر ضمائر اور صفات میں بھی لاگو ہوگا۔

5الإضافہ کا تعارف

اس کے بعد اضافت کا اہم قاعدہ آتا ہے، جو دو اسموں کو ملا کر ملکیت یا نسبت کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اضافت کی ترکیب میں پہلا اسم مضاف اور دوسرا اسم مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ اہم اصول یہ ہے کہ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ اس پر ال ہو یا نہ ہو۔ مثال کے طور پر

﴿بَابُ الْبَيْتِگھر کا دروازہ

میں باب مضاف ہے اور البیت مضاف الیہ مجرور ہے۔

6اضافت کی مزید مثالیں

اضافت کی مزید مثالیں اس اصول کو مزید واضح کرتی ہیں۔

﴿كِتَابُ الطَّالِبِطالب علم کی کتاب

میں کتاب پر نہ ال ہے نہ تنوین، اور الطالب مجرور ہے۔ اسی طرح

﴿مِفْتَاحُ السَّيَّارَةِگاڑی کی چابی

میں مفتاح مضاف اور السیارۃ مضاف الیہ مجرور ہے۔ یاد رہے کہ مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ کسرہ یا اس کے قائم مقام علامت سے ظاہر ہوتی ہے، چاہے پورا جملہ کسی بھی حالت میں ہو۔

7فعل مضارع کا تعارف

آخر میں فعل مضارع یعنی حال و مستقبل کے فعل کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ فعل مضارع، فعل ماضی سے چار حروفِ مضارعت میں سے کسی ایک کے اضافے سے بنتا ہے، اور یہ حروف أ، ن، ي، ت ہیں، جنہیں یاد رکھنے کے لیے مجموعی طور پر أنيت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ماضی کا صیغہ

﴿كَتَبَاس نے لکھا

سے مضارع

﴿يَكْتُبُوہ لکھتا ہے

بنتا ہے، جس میں ابتدا میں ی کا اضافہ ہوا اور فعل کی درمیانی حرکت بھی مضارع کے قاعدے کے مطابق ساکن ہو گئی۔ یہ حروف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فعل کس ضمیر سے متعلق ہے: ی غائب کے لیے، ت مؤنث غائب اور مخاطب کے لیے، أ متکلم واحد کے لیے، اور ن متکلم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی بنیادی قاعدے کی مدد سے طالب علم آئندہ اسباق میں فعل مضارع کی مکمل چودہ صیغوں والی گردان باآسانی سیکھ سکے گا، جو نعت و منعوت اور اعراب کے مباحث سے پہلے ایک ضروری زینہ ہے۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 5 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
  2. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 6 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
سَيَّارَةٌگاڑی
حَقِيبَةٌبیگ
سَاعَةٌگھڑی
مَجَلَّةٌرسالہ
بَابٌدروازہ
كِتَابٌکتاب
بَيْتٌگھر
طَالِبٌطالب علم
مِفْتَاحٌچابی
هَذِهِیہ (مؤنث، قریب)
تِلْكَوہ (مؤنث، بعید)
ذَلِكَوہ (مذکر، بعید)
كَتَبَاس نے لکھا
يَكْتُبُوہ لکھتا ہے

علامتِ تانیث سے مراد وہ نشانی ہے جو کسی اسم کے مؤنث ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عربی میں یہ عام طور پر تاء مربوطہ (ة) کی صورت میں اسم کے آخر میں آتی ہے، جیسے

﴿سَيَّارَةٌگاڑی

اور

﴿حَقِيبَةٌبیگ

۔ ایسے اسماء کے بغیر تاء مربوطہ کے، جیسے

﴿بَابٌ

اور

﴿كِتَابٌ

، عام طور پر مذکر ہوتے ہیں۔ یہ فرق نہایت اہم ہے کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس اسم کے ساتھ کون سا اسم اشارہ اور کون سی صفت استعمال ہوگی۔

ھذہ اسم اشارہ قریب کا مؤنث صیغہ ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی نزدیک موجود مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ مثال کے طور پر

﴿هَذِهِ سَيَّارَةٌ

کا مطلب ہے یہ ایک گاڑی ہے، اور

﴿هَذِهِ حَقِيبَةٌ

کا مطلب یہ ایک بیگ ہے۔ اگر اشارہ مذکر اسم کی طرف ہو تو اس کے بجائے ھذا استعمال کیا جائے گا، کیونکہ اسم اشارہ اور مشار الیہ کی جنس میں موافقت ضروری ہے۔

تلک اور ذلک دونوں اسمائے اشارہ بعید ہیں، یعنی دور کی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر جنس کے اعتبار سے فرق رکھتے ہیں۔ ذلک مذکر اسم کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے

﴿ذَلِكَ كِتَابٌوہ ایک کتاب ہے

، جبکہ تلک مؤنث اسم کے لیے آتا ہے، جیسے

﴿تِلْكَ سَيَّارَةٌوہ ایک گاڑی ہے

۔ اس طرح اسمائے اشارہ کا انتخاب ہمیشہ مشار الیہ کی جنس پر منحصر ہوتا ہے۔

اضافت ایک ایسی ترکیب ہے جس میں دو اسم آپس میں ملا کر ملکیت یا نسبت کا مفہوم دیتے ہیں۔ پہلا اسم مضاف کہلاتا ہے اور دوسرا مضاف الیہ۔ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین لگتی ہے، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿بَابُ الْبَيْتِ

میں باب مضاف ہے اور البیت مضاف الیہ مجرور ہے، جس کا مجموعی مطلب ہے گھر کا دروازہ۔

مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ جر (مجرور) ہوتی ہے، خواہ پورا جملہ کسی بھی اعرابی حیثیت میں ہو۔ یہ عربی گرامر کا ایک مستقل اصول ہے کہ اضافت کی ترکیب میں دوسرا جزو کبھی مرفوع یا منصوب نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

میں الطالب ہمیشہ زیر کے ساتھ آئے گا، چاہے کتاب مرفوع ہو، منصوب ہو یا مجرور ہو، کیونکہ جر کا تعلق مضاف الیہ کے اپنے مقام سے ہے نہ کہ جملے کی مجموعی ترکیب سے۔

﴿مِفْتَاحُ السَّيَّارَةِ

ایک اضافت کی مثال ہے جس کا ترجمہ ہے گاڑی کی چابی۔ اس میں مفتاح مضاف ہے، اس لیے اس پر نہ ال آیا ہے نہ تنوین، اور اس کا اعراب اس کے جملے میں مقام کے مطابق بدل سکتا ہے۔ السیارۃ مضاف الیہ ہے اور ہمیشہ مجرور رہے گا، جیسا کہ یہاں کسرہ سے ظاہر ہے۔ یہ مثال اضافت کے بنیادی اصول کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے۔

فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال یا مستقبل کے زمانے میں کسی کام کے واقع ہونے کی خبر دیتا ہے، جبکہ فعل ماضی گزرے ہوئے زمانے کے کام کی خبر دیتا ہے۔ فعل مضارع، فعل ماضی کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے مگر اس کے شروع میں ایک خاص حرف کا اضافہ کیا جاتا ہے جو زمانہ حال یا مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثلاً ماضی

﴿كَتَبَ

سے مضارع

﴿يَكْتُبُ

بنتا ہے۔

حروفِ مضارعت چار ہیں: أ، ن، ي، ت، اور انہیں مجموعی طور پر یاد رکھنے کے لیے أنيت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چاروں حروف مختلف ضمائر کے ساتھ فعل مضارع کے شروع میں لگتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فعل کس فاعل سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر ی کا حرف غائب مذکر کے لیے، ت کا حرف غائب مؤنث اور مخاطب کے لیے، اور أ کا حرف متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

﴿كَتَبَ

فعل ماضی ہے جس کا مطلب ہے اس نے لکھا۔ اس سے فعل مضارع بنانے کے لیے شروع میں حرفِ مضارعت ی کا اضافہ کیا گیا اور فعل کی اندرونی حرکات کو مضارع کے مطابق تبدیل کیا گیا، جس سے

﴿يَكْتُبُ

بنا، یعنی وہ لکھتا ہے۔ یہ عمل ہر صحیح فعل کے ساتھ اسی طرح دہرایا جاتا ہے، مگر بعض افعال میں درمیانی حرکت مختلف ہو سکتی ہے، جسے اگلے اسباق میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1درج ذیل میں سے کون سا اسم مؤنث ہے؟
الفكِتَابٌ
ببَابٌ
جسَيَّارَةٌ
دمِفْتَاحٌ
سَيَّارَةٌ کے آخر میں تاء مربوطہ ہے، جو علامتِ تانیث ہے، اس لیے یہ مؤنث اسم ہے۔
2علامتِ تانیث کس حرف کی صورت میں عام طور پر ظاہر ہوتی ہے؟
الفالف
بتاء مربوطہ
جنون
دیاء
عربی میں مؤنث اسم کے آخر میں عموماً تاء مربوطہ (ة) لگتی ہے، جیسے حقیبۃ اور ساعۃ۔
3خالی جگہ پُر کریں: ...... حَقِيبَةٌ (یہ ایک بیگ ہے)
الفهَذَا
بهَذِهِ
جذَلِكَ
دتِلْكَ
حقیبۃ مؤنث اسم ہے اور قریب کی چیز کی طرف اشارہ کے لیے مؤنث صیغہ ھذہ استعمال ہوگا۔
4﴿ذَلِكَ كِتَابٌ﴾ میں ذلک کیوں استعمال ہوا؟
الفکیونکہ کتاب قریب ہے
بکیونکہ کتاب مؤنث ہے
جکیونکہ کتاب مذکر اور بعید ہے
دکیونکہ کتاب جمع ہے
ذلک اسم اشارہ بعید مذکر ہے، اور چونکہ کتاب مذکر اسم ہے اس لیے ذلک درست ہے۔
5﴿تِلْكَ سَيَّارَةٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
الفیہ ایک گاڑی ہے
بوہ ایک گاڑی ہے
جیہ گاڑیاں ہیں
دوہ گاڑیاں ہیں
تلک بعید مؤنث کے لیے اشارہ ہے، اس لیے ترجمہ وہ ایک گاڑی ہے ہوگا۔
6اضافت کی ترکیب میں پہلا جزو کیا کہلاتا ہے؟
الفمضاف الیہ
بمضاف
جمبتدا
دخبر
اضافت کے پہلے اسم کو مضاف کہا جاتا ہے، جس پر ال یا تنوین نہیں آتی۔
7اضافت میں مضاف پر کیا نہیں آتا؟
الفال اور تنوین
بکسرہ
جضمہ
دفتحہ
مضاف کبھی معرف بہ ال نہیں ہوتا اور نہ اس پر تنوین آتی ہے، کیونکہ یہ اپنی تعریف مضاف الیہ سے حاصل کرتا ہے۔
8مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دمجزوم
اضافت کا قاعدہ ہے کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ باقی جملے کا اعراب کچھ بھی ہو۔
9﴿بَابُ الْبَيْتِ﴾ میں البیت کا اعراب کیا ہے؟
الفمرفوع بالضمہ
بمنصوب بالفتحہ
جمجرور بالکسرہ
دمجزوم بالسکون
البیت مضاف الیہ ہے، اس لیے یہ کسرہ کے ساتھ مجرور ہے۔
10﴿كِتَابُ الطَّالِبِ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
الفطالب علم کی کتاب
بکتاب کا طالب علم
جطالب علموں کی کتابیں
دکتابیں طالب علم کی
یہ سادہ اضافت کی ترکیب ہے جس کا ترجمہ طالب علم کی کتاب ہے۔
11﴿مِفْتَاحُ السَّيَّارَةِ﴾ میں مضاف کون سا لفظ ہے؟
الفالسَّيَّارَةِ
بمِفْتَاحُ
جدونوں
دکوئی نہیں
مفتاح پہلا جزو ہے، اس پر نہ ال ہے نہ تنوین، اس لیے یہی مضاف ہے۔
12فعل مضارع کس زمانے کی خبر دیتا ہے؟
الفصرف ماضی
بحال اور مستقبل
جصرف مستقبل
دصرف حال
فعل مضارع حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
13حروفِ مضارعت کتنے اور کون سے ہیں؟
الفتین: أ، ن، ي
بچار: أ، ن، ي، ت
جپانچ: أ، ن، ي، ت، و
ددو: ي، ت
حروفِ مضارعت چار ہیں جنہیں مجموعی طور پر أنيت کہا جاتا ہے۔
14﴿كَتَبَ﴾ سے فعل مضارع بنانے پر کیا حاصل ہوگا؟
الفكَاتِبٌ
بمَكْتُوبٌ
جيَكْتُبُ
داُكْتُبْ
ماضی كَتَبَ سے حرفِ مضارعت ی کے اضافے اور حرکات کی تبدیلی سے مضارع يَكْتُبُ بنتا ہے۔
15درج ذیل میں سے کون سا فعل مضارع ہے؟
الفكَتَبَ
بيَكْتُبُ
جكِتَابٌ
دمَكْتَبٌ
يَكْتُبُ حرفِ مضارعت ی کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اس لیے یہ فعل مضارع ہے۔
16اسم اشارہ اور مشار الیہ کے درمیان کون سی موافقت لازمی ہے؟
الفجنس کی موافقت
بتعداد کی موافقت
جاعراب کی موافقت
دکوئی موافقت لازمی نہیں
اسم اشارہ کا انتخاب ہمیشہ مشار الیہ کی جنس (مذکر یا مؤنث) کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
17﴿هَذِهِ سَاعَةٌ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
الفیہ ایک گھڑی ہے
بوہ ایک گھڑی ہے
جیہ گھڑیاں ہیں
دیہ رسالہ ہے
ھذہ قریب مؤنث کے لیے ہے اور ساعۃ مؤنث اسم ہے، اس لیے ترجمہ یہ ایک گھڑی ہے ہوگا۔