جمع تکسیر و سالم؛ مزید مشتقات
عربی میں کچھ الفاظ کی جمع بالکل بے قاعدہ کیوں لگتی ہے، جیسے كِتَابٌ کی جمع كُتُبٌ، جبکہ کچھ الفاظ کی جمع ایک آسان قاعدے سے بنتی ہے؟ آئیے دونوں طرح کی جمع اور ان سے جڑے مشتقات کو سمجھتے ہیں۔
1جمع تکسیر: بے قاعدہ اوزان
جمع تکسیر (broken plural) عربی زبان کی ایک نہایت اہم خصوصیت ہے جس میں واحد اسم کی داخلی ساخت ہی بدل جاتی ہے، یعنی محض کوئی لاحقہ لگانے کے بجائے حروف کی ترتیب اور حرکات دونوں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ تبدیلی مختلف اوزان (patterns) پر مبنی ہوتی ہے جو ہر لفظ کے لیے الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں قاعدے سے اخذ کرنے کے بجائے ہر لفظ کے ساتھ زبانی یاد کرنا ضروری ہے۔ مثالیں دیکھیں: كِتَابٌ کی جمع كُتُبٌ، بَيْتٌ کی جمع بُيُوتٌ، وَلَدٌ کی جمع أَوْلَادٌ، رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ، اور قَلَمٌ کی جمع أَقْلَامٌ آتی ہے۔ یہ سب اوزان بظاہر مختلف نظر آتے ہیں مگر لغت کے مطالعے اور کثرتِ استعمال سے طالب علم آہستہ آہستہ ان کے مانوس نمونے پہچاننے لگتا ہے۔ عربی لغت نویسوں نے جمع تکسیر کے لیے تیس سے زائد اوزان شمار کیے ہیں، مگر ابتدائی سطح پر صرف کثیر الاستعمال الفاظ کی جمعیں یاد کرنا کافی ہوتا ہے، اور رفتہ رفتہ مطالعے سے دیگر اوزان بھی خودبخود ذہن نشین ہونے لگتے ہیں۔
2جمع مذکر سالم
اس کے برعکس جمع مذکر سالم ایک قاعدے کے پابند طریقے سے بنتی ہے، جس میں واحد اسم کے آخر میں حالتِ رفع کے لیے ونَ اور حالتِ نصب و جر کے لیے ينَ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ باقی لفظ بغیر کسی داخلی تبدیلی کے جوں کا توں رہتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمٌ کی جمع رفع میں مُسْلِمُونَ اور نصب و جر میں مُسْلِمِينَ آتی ہے۔ یہ جمع عام طور پر عاقل (شعور رکھنے والے) مذکر اسموں کے لیے استعمال ہوتی ہے، خصوصاً اسم الفاعل کی قسم کے الفاظ کے لیے۔
3جمع مؤنث سالم
جمع مؤنث سالم بھی اسی طرح ایک قاعدے کے تحت بنتی ہے، جس میں واحد اسم سے تاء مربوطہ ہٹا کر اس کی جگہ اتٌ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمَةٌ کی جمع مُسْلِمَاتٌ بنتی ہے۔ یہ جمع عام طور پر مؤنث اسموں اور بعض غیر عاقل جمع اشیاء کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ جمع مؤنث سالم کا اعراب جمع مذکر سالم سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں حالتِ نصب بھی کسرہ کے ساتھ آتی ہے، نہ کہ فتحہ کے ساتھ۔
4اسم تفضیل — وزن أَفْعَل
اسم تفضیل ایک ایسا مشتق اسم ہے جو دو یا زیادہ چیزوں کے درمیان موازنہ ظاہر کرتا ہے، یعنی "زیادہ" یا "سب سے زیادہ" کا مفہوم دیتا ہے۔ اس کا وزن ہمیشہ أَفْعَل آتا ہے۔ مثلاً كَبِيرٌ (بڑا) سے أَكْبَرُ (زیادہ بڑا/سب سے بڑا) بنتا ہے، اور صَغِيرٌ سے أَصْغَرُ (چھوٹا سے چھوٹا) بنتا ہے۔ سیاق و سباق کے مطابق اسم تفضیل موازنہ (comparative) یا انتہائی درجہ (superlative) دونوں معنی دے سکتا ہے۔
5اسم ظرف زمان و مکان اور اسم آلہ
اسم ظرف زمان و مکان وہ مشتق اسم ہے جو کسی فعل کے وقوع کے وقت یا جگہ کو ظاہر کرتا ہے، اور اس کا وزن عام طور پر مَفْعَل آتا ہے۔ مثلاً کَتَبَ سے مَكْتَبٌ (لکھنے کی جگہ، یعنی دفتر یا میز) اور جَلَسَ سے مَجْلِسٌ (بیٹھنے کی جگہ، یعنی مجلس) بنتا ہے۔ اسم آلہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس سے کوئی کام انجام دیا جائے، اور اس کے مشہور اوزان مِفْعَال، مِفْعَل اور مِفْعَلَة ہیں۔ مثلاً مِفْتَاحٌ (چابی، جس سے تالا کھولا جائے) اور مِكْنَسَةٌ (جھاڑو، جس سے صفائی کی جائے) اسی زمرے میں آتے ہیں۔ یہ تینوں اوزان یعنی اسم تفضیل، اسم ظرف اور اسم آلہ سب مزید مشتقات کہلاتے ہیں کیونکہ یہ اسم الفاعل اور اسم المفعول کی طرح فعل کی جڑ سے نکلتے ہیں مگر ہر ایک الگ معنیاتی زاویہ رکھتا ہے، اسی لیے صرفی طور پر ان کے اوزان کو الگ الگ پہچاننا لازمی ہے۔
6اسم موصول
اسم موصول وہ اسم ہے جو اپنے بعد آنے والے جملے (صلہ) سے مکمل معنی حاصل کرتا ہے اور اردو کے "جو" کے مترادف ہے۔ مذکر واحد کے لیے الَّذِي، مؤنث واحد کے لیے الَّتِي اور مذکر جمع کے لیے الَّذِينَ استعمال ہوتے ہیں۔ اسم موصول اپنے بعد آنے والے جملہ صلہ کے بغیر نامکمل رہتا ہے، یعنی اکیلا الَّذِي یا الَّتِي کہہ دینے سے سننے والے کو کوئی واضح معنی حاصل نہیں ہوتا، بلکہ صلہ کا جملہ ہی اصل خبر مکمل کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اسم موصول اور صلہ مل کر ایک ہی معرفہ اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
7وسط مدتی امتحان کی تیاری
وسط مدتی امتحان کی تیاری: اب تک پڑھے گئے آٹھ اسباق کا خلاصہ یوں ہے: اسمائے اشارہ (ھذا، ھذہ، ذلک، تلک)، تنوین و ال کا معرفہ نکرہ سے تعلق، حروفِ جر اور ان کا مجرور کے ساتھ استعمال، اضافت کی ترکیب (مضاف اور مضاف الیہ)، نعت و منعوت کی مطابقت، فعل ماضی اور فعل مضارع کی مکمل گردان اور صیغے، فعل امر و نہی کے احکام، اور آخر میں جمع تکسیر و سالم کے ساتھ مشتقات یعنی اسم الفاعل، اسم المفعول، اسم تفضیل، اسم ظرف اور اسم آلہ۔ طالب علم کو مشورہ ہے کہ ہر سبق کی مثالیں دوبارہ زبانی دہرائیں اور اوزان کی فہرست بنا کر حفظ کریں، کیونکہ امتحان میں انہی بنیادی اصولوں پر مبنی سوالات پوچھے جائیں گے۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 13 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
جمع تکسیر وہ جمع ہے جس میں واحد اسم کی اندرونی ساخت یعنی حروف کی ترتیب اور حرکات بدل جاتی ہیں، محض کوئی لاحقہ نہیں لگایا جاتا۔ مثلاً كِتَابٌ کی جمع كُتُبٌ اور رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ بنتی ہے۔ اس کے برعکس جمع سالم میں واحد اسم جوں کا توں رہتا ہے اور صرف آخر میں ایک لاحقہ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے مُسْلِمٌ سے مُسْلِمُونَ۔ چونکہ جمع تکسیر کے اوزان غیر یکساں اور بے قاعدہ ہیں، اس لیے ہر لفظ کی جمع الگ سے زبانی یاد کرنا ضروری ہے۔
بَيْتٌ کی جمع تکسیر بُيُوتٌ ہے، وَلَدٌ کی جمع أَوْلَادٌ ہے، اور قَلَمٌ کی جمع أَقْلَامٌ ہے۔ یہ تینوں مثالیں مختلف اوزان پر آئی ہیں، یعنی بُيُوتٌ فُعُول کے وزن پر، أَوْلَادٌ اور أَقْلَامٌ أَفْعَال کے وزن پر ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض اوقات ایک ہی وزن دہرایا جاتا ہے، مگر عمومی اصول یہ ہے کہ ہر لفظ کی جمع تکسیر کا وزن پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ لغت سے معلوم کیا جاتا ہے۔
جمع مذکر سالم واحد اسم کے آخر میں حالتِ رفع میں ونَ اور حالتِ نصب و جر میں ينَ کے اضافے سے بنتی ہے، اور واحد کا باقی حصہ بغیر کسی داخلی تبدیلی کے قائم رہتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمٌ کی جمع رفع کی حالت میں مُسْلِمُونَ اور نصب و جر کی حالت میں مُسْلِمِينَ آتی ہے۔ یہ جمع بنیادی طور پر عاقل مذکر اسموں، خصوصاً اسم الفاعل کی نوعیت کے الفاظ کے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسے
۔
جمع مؤنث سالم بنانے کے لیے واحد اسم کی تاء مربوطہ ہٹا کر اس کی جگہ اتٌ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمَةٌ کی جمع مُسْلِمَاتٌ بنتی ہے۔ یہ جمع مؤنث اسموں کے علاوہ بعض غیر عاقل اشیاء کی جمع کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس کی اعرابی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حالتِ نصب بھی کسرہ کے ساتھ آتی ہے، برخلاف جمع مذکر سالم کے جس میں نصب کے لیے فتحہ آتا ہے۔
اسم تفضیل وہ مشتق اسم ہے جو دو یا زیادہ چیزوں کے درمیان موازنہ ظاہر کرتا ہے، یعنی 'زیادہ' یا 'سب سے زیادہ' کا مفہوم دیتا ہے۔ اس کا وزن ہمیشہ أَفْعَل آتا ہے۔ مثلاً كَبِيرٌ (بڑا) سے أَكْبَرُ (زیادہ بڑا یا سب سے بڑا) بنتا ہے، اور صَغِيرٌ سے أَصْغَرُ بنتا ہے۔ سیاق کے مطابق یہ comparative یا superlative دونوں معنی دے سکتا ہے، اور یہ رنگوں کے وزن أَفْعَل سے قریبی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دونوں دراصل ایک ہی خاندان سے ہیں۔
اسم ظرف زمان و مکان وہ مشتق اسم ہے جو کسی فعل کے وقوع کے وقت یا جگہ کو ظاہر کرتا ہے، اور اس کا عام وزن مَفْعَل ہے۔ مثلاً کَتَبَ (اس نے لکھا) سے مَكْتَبٌ بنتا ہے جس کا مطلب لکھنے کی جگہ یعنی دفتر یا میز ہے، اور جَلَسَ (وہ بیٹھا) سے مَجْلِسٌ بنتا ہے جس کا مطلب بیٹھنے کی جگہ یعنی مجلس ہے۔ یہ اسم اکثر روزمرہ زندگی کی جگہوں کے ناموں میں استعمال ہوتا ہے۔
اسم آلہ وہ اسم ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے کوئی کام انجام دیا جائے، یعنی آلہ یا اوزار۔ اس کے مشہور اوزان مِفْعَال، مِفْعَل اور مِفْعَلَة ہیں۔ مثلاً مِفْتَاحٌ (چابی) وہ چیز ہے جس سے تالا کھولا جاتا ہے، اور مِكْنَسَةٌ (جھاڑو) وہ چیز ہے جس سے صفائی کی جاتی ہے۔ یہ الفاظ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے ناموں میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور طالب علم کو ان کے اوزان یاد رکھنے چاہئیں۔
اسم موصول وہ اسم ہے جو اپنے بعد آنے والے جملہ صلہ سے مکمل معنی حاصل کرتا ہے، اور اردو کے لفظ 'جو' کے مترادف ہے۔ الَّذِي مذکر واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ الَّتِي مؤنث واحد کے لیے، اور الَّذِينَ مذکر جمع کے لیے آتا ہے۔ مثال کے طور پر
میں الَّذِي مذکر ہے، جبکہ
میں الَّتِي مؤنث کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
جمع مذکر سالم میں حالتِ رفع کے لیے ونَ اور حالتِ نصب و جر کے لیے ينَ استعمال ہوتا ہے، یعنی نصب اور جر دونوں ایک ہی صورت میں آتے ہیں۔ جبکہ جمع مؤنث سالم میں حالتِ رفع کے لیے ضمہ اور حالتِ نصب و جر دونوں کے لیے کسرہ استعمال ہوتا ہے، یعنی نصب کی حالت میں بھی فتحہ کے بجائے کسرہ آتا ہے۔ یہ فرق طالب علموں کے لیے اکثر غلطی کا باعث بنتا ہے اس لیے اسے خاص طور پر یاد رکھنا چاہیے۔
پہلے آٹھ اسباق میں یہ اہم موضوعات آئے ہیں: اسمائے اشارہ (ھذا، ھذہ، ذلک، تلک)، تنوین اور ال کے ذریعے نکرہ و معرفہ کی پہچان، حروفِ جر اور ان کے بعد مجرور اسم کا استعمال، اضافت کی ترکیب یعنی مضاف اور مضاف الیہ کا تعلق، نعت و منعوت کی جنس و اعراب میں مطابقت، فعل ماضی و فعل مضارع کی مکمل گردان، فعل امر و نہی کے احکام، اور آخر میں جمع تکسیر، جمع سالم اور مشتقات یعنی اسم الفاعل، اسم المفعول، اسم تفضیل، اسم ظرف اور اسم آلہ۔ ان سب کو دہرانا امتحان کی بہترین تیاری ہے۔