مکمل مختصر سوالات و جوابات

مختصر سوالات مع جوابات

تمام پندرہ اسباق کے کل 139 مختصر سوالات و جوابات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ اسباق منتخب کریں۔

اسباق منتخب کریں

سبق 1۔ اسم اشارہ (ھذا) اور سوالیہ کلمات — ما، ہل

عربی زبان میں ہر لفظ (کلمہ) کی تین اقسام ہیں۔ اسم وہ کلمہ ہے جو کسی ذات، چیز یا مقام کا نام ہو، جیسے

﴿كِتَابٌکتاب

۔ فعل وہ کلمہ ہے جو کسی کام کے سرزد ہونے اور اس کے زمانے پر دلالت کرے، جیسے

﴿كَتَبَاس نے لکھا

۔ حرف وہ کلمہ ہے جس کا مستقل و مکمل معنی نہ ہو بلکہ وہ دوسرے الفاظ کے درمیان نسبت یا ربط پیدا کرے، جیسے

﴿فِيمیں

یا

﴿هَلْ

جو سوال بنانے کے لیے آتا ہے۔ یہ تقسیم پوری عربی گرامر کی بنیاد ہے۔

هَذَا اسم اشارہ قریب مذکر ہے، یعنی یہ کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے جو قریب ہو اور جس کا اسم مذکر ہو۔ اس کے بعد کوئی مذکر اسم لگا کر مکمل جملہ اسمیہ بن جاتا ہے، جیسے

﴿هَذَا كِتَابٌیہ ایک کتاب ہے

یا

﴿هَذَا بَيْتٌیہ ایک گھر ہے

۔ اس جملے میں کوئی فعل شامل نہیں ہوتا کیونکہ عربی میں حال کے جملے میں 'ہے' کا فعل الگ سے نہیں لگایا جاتا، صرف دو اسموں کی ترتیب ہی جملے کو مکمل کر دیتی ہے۔

جملہ اسمیہ وہ جملہ ہے جو کسی فعل کے بغیر، صرف اسموں کی ترتیب سے مکمل معنی دیتا ہے، جیسے

﴿هَذَا قَلَمٌیہ ایک قلم ہے

۔ اس جملے میں پہلا اسم مبتدأ اور دوسرا خبر کہلاتا ہے۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ حال کے زمانے میں 'ہے/ہیں' جیسے فعل کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ اردو میں ایسا جملہ 'ہے' کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہی فرق سیکھنے والوں کو ابتدا میں نیا محسوس ہوتا ہے مگر تھوڑی مشق سے یہ ساخت واضح ہو جاتی ہے۔

مَا وہ سوالیہ کلمہ ہے جو کسی غیر ذی روح چیز کی شناخت پوچھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا اردو مفہوم 'یہ کیا ہے؟' ہے۔ اسے هَذَا کے ساتھ ملا کر سوال بنایا جاتا ہے، جیسے

﴿مَا هَذَا؟یہ کیا ہے؟

، اور جواب میں متعلقہ اسم لگا دیا جاتا ہے، جیسے

﴿هَذَا مِصْبَاحٌیہ ایک چراغ ہے

۔ سوال میں بھی هَذَا ہی برقرار رہتا ہے کیونکہ اشارہ اسی چیز کی طرف ہوتا ہے جسے شناخت کرنا مقصود ہے۔

هَلْ ایک حرف استفہام ہے جو جملے کو ہاں یا نہیں والا سوال بنانے کے لیے جملے کے شروع میں لگایا جاتا ہے، جیسے

﴿هَلْ هَذَا كِتَابٌ؟کیا یہ کتاب ہے؟

۔ اگر بات درست ہو تو جواب نَعَمْ (ہاں) سے شروع کر کے وہی جملہ دہرایا جاتا ہے، جیسے

﴿نَعَمْ، هَذَا كِتَابٌ

، اور اگر بات غلط ہو تو لَا (نہیں) کہہ کر درست اسم بتایا جاتا ہے، جیسے

﴿لَا، هَذَا قَلَمٌ

۔ هَلْ کا اپنا کوئی مستقل معنی نہیں، اس لیے یہ حرف کہلاتا ہے نہ کہ اسم۔

هَلْ کا کام صرف یہ ہے کہ کسی خبریہ جملے کو سوالیہ جملے میں بدل دے، اس کا اپنا کوئی مستقل و مکمل معنی نہیں ہوتا جیسا کہ اسم کا ہوتا ہے (مثلاً كِتَابٌ کا معنی خود مکمل ہے) یا جیسا فعل کا ہوتا ہے (جو کام اور زمانے پر دلالت کرتا ہے)۔ چونکہ هَلْ محض ایک نسبت یعنی سوال کا انداز پیدا کرتا ہے اور دوسرے الفاظ سے مل کر ہی اپنا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اسے حرف کی قسم میں شمار کیا جاتا ہے۔

پہلے سبق میں دروس اللغۃ العربیہ کی مشہور فہرست میں یہ الفاظ شامل ہیں: كِتَابٌ (کتاب)، قَلَمٌ (قلم)، بَابٌ (دروازہ)، بَيْتٌ (گھر)، مَسْجِدٌ (مسجد)، مِفْتَاحٌ (چابی)، بِسَاطٌ (دری نما فرش)، فِرَاشٌ (بستر)، حَصِيرٌ (چٹائی)، اور مِصْبَاحٌ (چراغ)۔ یہ تمام الفاظ مذکر اسم ہیں اور اسی وجہ سے هَذَا کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ان الفاظ کو زبانی یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ آئندہ اسباق میں انہی پر نئے قواعد کی مشق کرائی جائے گی۔

'یہ ایک مسجد ہے' کا عربی ترجمہ

﴿هَذَا مَسْجِدٌ

ہے، جس میں هَذَا اشارہ کر رہا ہے اور مَسْجِدٌ خبر ہے۔ 'کیا یہ مسجد ہے؟ ہاں، یہ مسجد ہے' کا ترجمہ

﴿هَلْ هَذَا مَسْجِدٌ؟ نَعَمْ، هَذَا مَسْجِدٌ

ہوگا، جس میں هَلْ سوال بنانے کے لیے شروع میں لگایا گیا اور نَعَمْ سے اثباتی جواب دیا گیا۔ یہ دونوں مثالیں سبق کے دونوں بنیادی جملوں یعنی جملہ اسمیہ اور سوالیہ جملے کی عملی مشق ہیں۔

اس سبق میں طالب علم نے تین بنیادی چیزیں سیکھیں: هَذَا سے قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنا، مَا سے کسی چیز کی شناخت دریافت کرنا، اور هَلْ سے ہاں نہیں کا سوال بنانا، ساتھ ہی اسم، فعل اور حرف کی بنیادی تقسیم بھی۔ یہ تمام باتیں آئندہ اسباق کی بنیاد ہیں کیونکہ دوسرے سبق میں مَنْ کے ذریعے انسانوں کی شناخت، اور تنوین و ال تعریف جیسے مباحث اسی جملہ اسمیہ کی ساخت پر تعمیر کیے جائیں گے۔

سبق 2۔ من ھذا؟، تنوین اور ال تعریف

مَنْ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب سوال کسی ذی روح انسان کے بارے میں ہو، جیسے

﴿مَنْ هَذَا؟ هَذَا رَجُلٌیہ کون ہے؟ یہ آدمی ہے

۔ جبکہ مَا اس وقت استعمال ہوتا ہے جب سوال کسی غیر ذی روح چیز کے بارے میں ہو، جیسے

﴿مَا هَذَا؟ هَذَا كِتَابٌیہ کیا ہے؟ یہ کتاب ہے

۔ دونوں سوالیہ کلمات هَذَا کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، مگر ان کا انحصار اس پر ہے کہ مذکورہ چیز جاندار انسان ہے یا بے جان شے۔

تنوین اسم کے آخر پر لگنے والی وہ دو حرکتیں (دو زبر، دو زیر یا دو پیش) ہیں جن سے آخر میں ہلکی نون ساکن کی آواز پیدا ہوتی ہے، جیسے كِتَابٌ میں دو پیش۔ یہ تنوین اس بات کی علامت ہے کہ اسم نکرہ ہے، یعنی غیر معین اور عام، بالکل اسی طرح جیسے اردو میں 'ایک کتاب' کہا جاتا ہے جس سے کوئی خاص کتاب مراد نہیں ہوتی بلکہ کوئی بھی کتاب مراد ہو سکتی ہے۔

جب کسی نکرہ اسم کے شروع میں ال لگایا جاتا ہے تو وہ اسم معرفہ بن جاتا ہے، یعنی معین اور مخصوص چیز کی نشاندہی کرنے لگتا ہے، اور ساتھ ہی اس کے آخر کی تنوین ختم ہو کر صرف ایک حرکت رہ جاتی ہے۔ مثلاً كِتَابٌ (ایک کتاب) سے الْكِتَابُ (وہ مخصوص کتاب) بنتا ہے، اور قَلَمٌ سے الْقَلَمُ بنتا ہے۔ یوں تنوین اور ال ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتے، یعنی کسی اسم پر یا تو تنوین ہوگی یا ال، دونوں بیک وقت نہیں لگتیں۔

نکرہ وہ اسم ہے جو کسی غیر معین اور عام فرد یا چیز پر دلالت کرے، جیسے

﴿رَجُلٌکوئی ایک آدمی

۔ معرفہ وہ اسم ہے جو کسی معین، پہلے سے معلوم یا سامنے موجود مخصوص چیز پر دلالت کرے، جیسے

﴿الرَّجُلُوہی مخصوص آدمی جس کا ذکر یا اشارہ ہو رہا ہے

۔ فرق یہ ہے کہ نکرہ عمومیت اور معرفہ تعیین ظاہر کرتا ہے، اور یہی فرق جملے کے معنی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

﴿رَجُلٌ

کا مطلب ہے کوئی ایک عام آدمی، جس کا کوئی خاص تعین نہیں، جبکہ

﴿الرَّجُلُ

کا مطلب ہے وہ خاص آدمی جو یا تو پہلے ذکر ہو چکا ہو یا سامنے موجود ہو یا سیاق و سباق سے متعین ہو۔ مثال کے طور پر پہلی بار تعارف کے لیے

﴿هَذَا رَجُلٌ

کہا جائے گا، لیکن اگلے جملے میں اسی شخص کا حوالہ دیتے ہوئے

﴿الرَّجُلُ فَلَّاحٌوہ آدمی کسان ہے

کہا جا سکتا ہے۔

فعل ماضی وہ فعل ہے جو کسی ایسے کام پر دلالت کرے جو گزرے ہوئے زمانے میں مکمل ہو چکا ہو۔ اس کی مثال ماڈل فعل

﴿كَتَبَاس نے لکھا

ہے، جو تین حرفی مادّہ ک-ت-ب سے بنا ہے۔ فعل ماضی کا صیغہ فاعل کی جنس، تعداد اور شخص کے مطابق بدلتا رہتا ہے، اور اسی وجہ سے عربی میں ایک ہی فعل کے چودہ مختلف صیغے ہوتے ہیں، جن میں سے اس سبق میں صرف غائب کے صیغے متعارف کرائے گئے ہیں۔

مذکر واحد غائب کے لیے

﴿هُوَ كَتَبَاس نے لکھا

، مؤنث واحد غائب کے لیے

﴿هِيَ كَتَبَتْاس نے لکھا

، تثنیہ مذکر غائب کے لیے

﴿هُمَا كَتَبَاان دونوں نے لکھا

، اور جمع مذکر غائب کے لیے

﴿هُمْ كَتَبُواانہوں نے لکھا

استعمال ہوتا ہے۔ ان صیغوں میں فرق صرف فاعل کی جنس اور تعداد کی بنا پر آخری حروف کے اضافے سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ فعل کا بنیادی مادّہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔

﴿الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ

کا اردو ترجمہ ہے 'اس طالبہ نے لکھا'۔ اس جملے میں الطَّالِبَةُ فاعل ہے، جو معرفہ اور مؤنث ہے، اور اس کے مطابق فعل بھی مؤنث واحد غائب کے صیغے یعنی كَتَبَتْ کی صورت میں آیا ہے۔ یہاں تاء ساکن (كَتَبَتْ کے آخر میں) اس بات کی علامت ہے کہ فاعل مؤنث ہے، اور یہی اصول عربی کی تمام افعال میں فاعل کی مطابقت کے لیے لاگو ہوتا ہے۔

اس سبق کے چار بنیادی نکات یہ ہیں: مَنْ سے انسانوں کی شناخت پوچھنا، تنوین سے نکرہ کی علامت، ال تعریف سے معرفہ اسم کی تشکیل، اور فعل ماضی کے غائب صیغے۔ یہ سبق پہلے سبق پر اس طرح تعمیر ہوتا ہے کہ پہلے سبق میں سیکھا گیا جملہ اسمیہ

﴿هَذَا كِتَابٌ

اب مزید وسیع ہو کر معرفہ و نکرہ کی بحث اور فعل ماضی جیسے نئے عناصر کو بھی سموتا ہے، جس سے جملہ سازی کی صلاحیت بتدریج بڑھتی ہے۔

سبق 3۔ أین؟ اور بنیادی ظروف مکان

أَيْنَ سوالیہ کلمہ ہے جو کسی چیز یا شخص کے مقام کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے

﴿أَيْنَ الْكِتَابُ؟کتاب کہاں ہے؟

۔ عموماً اس کے بعد معرفہ اسم آتا ہے، یعنی ال تعریف والا اسم، کیونکہ سوال اسی چیز کے بارے میں ہوتا ہے جو پہلے سے معلوم یا متعین ہو۔ جواب میں مناسب ظرف مکان یا حرف جر استعمال کر کے مقام بتایا جاتا ہے، جیسے

﴿الْكِتَابُ عَلَى الْمَكْتَبِ

۔

فِي کا مطلب ہے 'میں' یعنی کسی چیز کے اندر ہونا، جیسے

﴿الْقَلَمُ فِي الْبَيْتِقلم گھر میں ہے

۔ جبکہ عَلَى کا مطلب ہے 'پر' یعنی کسی چیز کی سطح پر ہونا، جیسے

﴿الْكِتَابُ عَلَى الْمَكْتَبِکتاب میز پر ہے

۔ دونوں حروفِ جر ہیں اور اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کر دیتے ہیں، یعنی اس کی آخری حرکت زیر میں بدل جاتی ہے، جیسے الْبَيْتِ اور الْمَكْتَبِ میں۔

تَحْتَ کا مطلب ہے 'کے نیچے'، جیسے

﴿الْقِطُّ تَحْتَ الْمَكْتَبِبلی میز کے نیچے ہے

۔ أَمَامَ کا مطلب ہے 'کے سامنے'، جیسے

﴿الْمَسْجِدُ أَمَامَ الْبَيْتِمسجد گھر کے سامنے ہے

۔ وَرَاءَ کا مطلب ہے 'کے پیچھے'، جیسے

﴿الْحَدِيقَةُ وَرَاءَ الْبَيْتِباغ گھر کے پیچھے ہے

۔ یہ تینوں ظروف مکان اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور رکھتے ہیں۔

جب کوئی حرف جر، جیسے فِي یا عَلَى، کسی اسم کے ساتھ مل کر آتا ہے تو اس مجموعی ترکیب کو جار و مجرور کہا جاتا ہے۔ جار وہ حرف ہے جو اسم کی حالت بدل کر اسے مجرور بناتا ہے، یعنی اس پر زیر لگ جاتی ہے، اور مجرور وہ اسم ہے جس پر یہ اثر پڑتا ہے۔ جار و مجرور اکثر جملے میں خبر کا کردار ادا کرتا ہے، جیسے

﴿الْكِتَابُ عَلَى الْمَكْتَبِ

میں عَلَى الْمَكْتَبِ پوری ترکیب خبر ہے۔

فعل ماضی کے مخاطب صیغے فعل کے مادّے کے ساتھ ضمیر متصل لگا کر بنائے جاتے ہیں۔ مذکر مخاطب کے لیے كَتَبَ کے ساتھ تَ لگا کر

﴿أَنْتَ كَتَبْتَتُو نے لکھا

بنتا ہے، اور مؤنث مخاطب کے لیے تِ لگا کر

﴿أَنْتِ كَتَبْتِتُو نے لکھا، مؤنث

بنتا ہے۔ ان دونوں صیغوں میں فرق صرف آخری حرکت کا ہے، تَ مذکر کے لیے اور تِ مؤنث کے لیے، اور یہ فرق زبان اور تلفظ میں نہایت اہم ہے۔

متکلم واحد یعنی اپنی ذات کے لیے أَنَا کے ساتھ

﴿أَنَا كَتَبْتُمیں نے لکھا

استعمال ہوتا ہے، جس میں فعل کے آخر میں تُ لگتا ہے۔ متکلم جمع یعنی 'ہم' کے لیے نَحْنُ کے ساتھ

﴿نَحْنُ كَتَبْنَاہم نے لکھا

استعمال ہوتا ہے، جس میں آخر میں نَا لگتا ہے۔ یہ دونوں صیغے متکلم کے زمرے میں آتے ہیں اور ماضی کی گردان کے آخری دو صیغے ہیں۔

فعل ماضی کے چودہ صیغے تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں: پہلا گروہ غائب کا ہے جس میں هُوَ، هِيَ، هُمَا (مذکر و مؤنث)، هُمْ، هُنَّ شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جن کا ذکر تیسرے شخص کے طور پر ہو رہا ہو۔ دوسرا گروہ حاضر یا مخاطب کا ہے جس میں أَنْتَ، أَنْتِ، أَنْتُمَا، أَنْتُمْ، أَنْتُنَّ شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جن سے براہ راست بات کی جا رہی ہو۔ تیسرا گروہ متکلم کا ہے جس میں أَنَا اور نَحْنُ شامل ہیں، یعنی خود بولنے والا۔

غائب: هُوَ كَتَبَ، هِيَ كَتَبَتْ، هُمَا (مذکر) كَتَبَا، هُمَا (مؤنث) كَتَبَتَا، هُمْ كَتَبُوا، هُنَّ كَتَبْنَ۔ حاضر: أَنْتَ كَتَبْتَ، أَنْتِ كَتَبْتِ، أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا، أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ، أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ۔ متکلم: أَنَا كَتَبْتُ، نَحْنُ كَتَبْنَا۔ ان چودہ صیغوں کو ترتیب سے یاد رکھنا آئندہ اسباق میں فعل مضارع کی گردان سمجھنے کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

﴿الْكِتَابُ عَلَى الْمَكْتَبِ

کا ترجمہ ہے 'کتاب میز پر ہے'، جس میں عَلَى الْمَكْتَبِ جار و مجرور کی ترکیب ہے جو ظرف مکان کا کردار ادا کر رہی ہے۔

﴿أَنْتَ كَتَبْتَ

کا ترجمہ ہے 'تُو نے لکھا'، جس میں فعل ماضی کا مخاطب مذکر صیغہ استعمال ہوا ہے۔ یہ دونوں جملے اس سبق کے دو بنیادی موضوعات یعنی ظروف مکان اور فعل ماضی کی مکمل گردان کی عملی مثالیں ہیں۔

سبق 4۔ مؤنث اشارہ (ھذہ، تلک، ذلک) اور اضافت

علامتِ تانیث سے مراد وہ نشانی ہے جو کسی اسم کے مؤنث ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عربی میں یہ عام طور پر تاء مربوطہ (ة) کی صورت میں اسم کے آخر میں آتی ہے، جیسے

﴿سَيَّارَةٌگاڑی

اور

﴿حَقِيبَةٌبیگ

۔ ایسے اسماء کے بغیر تاء مربوطہ کے، جیسے

﴿بَابٌ

اور

﴿كِتَابٌ

، عام طور پر مذکر ہوتے ہیں۔ یہ فرق نہایت اہم ہے کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس اسم کے ساتھ کون سا اسم اشارہ اور کون سی صفت استعمال ہوگی۔

ھذہ اسم اشارہ قریب کا مؤنث صیغہ ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی نزدیک موجود مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ مثال کے طور پر

﴿هَذِهِ سَيَّارَةٌ

کا مطلب ہے یہ ایک گاڑی ہے، اور

﴿هَذِهِ حَقِيبَةٌ

کا مطلب یہ ایک بیگ ہے۔ اگر اشارہ مذکر اسم کی طرف ہو تو اس کے بجائے ھذا استعمال کیا جائے گا، کیونکہ اسم اشارہ اور مشار الیہ کی جنس میں موافقت ضروری ہے۔

تلک اور ذلک دونوں اسمائے اشارہ بعید ہیں، یعنی دور کی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر جنس کے اعتبار سے فرق رکھتے ہیں۔ ذلک مذکر اسم کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے

﴿ذَلِكَ كِتَابٌوہ ایک کتاب ہے

، جبکہ تلک مؤنث اسم کے لیے آتا ہے، جیسے

﴿تِلْكَ سَيَّارَةٌوہ ایک گاڑی ہے

۔ اس طرح اسمائے اشارہ کا انتخاب ہمیشہ مشار الیہ کی جنس پر منحصر ہوتا ہے۔

اضافت ایک ایسی ترکیب ہے جس میں دو اسم آپس میں ملا کر ملکیت یا نسبت کا مفہوم دیتے ہیں۔ پہلا اسم مضاف کہلاتا ہے اور دوسرا مضاف الیہ۔ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین لگتی ہے، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿بَابُ الْبَيْتِ

میں باب مضاف ہے اور البیت مضاف الیہ مجرور ہے، جس کا مجموعی مطلب ہے گھر کا دروازہ۔

مضاف الیہ کی اعرابی حالت ہمیشہ جر (مجرور) ہوتی ہے، خواہ پورا جملہ کسی بھی اعرابی حیثیت میں ہو۔ یہ عربی گرامر کا ایک مستقل اصول ہے کہ اضافت کی ترکیب میں دوسرا جزو کبھی مرفوع یا منصوب نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

میں الطالب ہمیشہ زیر کے ساتھ آئے گا، چاہے کتاب مرفوع ہو، منصوب ہو یا مجرور ہو، کیونکہ جر کا تعلق مضاف الیہ کے اپنے مقام سے ہے نہ کہ جملے کی مجموعی ترکیب سے۔

﴿مِفْتَاحُ السَّيَّارَةِ

ایک اضافت کی مثال ہے جس کا ترجمہ ہے گاڑی کی چابی۔ اس میں مفتاح مضاف ہے، اس لیے اس پر نہ ال آیا ہے نہ تنوین، اور اس کا اعراب اس کے جملے میں مقام کے مطابق بدل سکتا ہے۔ السیارۃ مضاف الیہ ہے اور ہمیشہ مجرور رہے گا، جیسا کہ یہاں کسرہ سے ظاہر ہے۔ یہ مثال اضافت کے بنیادی اصول کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے۔

فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال یا مستقبل کے زمانے میں کسی کام کے واقع ہونے کی خبر دیتا ہے، جبکہ فعل ماضی گزرے ہوئے زمانے کے کام کی خبر دیتا ہے۔ فعل مضارع، فعل ماضی کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے مگر اس کے شروع میں ایک خاص حرف کا اضافہ کیا جاتا ہے جو زمانہ حال یا مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثلاً ماضی

﴿كَتَبَ

سے مضارع

﴿يَكْتُبُ

بنتا ہے۔

حروفِ مضارعت چار ہیں: أ، ن، ي، ت، اور انہیں مجموعی طور پر یاد رکھنے کے لیے أنيت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چاروں حروف مختلف ضمائر کے ساتھ فعل مضارع کے شروع میں لگتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فعل کس فاعل سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر ی کا حرف غائب مذکر کے لیے، ت کا حرف غائب مؤنث اور مخاطب کے لیے، اور أ کا حرف متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

﴿كَتَبَ

فعل ماضی ہے جس کا مطلب ہے اس نے لکھا۔ اس سے فعل مضارع بنانے کے لیے شروع میں حرفِ مضارعت ی کا اضافہ کیا گیا اور فعل کی اندرونی حرکات کو مضارع کے مطابق تبدیل کیا گیا، جس سے

﴿يَكْتُبُ

بنا، یعنی وہ لکھتا ہے۔ یہ عمل ہر صحیح فعل کے ساتھ اسی طرح دہرایا جاتا ہے، مگر بعض افعال میں درمیانی حرکت مختلف ہو سکتی ہے، جسے اگلے اسباق میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔

سبق 5۔ ضمائر غائب (ہو، ہی) اور نعت و منعوت

ضمائر منفصلہ غائب وہ الفاظ ہیں جو کسی غیر حاضر شخص یا چیز کی جگہ لیتے ہیں تاکہ اسم کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ پانچ ہیں: ھو (مذکر واحد)، ھی (مؤنث واحد)، ھما (دونوں)، ھم (مذکر جمع) اور ھن (مؤنث جمع)۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ جملے مختصر اور روانی والے بن جاتے ہیں، جیسے پہلے ھذا طالب کہنے کے بعد دوبارہ ذکر کے لیے صرف ھو طالب کہا جا سکتا ہے۔

دونوں جملوں میں ضمیر اور خبر کے درمیان جنس کی مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔

﴿هُوَ طَالِبٌ

میں ھو مذکر ضمیر ہے اور طالب مذکر خبر ہے، اس لیے یہ درست جملہ ہے۔ اسی طرح

﴿هِيَ مُدَرِّسَةٌ

میں ھی مؤنث ضمیر ہے اور مدرسۃ مؤنث خبر ہے۔ اگر جنس میں فرق ہو، مثلاً ھی کے ساتھ مذکر خبر لگا دی جائے، تو جملہ گرامر کے اعتبار سے غلط ہو جائے گا۔

نعت وہ لفظ ہے جو کسی اسم کی صفت یا خاصیت بیان کرتا ہے، اور جس اسم کی صفت بیان کی جائے اسے منعوت یا موصوف کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿بَيْتٌ كَبِيرٌ

میں بیت منعوت ہے اور کبیر نعت ہے، اور اس کا ترجمہ ہے ایک بڑا گھر۔ نعت ہمیشہ منعوت کے بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار اعتبار سے مطابقت رکھتی ہے۔

نعت اور منعوت میں چار اصولوں کے مطابق مکمل مطابقت ضروری ہے: پہلا جنس، یعنی دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث؛ دوسرا عدد، یعنی دونوں واحد، تثنیہ یا جمع ہوں؛ تیسرا تعریف و تنکیر، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ؛ اور چوتھا اعراب، یعنی نعت کا اعراب منعوت کے اعراب کے مطابق ہوگا۔ ان چاروں میں سے کسی ایک میں بھی فرق آ جائے تو ترکیب غلط ہو جائے گی۔

﴿الْكِتَابُ الْجَدِيدُ

میں منعوت الکتاب معرفہ ہے کیونکہ اس پر ال لگا ہوا ہے، اور نعت الجدید بھی معرفہ ہے کیونکہ اس پر بھی ال موجود ہے۔ اگر نعت کو نکرہ رکھا جاتا، یعنی صرف جدید بغیر ال کے، تو تعریف و تنکیر کی مطابقت ٹوٹ جاتی اور ترکیب درست نہ رہتی۔ اس مثال کا ترجمہ ہے نئی کتاب۔

غائب مذکر کے لیے تین صیغے ہیں: ھو کے لیے

﴿يَكْتُبُ

، ھما مذکر کے لیے

﴿يَكْتُبَانِ

، اور ھم کے لیے

﴿يَكْتُبُونَ

۔ غائبہ مؤنث کے لیے: ھی کے لیے

﴿تَكْتُبُ

، ھما مؤنث کے لیے

﴿تَكْتُبَانِ

، اور ھن کے لیے

﴿يَكْتُبْنَ

۔ یاد رہے کہ ھن کے صیغے میں یاء غائب کا حرفِ مضارعت استعمال ہوتا ہے، جو ایک خاص استثنائی صورت ہے۔

حاضر مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ

﴿تَكْتُبُ

، أنتما کے ساتھ

﴿تَكْتُبَانِ

، اور أنتم کے ساتھ

﴿تَكْتُبُونَ

۔ حاضرہ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ

﴿تَكْتُبِينَ

، أنتما کے ساتھ

﴿تَكْتُبَانِ

، اور أنتن کے ساتھ

﴿تَكْتُبْنَ

۔ متکلم کے لیے أنا کے ساتھ

﴿أَكْتُبُ

اور نحن کے ساتھ

﴿نَكْتُبُ

استعمال ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر چودہ صیغے مکمل ہو جاتے ہیں۔

فعل مضارع کے سلسلے میں تین بنیادی اعرابی حالتیں ہیں۔ رفع کی علامت ضمہ (پیش) ہے، جیسے

﴿يَكْتُبُ

کے آخر میں۔ نصب کی علامت فتحہ (زبر) ہے، اور جزم کی علامت سکون ہے، جیسے

﴿لا تَكْتُبْ

میں۔ عام طور پر فعل مضارع جب کسی خاص حرف سے پہلے نہ آئے تو وہ مرفوع رہتا ہے۔

فعل مضارع اپنی عام (پہلی) حالت میں مرفوع ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر میں ضمہ آتی ہے، جیسے

﴿يَكْتُبُ

اور

﴿تَكْتُبُ

۔ یہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی ناصب حرف (جو نصب کا سبب بنے) یا جازم حرف (جو جزم کا سبب بنے) اس سے پہلے نہ آئے۔ جیسے ہی کوئی ایسا حرف آئے گا، فعل کی آخری حرکت تبدیل ہو کر فتحہ یا سکون میں بدل جائے گی، جیسا کہ نہی کے مبحث میں دیکھا جائے گا۔

سبق 6۔ ضمائر متکلم و مخاطب، فعل امر و نہی

ضمائر مخاطب پانچ ہیں: أنتَ سامنے موجود مذکر واحد کے لیے، أنتِ مؤنث واحد کے لیے، أنتما دونوں جنسوں کے تثنیہ کے لیے، أنتم مذکر جمع کے لیے، اور أنتن مؤنث جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿أَنْتَ طَالِبٌ

کا مطلب ہے تُو ایک طالب علم ہے، اور

﴿أَنْتِ طَالِبَةٌ

کا مطلب ہے تُو ایک طالبہ ہے۔ ان ضمائر کا صحیح انتخاب مخاطب کی جنس اور تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔

أنا متکلم واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی خود بات کرنے والا شخص، اور اس کا معنی میں ہے۔ نحن متکلم جمع کے لیے آتا ہے اور اس کا معنی ہم ہے، جو دو یا زیادہ افراد کی طرف سے بات ہونے پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دونوں ضمائر مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے مشترک ہیں، اس لیے ان کی صورت جنس کے مطابق تبدیل نہیں ہوتی۔

فعل امر وہ فعل ہے جو کسی کام کے کرنے کا حکم دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اصل میں فعل مضارع مجزوم سے ماخوذ ہوتا ہے، یعنی مضارع کی مخاطب والی شکل سے حرفِ مضارعت گرا کر اور ضرورت پڑنے پر ہمزہ وصل لگا کر بنایا جاتا ہے۔ چونکہ اس کی بنیاد مضارع مجزوم ہے، اس لیے اس میں جزم کا اثر پوشیدہ طور پر موجود رہتا ہے۔

سب سے پہلے فعل مضارع

﴿تَكْتُبُ

سے حرفِ مضارعت ت کو گرایا گیا، جس سے كْتُبْ باقی بچا۔ چونکہ اس کا پہلا حرف ک ساکن رہ گیا تھا اور عربی میں کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہو سکتا، اس لیے شروع میں ایک اضافی ہمزہ وصل لگا دی گئی۔ اس طرح مکمل فعل امر

﴿اُكْتُبْ

بن گیا، جس کا معنی ہے لکھو۔

مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ

﴿اُكْتُبْ

، أنتما کے ساتھ

﴿اُكْتُبَا

، اور أنتم کے ساتھ

﴿اُكْتُبُوا

۔ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ

﴿اُكْتُبِي

، أنتما کے ساتھ

﴿اُكْتُبَاتثنیہ میں دونوں جنسوں کا صیغہ ایک جیسا ہوتا ہے

، اور أنتن کے ساتھ

﴿اُكْتُبْنَ

۔ اس طرح فعل امر کے کل پانچ الگ الگ صیغے ہیں جو صرف مخاطب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

فعل نہی وہ فعل ہے جو کسی کام سے روکنے یا منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے بنانے کے لیے حرفِ نہی لا، جسے لا الناہیہ کہا جاتا ہے، فعل مضارع مجزوم کے شروع میں لگایا جاتا ہے، اور امر کے برخلاف اس میں حرفِ مضارعت کو گرایا نہیں جاتا۔ مثال کے طور پر

﴿لَا تَكْتُبْ

کا معنی ہے مت لکھو۔

﴿لَا تَكْتُبُوا

مذکر جمع مخاطب (أنتم) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تم سب مت لکھو۔

﴿لَا تَكْتُبِي

مؤنث واحد مخاطب (أنتِ) کے لیے ہے اور اس کا معنی ہے تُو مت لکھ۔ دونوں جملوں میں لا الناہیہ کے بعد فعل مضارع مجزوم آیا ہے، مگر صیغہ مخاطب کی جنس اور تعداد کے مطابق مختلف ہے۔

امر اور نہی دونوں کی بنیاد فعل مضارع مجزوم پر ہے، یعنی دونوں میں فعل کی آخری حرکت سکون (جزم) ہوتی ہے۔ نہی میں یہ سکون واضح طور پر نظر آتا ہے، جیسے

﴿لَا تَكْتُبْ

میں، جبکہ امر میں چونکہ حرفِ مضارعت گرا دیا جاتا ہے، اس لیے جزم کا اثر بالواسطہ طور پر موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کو مضارع مجزوم سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔

فعل امر کا مقصد کسی کو حکم دینا ہوتا ہے، اور حکم ہمیشہ سامنے موجود شخص کو دیا جاتا ہے، اس لیے فعل امر صرف دوسرے شخص یعنی مخاطب کے پانچ صیغوں (أنتَ، أنتِ، أنتما، أنتم، أنتن) میں پایا جاتا ہے۔ غائب یا متکلم کے لیے براہ راست امر نہیں بنایا جاتا، بلکہ ان کے لیے دوسری ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں جو آئندہ اسباق میں پڑھائی جائیں گی۔

سبق 7۔ رنگ و اعداد؛ اسم الفاعل و اسم المفعول

عربی میں بنیادی رنگ عام طور پر مذکر کے لیے أَفْعَل اور مؤنث کے لیے فَعْلَاء کے وزن پر آتے ہیں، جیسے أَحْمَر اور حَمْرَاء۔ یہ وزن عام صفات سے مختلف ہے کیونکہ عام صفات میں مؤنث بنانے کے لیے صرف تاء مربوطہ لگائی جاتی ہے، جبکہ یہاں پورا وزن ہی بدل جاتا ہے۔ یہی وزن جسمانی عیوب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے أَعْرَج (لنگڑا)۔ چونکہ رنگ نعت ہیں اس لیے یہ اپنے موصوف کی جنس، عدد اور اعراب کے مطابق بدلتے ہیں، جیسے قَلَمٌ أَحْمَرُ اور وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ۔ طالب علم کو ہر رنگ کی دونوں صورتیں یاد کرنی چاہئیں۔

پہلی مثال میں قَلَمٌ مذکر اسم ہے، اس لیے اس کی صفت بھی مذکر وزن أَحْمَر پر لائی گئی ہے۔ دوسری مثال میں وَرْدَةٌ مؤنث اسم ہے (تاء مربوطہ کی وجہ سے)، اس لیے اس کی صفت مؤنث وزن حَمْرَاء پر لائی گئی۔ یہ عربی گرامر کا بنیادی اصول ہے کہ نعت ہمیشہ اپنے منعوت کے ساتھ جنس، عدد، معرفہ/نکرہ اور اعراب میں مطابقت رکھتی ہے۔ دونوں مثالوں میں نعت و منعوت دونوں نکرہ اور مرفوع ہیں، اسی مطابقت کی وجہ سے جملہ گرامری طور پر درست بنا ہے۔

اعداد یہ ہیں: وَاحِدٌ، اثْنَانِ، ثَلَاثَةٌ، أَرْبَعَةٌ، خَمْسَةٌ، سِتَّةٌ، سَبْعَةٌ، ثَمَانِيَةٌ، تِسْعَةٌ، عَشَرَةٌ۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ عدد تین سے دس تک کے بعد آنے والا معدود اکثر جمع اور مجرور کی حالت میں آتا ہے، جیسے ثَلَاثَةُ كُتُبٍ (تین کتابیں) اور خَمْسَةُ أَقْلَامٍ (پانچ قلم)۔ اس سبق میں صرف بنیادی گنتی اور اس مختصر اصول پر اکتفا کیا گیا ہے، جبکہ مذکر مؤنث کی مخالفتِ جنس والا مکمل قاعدہ آئندہ اسباق میں تفصیل سے سمجھایا جائے گا۔

اسم الفاعل وہ مشتق اسم ہے جو فعل انجام دینے والے شخص یا چیز کو ظاہر کرتا ہے، یعنی اس کا معنی 'کرنے والا' ہوتا ہے۔ فعلِ ثلاثی مجرد سے اس کا وزن ہمیشہ فَاعِل آتا ہے۔ مثال کے طور پر کَتَبَ سے كَاتِبٌ (لکھنے والا)، قَرَأَ سے قَارِئٌ (پڑھنے والا) اور فَتَحَ سے فَاتِحٌ (کھولنے والا) بنایا جاتا ہے۔ اسم الفاعل جملے میں بطور نعت، خبر یا حتیٰ کہ فاعل کے قائم مقام بھی استعمال ہو سکتا ہے، اور یہ مذکر، مؤنث، واحد و جمع میں ڈھل جاتا ہے۔

اسم المفعول وہ مشتق اسم ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل واقع ہوا ہو، یعنی اس کا معنی 'جس پر کام کیا گیا' ہوتا ہے۔ ثلاثی مجرد فعل سے اس کا وزن ہمیشہ مَفْعُول آتا ہے۔ مثلاً کَتَبَ سے مَكْتُوبٌ (لکھا ہوا) اور فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھولا ہوا/کھلا) بنتا ہے۔ جملوں میں یہ نعت اور خبر دونوں طرح آتا ہے، جیسے الْبَابُ مَفْتُوحٌ (دروازہ کھلا ہے) اور هَذَا كِتَابٌ مَكْتُوبٌ بِالْعَرَبِيَّةِ (یہ عربی میں لکھی گئی کتاب ہے)۔

اسم الفاعل کا وزن فَاعِل ہے اور یہ فعل کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، جیسے كَاتِبٌ یعنی لکھنے والا۔ اسم المفعول کا وزن مَفْعُول ہے اور یہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل واقع ہوا، جیسے مَكْتُوبٌ یعنی لکھا ہوا۔ دونوں ثلاثی مجرد فعل سے مشتق ہوتے ہیں مگر ان کا صیغہ اور معنی بالکل مخالف سمت رکھتا ہے، ایک فاعل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا مفعول کی طرف۔ دونوں کی پہچان کے لیے وزن کا فرق ہی سب سے بڑا معیار ہے۔

أَبْيَضُ کی مؤنث بَيْضَاءُ ہے اور أَسْوَدُ کی مؤنث سَوْدَاءُ ہے۔ ان کو مؤنث اسم کے ساتھ بطور نعت استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے

﴿هَذِهِ وَرْدَةٌ بَيْضَاءُیہ ایک سفید گلاب ہے

اور

﴿الْقِطَّةُ سَوْدَاءُبلی کالی ہے

۔ چونکہ وَرْدَةٌ اور قِطَّةٌ دونوں مؤنث اسم ہیں، اس لیے ان کی صفت بھی مؤنث وزن فَعْلَاء پر لائی گئی ہے۔ یہی اصول ہر رنگ کی نعت پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے طالب علم کو ہر رنگ کا مذکر مؤنث جوڑا زبانی یاد ہونا چاہیے۔

جی ہاں، دونوں کی جمع سالم اور مکسر دونوں طریقوں سے آ سکتی ہے۔ مثلاً كَاتِبٌ کی جمع مذکر سالم كَاتِبُونَ اور جمع مکسر كُتَّابٌ آتی ہے، جبکہ مَكْتُوبٌ کی جمع مَكْتُوبَاتٌ (مؤنث اشیاء کے لیے) بھی آتی ہے۔ جملے میں یہ اپنے موصوف کے عدد کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں، جیسے

﴿الطُّلَّابُ كَاتِبُونَطلبہ لکھنے والے ہیں

۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مشتقات محض واحد تک محدود نہیں بلکہ مکمل اسمی تصریف رکھتے ہیں۔

ان تینوں موضوعات کو ایک ہی جملے میں یوں جمع کیا جا سکتا ہے:

﴿كَتَبْتُ ثَلَاثَةَ كُتُبٍ حَمْرَاءَمیں نے تین سرخ کتابیں لکھیں

۔ اس جملے میں عدد ثَلَاثَة، معدود كُتُب اور رنگ حَمْرَاء بطور نعت ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں، اور فعل كَتَبْتُ خود اسم الفاعل كَاتِب کی جڑ سے ماخوذ ہے۔ اس طرح کی مشقی مثالیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ گرامر کے مختلف اجزاء کس طرح ایک فصیح اور روزمرہ جملے میں یکجا ہوتے ہیں۔

سبق 8۔ جمع تکسیر و سالم؛ مزید مشتقات

جمع تکسیر وہ جمع ہے جس میں واحد اسم کی اندرونی ساخت یعنی حروف کی ترتیب اور حرکات بدل جاتی ہیں، محض کوئی لاحقہ نہیں لگایا جاتا۔ مثلاً كِتَابٌ کی جمع كُتُبٌ اور رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ بنتی ہے۔ اس کے برعکس جمع سالم میں واحد اسم جوں کا توں رہتا ہے اور صرف آخر میں ایک لاحقہ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے مُسْلِمٌ سے مُسْلِمُونَ۔ چونکہ جمع تکسیر کے اوزان غیر یکساں اور بے قاعدہ ہیں، اس لیے ہر لفظ کی جمع الگ سے زبانی یاد کرنا ضروری ہے۔

بَيْتٌ کی جمع تکسیر بُيُوتٌ ہے، وَلَدٌ کی جمع أَوْلَادٌ ہے، اور قَلَمٌ کی جمع أَقْلَامٌ ہے۔ یہ تینوں مثالیں مختلف اوزان پر آئی ہیں، یعنی بُيُوتٌ فُعُول کے وزن پر، أَوْلَادٌ اور أَقْلَامٌ أَفْعَال کے وزن پر ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض اوقات ایک ہی وزن دہرایا جاتا ہے، مگر عمومی اصول یہ ہے کہ ہر لفظ کی جمع تکسیر کا وزن پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ لغت سے معلوم کیا جاتا ہے۔

جمع مذکر سالم واحد اسم کے آخر میں حالتِ رفع میں ونَ اور حالتِ نصب و جر میں ينَ کے اضافے سے بنتی ہے، اور واحد کا باقی حصہ بغیر کسی داخلی تبدیلی کے قائم رہتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمٌ کی جمع رفع کی حالت میں مُسْلِمُونَ اور نصب و جر کی حالت میں مُسْلِمِينَ آتی ہے۔ یہ جمع بنیادی طور پر عاقل مذکر اسموں، خصوصاً اسم الفاعل کی نوعیت کے الفاظ کے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسے

﴿هَؤُلَاءِ مُسْلِمُونَیہ لوگ مسلمان ہیں

۔

جمع مؤنث سالم بنانے کے لیے واحد اسم کی تاء مربوطہ ہٹا کر اس کی جگہ اتٌ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً مُسْلِمَةٌ کی جمع مُسْلِمَاتٌ بنتی ہے۔ یہ جمع مؤنث اسموں کے علاوہ بعض غیر عاقل اشیاء کی جمع کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس کی اعرابی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حالتِ نصب بھی کسرہ کے ساتھ آتی ہے، برخلاف جمع مذکر سالم کے جس میں نصب کے لیے فتحہ آتا ہے۔

اسم تفضیل وہ مشتق اسم ہے جو دو یا زیادہ چیزوں کے درمیان موازنہ ظاہر کرتا ہے، یعنی 'زیادہ' یا 'سب سے زیادہ' کا مفہوم دیتا ہے۔ اس کا وزن ہمیشہ أَفْعَل آتا ہے۔ مثلاً كَبِيرٌ (بڑا) سے أَكْبَرُ (زیادہ بڑا یا سب سے بڑا) بنتا ہے، اور صَغِيرٌ سے أَصْغَرُ بنتا ہے۔ سیاق کے مطابق یہ comparative یا superlative دونوں معنی دے سکتا ہے، اور یہ رنگوں کے وزن أَفْعَل سے قریبی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دونوں دراصل ایک ہی خاندان سے ہیں۔

اسم ظرف زمان و مکان وہ مشتق اسم ہے جو کسی فعل کے وقوع کے وقت یا جگہ کو ظاہر کرتا ہے، اور اس کا عام وزن مَفْعَل ہے۔ مثلاً کَتَبَ (اس نے لکھا) سے مَكْتَبٌ بنتا ہے جس کا مطلب لکھنے کی جگہ یعنی دفتر یا میز ہے، اور جَلَسَ (وہ بیٹھا) سے مَجْلِسٌ بنتا ہے جس کا مطلب بیٹھنے کی جگہ یعنی مجلس ہے۔ یہ اسم اکثر روزمرہ زندگی کی جگہوں کے ناموں میں استعمال ہوتا ہے۔

اسم آلہ وہ اسم ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے کوئی کام انجام دیا جائے، یعنی آلہ یا اوزار۔ اس کے مشہور اوزان مِفْعَال، مِفْعَل اور مِفْعَلَة ہیں۔ مثلاً مِفْتَاحٌ (چابی) وہ چیز ہے جس سے تالا کھولا جاتا ہے، اور مِكْنَسَةٌ (جھاڑو) وہ چیز ہے جس سے صفائی کی جاتی ہے۔ یہ الفاظ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے ناموں میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور طالب علم کو ان کے اوزان یاد رکھنے چاہئیں۔

اسم موصول وہ اسم ہے جو اپنے بعد آنے والے جملہ صلہ سے مکمل معنی حاصل کرتا ہے، اور اردو کے لفظ 'جو' کے مترادف ہے۔ الَّذِي مذکر واحد کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ الَّتِي مؤنث واحد کے لیے، اور الَّذِينَ مذکر جمع کے لیے آتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿جَاءَ الَّذِي كَتَبَ الدَّرْسَوہ شخص آیا جس نے سبق لکھا

میں الَّذِي مذکر ہے، جبکہ

﴿رَأَيْتُ الَّتِي فَتَحَتِ الْبَابَ

میں الَّتِي مؤنث کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

جمع مذکر سالم میں حالتِ رفع کے لیے ونَ اور حالتِ نصب و جر کے لیے ينَ استعمال ہوتا ہے، یعنی نصب اور جر دونوں ایک ہی صورت میں آتے ہیں۔ جبکہ جمع مؤنث سالم میں حالتِ رفع کے لیے ضمہ اور حالتِ نصب و جر دونوں کے لیے کسرہ استعمال ہوتا ہے، یعنی نصب کی حالت میں بھی فتحہ کے بجائے کسرہ آتا ہے۔ یہ فرق طالب علموں کے لیے اکثر غلطی کا باعث بنتا ہے اس لیے اسے خاص طور پر یاد رکھنا چاہیے۔

پہلے آٹھ اسباق میں یہ اہم موضوعات آئے ہیں: اسمائے اشارہ (ھذا، ھذہ، ذلک، تلک)، تنوین اور ال کے ذریعے نکرہ و معرفہ کی پہچان، حروفِ جر اور ان کے بعد مجرور اسم کا استعمال، اضافت کی ترکیب یعنی مضاف اور مضاف الیہ کا تعلق، نعت و منعوت کی جنس و اعراب میں مطابقت، فعل ماضی و فعل مضارع کی مکمل گردان، فعل امر و نہی کے احکام، اور آخر میں جمع تکسیر، جمع سالم اور مشتقات یعنی اسم الفاعل، اسم المفعول، اسم تفضیل، اسم ظرف اور اسم آلہ۔ ان سب کو دہرانا امتحان کی بہترین تیاری ہے۔

سبق 9۔ مثنی (تثنیہ)؛ مرکب اضافی و توصیفی

المثنی عربی میں اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی چیز کی صرف دو تعداد ظاہر کرے۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ حالتِ رفع میں واحد اسم کے آخر میں ـَانِ کا اضافہ کیا جاتا ہے، اور حالتِ نصب و جر میں ـَيْنِ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً كِتَابٌ سے مثنی رفع میں كِتَابَانِ اور نصب و جر میں كِتَابَيْنِ بنتا ہے۔ یہ قاعدہ عربی زبان کی خاص صفت ہے کیونکہ اردو یا انگریزی میں واحد اور جمع کے علاوہ کوئی الگ صیغہ موجود نہیں۔

هَذَانِ اسم اشارہ قریب کا مثنی مذکر صیغہ ہے، جبکہ هَاتَانِ اسی کا مثنی مؤنث صیغہ ہے۔ دونوں کا مطلب 'یہ دونوں' ہوتا ہے مگر ان کا استعمال اشارہ کیے جانے والے اسم کی جنس پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر

﴿هَذَانِ كِتَابَانِ

میں چونکہ كِتَابَانِ مذکر ہے، اس لیے هَذَانِ استعمال ہوا، جبکہ

﴿هَاتَانِ سَيَّارَتَانِ

میں سَيَّارَتَانِ مؤنث ہونے کی وجہ سے هَاتَانِ آیا۔ دونوں حالتِ نصب و جر میں بالترتیب هَذَيْنِ اور هَاتَيْنِ بن جاتے ہیں۔

فعل ماضی کی مثنی گردان میں مذکر غائب کی صورت هُمَا كَتَبَا (وہ دونوں مرد لکھے) ہے، جبکہ مؤنث غائب کی صورت هُمَا كَتَبَتَا (وہ دونوں عورتیں لکھیں) ہے۔ دونوں صیغوں میں فعل کے آخر میں الف کا اضافہ مثنی کی علامت ہے، اور مؤنث میں اس سے پہلے تاء التانیث بھی آتی ہے۔ یہ صیغے طالب علم پہلے فعل ماضی کی مکمل گردان میں دیکھ چکا ہے اور اب مثنی اسم کے تناظر میں انہیں دہرایا گیا ہے۔

مرکب اضافی وہ ترکیب ہے جو دو اسموں کے ملاپ سے ملکیت یا نسبت کا معنی پیدا کرتی ہے۔ پہلا جزو مضاف اور دوسرا جزو مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی اعرابی حالت میں ہو، اور مضاف پر نہ ال آتا ہے نہ تنوین۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِطالب علم کی کتاب

میں الطَّالِبِ ہمیشہ مجرور رہے گا۔

مرکب توصیفی وہ ترکیب ہے جس میں ایک موصوف اور اس کی صفت مل کر ایک گرامری اکائی بناتے ہیں۔ اس میں موصوف اور صفت جنس، عدد، معرفہ/نکرہ اور اعراب چاروں میں مطابقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُخوبصورت کتاب

میں الْكِتَابُ موصوف اور الْجَمِيلُ اس کی صفت ہے، دونوں معرفہ (ال کے ساتھ) اور دونوں مرفوع ہیں، اس لیے یہ ایک درست مرکب توصیفی ہے۔

مرکب اضافی میں دونوں اجزاء کا اعراب الگ الگ ہوتا ہے: مضاف کا اعراب جملے میں اس کے مقام کے مطابق بدلتا ہے جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔ اس کے برعکس مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت دونوں کا اعراب یکساں ہوتا ہے، یعنی اگر موصوف مرفوع ہے تو صفت بھی مرفوع ہوگی۔ یہی بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

اور

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ

کی ساخت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

کا معنی 'طالب علم کی کتاب' ہے، یعنی یہاں ملکیت یا نسبت کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ کتاب طالب علم سے متعلق ہے۔ جبکہ

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ

کا معنی 'خوبصورت کتاب' ہے، یعنی یہاں کسی چیز کی ملکیت نہیں بلکہ اس کی ایک صفت یا وصف بیان کیا جا رہا ہے۔ گویا پہلی ترکیب دو الگ اسموں کے تعلق سے بنتی ہے جبکہ دوسری ترکیب ایک اسم اور اس کی صفت کے امتزاج سے بنتی ہے۔

جی ہاں، دونوں تراکیب ایک ہی جملے میں اکٹھی آ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَمِيلُطالب علم کی خوبصورت کتاب

میں پہلے كِتَابُ الطَّالِبِ سے مرکب اضافی بنی ہے، اور پھر الْجَمِيلُ اس پوری اضافت کے مجموعی موصوف یعنی كِتَابُ کی صفت بن کر آیا ہے، اس لیے وہ بھی مرفوع اور معرفہ ہے۔ اس طرح کی مثالیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ عربی جملے کس طرح تہہ در تہہ ترکیبوں سے مل کر بنتے ہیں۔

اس جملے میں هَذَانِ اسم اشارہ مثنی مذکر مبتدا کے طور پر مرفوع ہے، اور كِتَابَانِ اس کی خبر ہے جو مثنی ہونے کی وجہ سے مرفوع حالت میں ـَانِ کے ساتھ آیا ہے۔ چونکہ دونوں مبتدا اور خبر مثنی مذکر ہیں، اس لیے مطابقت مکمل ہے۔ اس جملے کا ترجمہ 'یہ دونوں کتابیں ہیں' ہے، اور اگر یہی جملہ کسی فعل کے مفعول کی حیثیت سے آتا تو كِتَابَيْنِ کی صورت میں ـَيْنِ کے ساتھ آتا۔

سبق 10۔ جمع سالم اور ضمائر جمع؛ فعل صحیح و مضاعف

جمع مذکر سالم واحد کے آخر میں حالتِ رفع میں

﴿ون

اور حالتِ نصب و جر میں

﴿ين

کا اضافہ کر کے بنائی جاتی ہے، جیسے

﴿مُسْلِمٌ

سے

﴿مُسْلِمُونَ

اور

﴿الْمُسْلِمِينَ

۔ جمع مؤنث سالم واحد کی تاء مربوطہ ختم کر کے اس کی جگہ

﴿ات

کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے

﴿مُسْلِمَةٌ

سے

﴿مُسْلِمَاتٌ

۔ دونوں قسمیں بے قاعدہ تبدیلی کے بغیر واحد پر مبنی ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں 'سالم' کہا جاتا ہے، یعنی واحد کی بنیادی ساخت محفوظ رہتی ہے اور صرف لاحقہ بڑھایا جاتا ہے۔

﴿ہُمْ

جمع مذکر غائب کا ضمیر ہے اور فعل ماضی کے ساتھ فاعل کی علامت

﴿واو الجماعۃ

کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے

﴿ہُمْ کَتَبُواوہ سب مردوں نے لکھا

۔

﴿ہُنَّ

جمع مؤنث غائب کا ضمیر ہے اور اس کے ساتھ فعل پر

﴿نُونُ النِّسْوَۃِ

لگتی ہے، جیسے

﴿ہُنَّ کَتَبْنَوہ سب عورتوں نے لکھا

۔ دونوں مثالوں میں فعل کے آخر میں لگا ہوا لاحقہ ہی دراصل فاعل کا ضمیر متصل ہوتا ہے، اور

﴿ہُمْ

/

﴿ہُنَّ

صرف تاکید یا وضاحت کے لیے الگ سے لکھے جاتے ہیں۔

یہ تقسیم فعل کے تینوں حروفِ اصلیہ کی نوعیت پر مبنی ہے۔ اگر فعل کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت، یعنی واو یا یاء، اور نہ ہی ہمزہ شامل ہو تو وہ

﴿الفعل الصحیح

کہلاتا ہے، جیسے

﴿کَتَبَ

۔ اگر ان تین حروف میں سے کوئی ایک حرفِ اصلی واو، یاء یا ہمزہ ہو تو وہ

﴿الفعل المعتل

ہوتا ہے، جیسے

﴿وَعَدَ

یا

﴿قَالَ

۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حروفِ علت اپنی فطرت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں اور گردان کے دوران حذف، تبدیلی یا اِدغام جیسی صوتی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں، جبکہ صحیح فعل کی گردان میں کوئی ایسی پیچیدگی پیش نہیں آتی۔

﴿الفعل الصحیح

وہ فعل ہے جس کے تینوں حروفِ اصلیہ حروفِ علت اور ہمزہ سے پاک ہوں۔ اس کی تین ذیلی اقسام ہیں: پہلی

﴿سالم

، جس میں نہ دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہو اور نہ ہمزہ ہو، جیسے

﴿کَتَبَ

؛ دوسری

﴿مضاعف

، جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی یکساں ہو، جیسے

﴿مَدَّ

؛ تیسری

﴿مہموز

، جس میں کسی بھی مقام پر ہمزہ بطور حرفِ اصلی موجود ہو، جیسے

﴿أَکَلَ

۔ ان تینوں میں سالم کی گردان سب سے سادہ ہوتی ہے جبکہ مضاعف اور مہموز میں خاص صوتی قواعد لاگو ہوتے ہیں۔

﴿الفعل المضاعف

وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دوسرا اور تیسرا حرف ایک ہی جنس کا ہو، یعنی جڑ کے آخری دو حروف باہم مماثل ہوں۔ مثال کے طور پر

﴿مَدَّ

کی اصل جڑ

﴿م-د-د

ہے، جہاں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں

﴿د

ہیں، اور اس کا مضارع

﴿يَمُدُّوہ پھیلاتا ہے

بنتا ہے۔ اسی طرح

﴿رَدَّ

کی جڑ

﴿ر-د-د

ہے اور مضارع

﴿يَرُدُّوہ لوٹاتا ہے

ہے۔ یہ دونوں مثالیں اس قاعدے کی وضاحت کرتی ہیں کہ مضاعف میں دو ایک جیسے حروف کا اجتماع بعد میں ادغام کا سبب بنتا ہے۔

ادغام کا مطلب ہے دو ایک جیسے حروف کو ملا کر ایک مشدد حرف بنا دینا۔ فعل مضاعف میں چونکہ جڑ کا دوسرا اور تیسرا حرف یکساں ہوتا ہے، اس لیے جب یہ دونوں حروف براہِ راست ایک دوسرے سے متصل آتے ہیں تو انہیں ادغام کر کے ایک حرف پر شدہ لگا دی جاتی ہے۔ مثلاً

﴿مَدَدَ

کی اصل بناوٹ ادغام کے بعد

﴿مَدَّ

بن جاتی ہے۔ یہ عمل عربی زبان کی صوتی سہولت کا اصول ہے، کیونکہ متحرک حروف کے درمیان دو یکساں حروف کو الگ الگ ادا کرنا مشکل اور غیرفصیح سمجھا جاتا ہے۔

﴿مَدَّ

میں فعل کے دونوں یکساں حروف کے بعد کوئی ساکن حرف نہیں آتا، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔ لیکن

﴿مَدَدْتُ

میں فاعل کا ضمیر

﴿ـتُ

ساکن

﴿ت

سے شروع ہوتا ہے۔ چونکہ عربی میں دو ساکن حروف کا اکٹھا آنا ممکن نہیں، اس لیے دوسرے مدغم

﴿د

کو حرکت دے کر پہلے

﴿د

سے الگ کرنا پڑتا ہے، تاکہ ساکن ضمیر سے پہلے ایک متحرک حرف موجود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ متکلم اور مخاطب کے صیغوں میں، جہاں ضمیر ساکن سے شروع ہوتا ہے، ادغام ٹوٹ جاتا ہے اور اصل تین حروف

﴿م، د، د

الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔

جب فعل مضاعف کا مضارع مجزوم ہوتا ہے تو اس کا آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، اور چونکہ دو ساکن حروف کا تسلسل ممکن نہیں، اس لیے ادغام ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً

﴿يَمُدُّ

کا مجزوم

﴿لَمْ يَمْدُدْاس نے نہیں پھیلایا

بنتا ہے، جہاں دونوں

﴿د

الگ الگ اور صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح امر کی نہی کی صورت میں

﴿لَا تَمْدُدْتو نہ پھیلا

بنے گا۔ اس کے برعکس عام مضارع مرفوع

﴿يَمُدُّ

اور امر مثبت

﴿مُدَّ

میں چونکہ حرکت موجود ہوتی ہے، اس لیے ادغام قائم رہتا ہے۔

فعل صحیح، جیسے

﴿کَتَبَ

، کی گردان میں تمام صیغوں میں تینوں حروفِ اصلیہ ہمیشہ ایک ہی صورت میں اور الگ الگ باقی رہتے ہیں، کوئی صوتی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس فعل مضاعف، جیسے

﴿مَدَّ

، میں دوسرے اور تیسرے حرف کے یکساں ہونے کی وجہ سے بعض صیغوں میں دونوں حروف مدغم ہو کر ایک مشدد حرف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر صیغوں میں، جہاں فاعل کا ضمیر یا جزم کی علامت ساکن ہوتی ہے، وہی دونوں حروف دوبارہ الگ الگ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یوں مضاعف کی گردان ایک اضافی قاعدے کی محتاج ہوتی ہے جو صحیح میں درکار نہیں۔

سبق 11۔ فعل مثال اور فعل اجوف کی اقسام و گردان

﴿الفعل المعتل

وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے کوئی ایک حرف واو، یاء یا الف (اصلاً واو/یاء سے نکلا ہوا) ہو۔ اس کی تین بنیادی اقسام ہیں:

﴿مثال

جس میں پہلا حرف حرفِ علت ہو، جیسے وَعَدَ؛

﴿أجوف

جس میں درمیانی حرف حرفِ علت ہو، جیسے قَالَ؛ اور

﴿ناقص

جس میں آخری حرف حرفِ علت ہو، جیسے دَعَا۔ ہر قسم میں حرفِ علت کی جگہ کے مطابق گردان میں مختلف صوتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، کیونکہ حرفِ علت فطری طور پر کمزور اور غیرمستحکم آواز ہے۔

﴿الفعل المثال

وہ فعل ہے جس کا پہلا حرفِ اصلی واو یا یاء ہو۔ اگر پہلا حرف واو ہو تو اسے

﴿مثال واوی

کہتے ہیں، جیسے

﴿وَعَدَ

،

﴿وَجَدَ

،

﴿وَضَعَ

، جو کہ عربی میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اگر پہلا حرف یاء ہو تو اسے

﴿مثال یائی

کہتے ہیں، مگر یہ قسم انتہائی نادر ہے اور اس کی واحد مشہور مثال

﴿يَسَرَآسان ہونا

بیان کی جاتی ہے۔ اسی نادر ہونے کی وجہ سے تدریسی نصاب میں بنیادی زور مثال واوی ہی پر دیا جاتا ہے۔

مضارع کی تشکیل میں حرفِ مضارعت

﴿ي

کے فوراً بعد فعل کا پہلا حرفِ اصلی، یعنی ساکن

﴿و

آ جاتا ہے۔ عربی کے صوتی قاعدے کے مطابق جب ساکن واو کسرہ نما حرکت کے قریب ہو اور تلفظ میں بوجھل محسوس ہو تو اسے حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ کلام رواں اور فصیح رہے۔ چونکہ

﴿يَوْعِدُ

کا تلفظ بھاری اور غیرمانوس ہوتا، اس لیے ابتدائی

﴿و

گرا کر

﴿يَعِدُ

بنا دیا جاتا ہے۔ یہی اصول

﴿وَجَدَ

سے

﴿يَجِدُ

اور

﴿وَضَعَ

سے

﴿يَضَعُ

کی تشکیل میں بھی کارفرما ہے۔

﴿الفعل الأجوف

وہ فعل ہے جس کا درمیانی حرفِ اصلی واو یا یاء ہو۔

﴿قَالَاس نے کہا

کی اصل جڑ

﴿ق-و-ل

ہے، جہاں درمیانی حرف واو ہے۔

﴿بَاعَاس نے بیچا

کی جڑ

﴿ب-ي-ع

ہے، جہاں درمیانی حرف یاء ہے۔ ماضی کی بنیادی صورت میں یہ درمیانی حرفِ علت ماقبل حرکت کے ساتھ مل کر ایک طویل آواز، یعنی الف، بنا دیتا ہے، اس لیے دونوں افعال بظاہر تین حروف کی بجائے 'قَالَ' اور 'بَاعَ' کی صورت میں نظر آتے ہیں، حالانکہ ان کی اصل جڑ میں تین متحرک حروف موجود تھے۔

﴿قَالَ

کی اصل

﴿قَوَلَ

ہے۔ مضارع میں حرفِ مضارعت

﴿ي

لگنے کے بعد اصل صورت

﴿يَقْوُلُ

بنتی، مگر چونکہ درمیانی حرف

﴿و

ماقبل ضمہ کے ساتھ آ جاتا ہے، اور جب حرفِ علت اپنی جنس کی حرکت سے پہلے آئے تو وہ اسی حرکت کے ساتھ مل کر حرفِ مد (طویل آواز) بنا دیتا ہے۔ یوں ماقبل مضموم

﴿و

اور اصل

﴿و

مل کر طویل

﴿ـُو

کی آواز پیدا کرتے ہیں، اور نتیجہ

﴿يَقُولُوہ کہتا ہے

نکلتا ہے۔ یہی اصول

﴿بَاعَ

سے

﴿يَبِيعُ

بننے میں بھی، مگر کسرہ اور یاء کے امتزاج سے، کارفرما ہے۔

جب فاعل کا ضمیر ساکن حرف سے شروع ہو، جیسے متکلم

﴿ـتُ

، تو فعل کے آخر پر ایک ساکن حرف آ جاتا ہے۔ چونکہ

﴿قَالَ

میں درمیانی حرف پہلے سے ایک طویل آواز (حرفِ مد) کی صورت میں موجود ہے، اور حرفِ مد کے فوراً بعد کسی اور ساکن حرف کا آنا عربی کے صوتی اصول کے خلاف ہے، اس لیے یہ طویل آواز اپنی اصل مختصر حالت میں لوٹ جاتی ہے، یعنی اصلی

﴿و

محض ایک مختصر ضمہ کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً

﴿قُلْتُمیں نے کہا

بنتا ہے، جہاں قاف پر ضمہ ہی اصل واو کی یادگار ہے۔

﴿بَاعَ

کی اصل جڑ

﴿ب-ي-ع

ہے۔ ماضی کی بنیادی صورت میں درمیانی

﴿ي

ماقبل فتحہ کے ساتھ مل کر الف بن جاتا ہے۔ لیکن جب فاعل کا ضمیر متکلم

﴿ـتُ

کی طرح ساکن حرف سے شروع ہو تو حرفِ مد کے بعد ساکن حرف کا تسلسل ممکن نہیں رہتا، اس لیے اصل

﴿ي

اپنی مختصر صورت میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے اور فعل کے پہلے حرف پر کسرہ آ جاتی ہے، یعنی

﴿بِعْتُمیں نے بیچا

۔ یہاں کسرہ دراصل اصل یاء کی علامت ہے، جیسے قَالَ میں ضمہ اصل واو کی علامت تھی۔

عام مضارع

﴿يَقُولُ

اور

﴿يَبِيعُ

میں حرفِ مد برقرار رہتا ہے، لیکن جب فعل مجزوم ہو تو آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے حرفِ مد کے بعد ساکن حرف آنے کا وہی مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو ماضی میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ حرفِ مد سکڑ کر مختصر حرکت میں بدل جاتا ہے:

﴿لَمْ يَقُلْاس نے نہیں کہا

۔ اسی اصول کے تحت امر کے صیغے

﴿قُلْتو کہہ

اور

﴿بِعْتو بیچ

بنتے ہیں، جن میں اصل حرفِ علت ایک مختصر حرکت کی صورت میں سموئے ہوئے ہے۔

دونوں افعال میں مسئلے کا مقام مختلف ہے۔ فعل مثال میں مسئلہ فعل کے آغاز میں پیدا ہوتا ہے: مضارع بننے پر حرفِ مضارعت کے فوراً بعد آنے والا اصل واو تلفظ کی سہولت کے لیے حذف کر دیا جاتا ہے، جیسے وَعَدَ سے يَعِدُ۔ فعل اجوف میں مسئلہ فعل کے وسط میں پیدا ہوتا ہے: درمیانی حرفِ علت ماقبل حرکت کے ساتھ مل کر طویل آواز بن جاتا ہے، مگر جب بعد میں ساکن حرف آئے تو یہی طویل آواز دوبارہ مختصر حرکت میں بدل جاتی ہے، جیسے قَالَ سے قُلْتُ۔ یوں مثال میں حذف اور اجوف میں تبدیلی و اعادہ کا اصول کارفرما ہے۔

سبق 12۔ فعل ناقص، فعل لفیف اور رباعی مجرد و مزید

﴿الفعل الناقص

وہ فعل ہے جس کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہو۔

﴿دَعَااس نے بلایا

کی جڑ

﴿د-ع-و

ہے، جہاں آخری حرف واو ہے، اور اس کا مضارع

﴿يَدْعُو

ہے۔

﴿رَمَىاس نے پھینکا

کی جڑ

﴿ر-م-ي

ہے، جہاں آخری حرف یاء ہے، اور اس کا مضارع

﴿يَرْمِي

ہے۔ چونکہ آخری حرف فعل کے کنارے پر ہوتا ہے، اس لیے مختلف صیغوں میں یہ حرف کبھی الف بنتا ہے، کبھی گر جاتا ہے اور کبھی اصل صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے ناقص کہا جاتا ہے۔

﴿دَعَا

کی اصل صورت

﴿دَعَوَ

تھی، جہاں آخری حرف

﴿و

ماقبل فتحہ کے ساتھ آتا ہے۔ جب کوئی حرفِ علت اپنی جنس کی مختصر حرکت سے پہلے متحرک حالت میں ہو تو عربی کے اعلال کے اصول کے مطابق وہ اپنی جنس کے حرفِ مد میں بدل جاتا ہے، یعنی فتحہ کے بعد واو، الف بن جاتا ہے۔ چونکہ فاعل واحد مذکر غائب کا ضمیر مستتر ہے اور کوئی مزید لاحقہ نہیں لگتا، اس لیے یہ تبدیلی اپنی مکمل صورت میں ظاہر ہو کر

﴿دَعَا

بن جاتی ہے۔

جب فاعل کا ضمیر

﴿ـتُ

کی طرح ساکن حرف سے شروع ہو تو الف کے بعد ساکن حرف کا آنا ممکن نہیں، اس لیے الف اپنی اصل صورت، یعنی واو، میں لوٹ آتا ہے اور اسے ساکن بنا کر ضمیر سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے

﴿دَعَوْتُ

بنتا ہے۔ اسی طرح

﴿ہُمْ دَعَوْا

میں واو الجماعۃ متحرک لاحقے کے طور پر آتا ہے، اور چونکہ الف متحرک ضمیر سے پہلے برقرار نہیں رہ سکتا، اس لیے یہاں بھی اصل واو ظاہر ہو کر

﴿دَعَوْا

بنتا ہے، جہاں واوِ اصلی اور واوِ جماعت دونوں یکجا نظر آتے ہیں۔

﴿يَدْعُو

کا مجزوم

﴿لَمْ يَدْعُاس نے نہیں بلایا

بنتا ہے، اور

﴿يَرْمِي

کا مجزوم

﴿لَمْ يَرْمِاس نے نہیں پھینکا

بنتا ہے۔ جزم کی حالت میں فعل کے آخر پر سکون کی علامت لازم ہوتی ہے، لیکن حرفِ علت پر سکون لانا ممکن نہیں، اس لیے آخری حرفِ علت مکمل طور پر حذف کر دیا جاتا ہے اور اس کی حذف شدہ حالت ہی جزم کی علامت بن جاتی ہے۔ یوں ناقص کی گردان میں جزم کے موقع پر ہمیشہ آخری حرفِ علت گر جاتا ہے۔

﴿الفعل اللفیف

وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں:

﴿لفیف مفروق

، جس میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہوں اور درمیان میں ایک صحیح حرف حائل ہو، جیسے

﴿وَفَىو-ف-ي

؛ اور

﴿لفیف مقرون

، جس میں دوسرا اور تیسرا حرف، یعنی دونوں حرفِ علت باہم ملے ہوئے ہوں، جیسے

﴿طَوَىط-و-ي

۔ لفظ 'مفروق' جدائی اور 'مقرون' ملاپ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو دونوں قسموں میں حرفِ علت کے باہمی فاصلے یا اتصال کو ظاہر کرتا ہے۔

﴿لفیف مفروق

میں چونکہ پہلا حرف حرفِ علت ہے، اس لیے اس پر مثال کا قاعدہ لاگو ہوتا ہے (مضارع میں پہلا حرف گر سکتا ہے)، اور چونکہ تیسرا حرف بھی حرفِ علت ہے، اس پر ناقص کا قاعدہ بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً

﴿وَفَى

کا مضارع

﴿يَفِي

بنتا ہے جہاں پہلا واو گر جاتا ہے۔

﴿لفیف مقرون

میں دوسرا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہونے کی وجہ سے اجوف اور ناقص دونوں کے قواعد بیک وقت اثرانداز ہوتے ہیں، جیسے

﴿طَوَى

کا مضارع

﴿يَطْوِي

۔

﴿الرباعی المجرد

وہ فعل ہے جو چار حروفِ اصلیہ پر مشتمل ہو اور جس میں کوئی زائد حرف شامل نہ ہو۔ اس کا وزن

﴿فَعْلَلَ

ہے، یعنی چاروں حروف بلا کسی اضافے کے فعل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی مشہور مثال

﴿دَحْرَجَاس نے لڑھکایا

ہے، جس کا مضارع

﴿يُدَحْرِجُوہ لڑھکاتا ہے

ہے۔ اسی وزن پر دیگر مثالیں

﴿زَلْزَلَہلا دینا

اور

﴿وَسْوَسَوسوسہ ڈالنا

بھی آتی ہیں، جو چار حروف کی بنیادی صرفی ساخت کو ظاہر کرتی ہیں۔

﴿الرباعی المزید

وہ فعل ہے جس میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک یا زائد حرف کا اضافہ کیا جائے، تاکہ نیا معنی پیدا ہو۔ مثال کے طور پر

﴿دَحْرَجَ

کے شروع میں

﴿ت

بڑھا کر

﴿تَدَحْرَجَخود لڑھکنا

بنایا جاتا ہے، جو مطاوعت، یعنی فعل کے فاعل پر خود واقع ہونے کا معنی دیتا ہے: جہاں دَحْرَجَ کا معنی ہے 'اس نے کسی چیز کو لڑھکایا'، وہاں تَدَحْرَجَ کا معنی ہے 'وہ خود لڑھک گیا'۔ یوں زائد حرف

﴿ت

فعل کے بنیادی معنی میں انعکاسی کیفیت شامل کر دیتا ہے۔

فعلِ صحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں ہوتا اور گردان سادہ رہتی ہے، جبکہ مضاعف میں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہونے پر ادغام لاگو ہوتا ہے۔ مثال میں پہلا حرف حرفِ علت مضارع میں حذف ہو جاتا ہے، اجوف میں درمیانی حرفِ علت طویل و مختصر آواز کے درمیان بدلتا ہے، اور ناقص میں آخری حرفِ علت الف بنتا، گرتا یا اصل صورت میں لوٹتا ہے۔ لفیف میں دو حرفِ علت بیک وقت موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ قواعد یکجا ہوتے ہیں۔ رباعی مجرد و مزید ان سب سے الگ ہیں کیونکہ ان کی بنیاد چار حروف پر ہے، اور مزید میں اضافی حرف نیا معنی پیدا کرتا ہے۔

سبق 13۔ الادب العربی: نشأۃ اللغۃ العربیہ اور منتخب نثری اقتباسات

اقتباس کے مطابق عربی زبان قدیم سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس خاندان کی دیگر اہم زبانوں میں عبرانی اور آرامی شامل ہیں، جنہیں متن میں عربی کی 'بہن زبانیں' کہا گیا ہے، یعنی یہ زبانیں آپس میں قریبی رشتہ رکھتی ہیں اور ان کی بنیادی ساخت میں کئی مشترکات پائے جاتے ہیں۔ یہ نکتہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عربی کوئی الگ تھلگ زبان نہیں بلکہ ایک وسیع لسانی خاندان کا حصہ ہے، جس کی جڑیں قدیم مشرق وسطیٰ کی تہذیبوں سے جا ملتی ہیں۔ یہی پس منظر عربی گرامر کی بعض خصوصیات، جیسے جڑ الفاظ کا نظام اور صرفی ساخت، کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

متن کے مطابق عربی زبان جزیرہ عرب میں ظہورِ اسلام سے کافی عرصہ پہلے وجود میں آ چکی تھی۔ اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں شعر و خطابت کو نہایت اہمیت دی جاتی تھی، اور لوگ اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کیا کرتے تھے۔ شاعری اور خطابت اس دور میں محض ادبی مشغلہ نہ تھی بلکہ سماجی مرتبے اور قبائلی وقار کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی تھی۔ اسی ماحول نے عربی زبان کو ایک نہایت ترقی یافتہ، وسیع الفاظ اور باریک قواعد رکھنے والی زبان بنا دیا، جو بعد میں قرآن کریم کے نزول کے لیے موزوں ترین ذریعۂ اظہار ثابت ہوئی۔

قرآن کریم کے عربی زبان میں نازل ہونے نے اس زبان کی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔ اقتباس کے مطابق عربی محض ایک قبائلی یا علاقائی زبان نہ رہی بلکہ پوری اسلامی دنیا میں دین اور علم کی زبان بن گئی۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمانوں نے، خواہ ان کی مادری زبان کچھ بھی ہو، عربی سیکھنا ضروری سمجھا تاکہ وہ قرآن کریم اور دینی علوم کو براہِ راست سمجھ سکیں۔ اسی وجہ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی بنیادی کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں، اور عربی نے ایک بین الاقوامی علمی زبان کی حیثیت اختیار کر لی۔

متن کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس زبان کو تبدیلی اور زوال سے محفوظ رکھا۔ چونکہ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ ہے اور مسلمان ہر دور میں اسے بعینہٖ اسی زبان اور اسی متن کے ساتھ پڑھتے، حفظ کرتے اور پڑھاتے رہے، اس لیے عربی کے قواعد اور بنیادی ساختیں بھی صدیوں کے گزرنے سے کوئی خاص تبدیلی محسوس نہ کر سکیں۔ یوں عربی زبان دیگر بہت سی زبانوں کے برعکس ایک مستحکم اور مستقل نظام کی حامل رہی، جس نے علمِ نحو و صرف کو بھی ایک ٹھوس اور محفوظ بنیاد فراہم کی۔

اقتباس کے آخری حصے میں بتایا گیا ہے کہ آج کا طالب علم قدیم عربی نصوص کو نسبتاً آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے، جبکہ بہت سی دوسری زبانوں کے پرانے متون کو سمجھنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ زبانیں زمانوں کے ساتھ بہت زیادہ بدل چکی ہیں۔ اس کا عملی فائدہ یہ ہے کہ ایک طالب علم جو آج بنیادی عربی گرامر سیکھ لے، وہ صدیوں پرانی کتابیں، تفاسیر اور شعری دواوین بھی نسبتاً کم دشواری کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ یہ استحکام عربی زبان کو دیگر زبانوں کے مقابلے میں سیکھنے کے اعتبار سے ایک منفرد اور قیمتی خصوصیت عطا کرتا ہے۔

یہ جملہ فعلیہ ہے، یعنی اس کی ابتدا فعل سے ہوئی ہے۔ فعل «نَشَأَتْ» فعل ماضی مؤنث غائب ہے، اور اس پر تاء تانیث اس لیے آئی ہے کہ اس کا فاعل «هَذِهِ اللُّغَةُ» مؤنث ہے۔ «هَذِهِ اللُّغَةُ» دراصل اسم اشارہ اور اس کے بعد آنے والا اسم مل کر مرکب اشاری بناتے ہیں، اور یہاں یہ فعل کا فاعل مرفوع ہے۔ اس کے بعد «فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» جار مجرور ہے جو فعل سے متعلق ظرفِ مکان کا کام دیتا ہے، جبکہ «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» خود ایک اضافی ترکیب ہے جس میں «جَزِيرَة» مضاف اور «الْعَرَبِ» مضاف الیہ مجرور ہے۔

اقتباس میں کئی حروفِ جر استعمال ہوئے ہیں جن میں «مِنْ، فِي، قَبْلَ، بِـ، مُنْذُ اور بِخِلَافِ» شامل ہیں۔ حروفِ جر کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتے ہیں اور جملے کے دوسرے اجزاء کے ساتھ معنوی ربط پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر «مِنَ اللُّغَاتِ» میں «مِنْ» کسی چیز کے تعلق یا نسبت کو ظاہر کرتا ہے، «فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» میں «فِي» ظرفیت یعنی مکان کے اندر ہونے کا مفہوم دیتا ہے، اور «قَبْلَ ظُهُورِ الْإِسْلَامِ» میں «قَبْلَ» زمانی ترتیب یعنی کسی واقعے سے پہلے ہونے کو بیان کرتا ہے۔ ان حروف کے بغیر جملوں کے اجزاء کا آپس میں معنوی تعلق واضح نہیں ہو سکتا۔

متن میں اضافت کی واضح مثالیں «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» اور «قَوَاعِدُهَا وَأَبْنِيَتُهَا» ہیں۔ «جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» میں «جَزِيرَة» مضاف ہے اور «الْعَرَبِ» مضاف الیہ، اور اضافت کی وجہ سے مضاف سے تنوین گر گئی ہے جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔ دوسری مثال «قَوَاعِدُهَا وَأَبْنِيَتُهَا» میں «قَوَاعِدُ» اور «أَبْنِيَةُ» مضاف ہیں جبکہ ضمیر «هَا» جو 'اللغۃ' کی طرف لوٹتی ہے، مضاف الیہ کے طور پر ان سے متصل ہوئی ہے۔ اس قسم کی اضافت کو اضافتِ ضمیری بھی کہا جاتا ہے، جو عربی میں ملکیت یا نسبت ظاہر کرنے کا نہایت عام طریقہ ہے۔

اس اقتباس سے سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ عربی زبان سیکھنا محض ایک لسانی مہارت نہیں بلکہ قرآن کریم اور دینِ اسلام کو براہِ راست سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ چونکہ یہ زبان قرآن کریم کی برکت سے صدیوں سے محفوظ چلی آ رہی ہے، اس لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اسے سنجیدگی اور محنت کے ساتھ سیکھے، تاکہ وہ دینی متون تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کسی زبان کی ترقی میں اس کے بولنے والوں کی فصاحت، ادب سے محبت اور اس کی حفاظت کی کوشش کا بڑا کردار ہوتا ہے، جیسا کہ قدیم عرب اپنی زبان کی حفاظت اور اس کے فروغ میں پیش پیش رہے۔

سبق 14۔ الادب العربی: اخلاقی و علمی مضامین پر مبنی نثری اقتباسات

اقتباس میں علم کو نور سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح روشنی انسان کو اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے، اسی طرح علم بھی انسان کے دل و دماغ کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر حق اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ 'الْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي صَاحِبَهُ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ'، یعنی علم اپنے حامل کو حق کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ تشبیہ عربی ادب میں بہت عام ہے اور اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کے اخلاق اور کردار کو بھی سنوارتی ہے۔

متن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ 'كُلَّمَا ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا ازْدَادَ تَوَاضُعًا وَخُشُوعًا'، یعنی انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے اسے اتنا ہی زیادہ متواضع اور عاجز ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی علم اور تکبر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، بلکہ سچا علم انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلاتا ہے۔ جو شخص علم حاصل کر کے مغرور ہو جائے، اصل میں اس نے علم کی روح کو نہیں پایا، کیونکہ حقیقی عالم ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے اور اسے سیکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔

اقتباس میں حقیقی عالم کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ 'لَا يَفْتَخِرُ بِعِلْمِهِ عَلَى النَّاسِ'، یعنی وہ اپنے علم پر لوگوں کے سامنے فخر نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ 'مَا عَرَفَهُ قَلِيلٌ بِجَانِبِ مَا جَهِلَهُ'، یعنی جو کچھ اس نے جانا ہے وہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے جو وہ نہیں جانتا۔ یہ دونوں باتیں مل کر حقیقی عالم کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں: وہ علم کی بنیاد پر تفاخر کرنے کے بجائے مزید سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے اور اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہے۔

روایت کے مطابق جب ایک شخص نے عالم سے کہا کہ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم ہیں، تو عالم نے تواضع سے جواب دیا: 'مَا أَنَا إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ لَمْ يَبْلُغْ نِهَايَةَ الطَّرِيقِ'، یعنی میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں جو ابھی راستے کی انتہا کو نہیں پہنچا۔ اس جواب میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ علم ایک لامتناہی سفر ہے جس کی کوئی حتمی منزل نہیں، اور جتنا بھی علم حاصل ہو جائے، انسان کو اپنے آپ کو ابھی طالبِ علم ہی سمجھنا چاہیے۔ یہی سوچ انسان کو ہمیشہ سیکھنے پر آمادہ رکھتی ہے اور تکبر سے محفوظ رکھتی ہے۔

اقتباس کے آخری حصے میں بتایا گیا ہے کہ 'مَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ النَّافِعَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ لِمُعَلِّمِهِ وَيَصْبِرَ عَلَى طَلَبِهِ'، یعنی جو شخص نفع بخش علم چاہتا ہے اسے اپنے استاد کے سامنے تواضع اختیار کرنی چاہیے اور علم حاصل کرنے میں صبر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ 'الْعِلْمُ لَا يُنَالُ بِالتَّكَبُّرِ وَلَا بِالْعَجَلَةِ'، یعنی علم نہ تکبر سے حاصل ہوتا ہے اور نہ جلد بازی سے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علم کے حصول کے لیے استاد کا ادب، صبر اور مسلسل محنت ضروری اجزاء ہیں، اور ان کے بغیر علم کی برکت اور نفع حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس جملے میں «كُلَّمَا» ایک شرطیہ اسلوب کا اسمِ شرط ہے جس کا معنی ہے 'جب بھی'، اور یہ عموماً دو فعل ماضی کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے جن میں سے پہلا فعلِ شرط اور دوسرا جوابِ شرط ہوتا ہے۔ یہاں پہلا «ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا» فعلِ شرط ہے جس میں «ازْدَادَ» فعل ماضی، «الْإِنْسَانُ» فاعل مرفوع اور «عِلْمًا» تمییز منصوب ہے۔ دوسرا «ازْدَادَ تَوَاضُعًا» جوابِ شرط ہے جس میں فاعل محذوف ہے (وہی 'الإنسان' مراد ہے) اور «تَوَاضُعًا» بھی تمییز کے طور پر منصوب آیا ہے۔ اس اسلوب سے دو کاموں کے درمیان تناسب اور مسلسل اضافے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔

«مَا... إِلَّا» عربی زبان میں حصر کا ایک نہایت مؤثر اسلوب ہے، جس کا مطلب ہے کسی بات کو نفی کے ذریعے پہلے رد کرنا اور پھر 'إِلَّا' کے بعد صرف ایک ہی چیز کو ثابت کرنا۔ اس جملے میں «مَا أَنَا» سے عمومی نفی کی گئی ہے، یعنی 'میں نہیں ہوں'، اور پھر «إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ» سے صرف ایک ہی وصف کو ثابت کیا گیا ہے، یعنی 'مگر ایک طالبِ علم'۔ اس اسلوب کا مقصد یہ ہے کہ متکلم کی بات میں شدت اور تاکید پیدا ہو، اور یہاں اس سے عالم کی گہری تواضع کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

عربی گرامر کے قاعدے کے مطابق جب فعل مضارع سے پہلے حروفِ ناصبہ میں سے کوئی حرف آئے، جیسے «أَنْ، لَنْ، كَيْ»، تو فعل مضارع منصوب ہو جاتا ہے اور اس کی علامتِ نصب فتحہ ہوتی ہے۔ یہاں «فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ وَيَصْبِرَ» میں «أَنْ» کے بعد آنے والے دونوں افعال «يَتَوَاضَعَ» اور «يَصْبِرَ» اسی وجہ سے منصوب آئے ہیں، اور آخر میں فتحہ کی علامت واضح ہے۔ یہ قاعدہ دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول میں فعل مضارع کے احکام کے تحت پڑھایا جاتا ہے، اور یہاں اس کا عملی اطلاق دیکھا جا سکتا ہے۔

اس اقتباس سے طالب علم کے لیے سب سے اہم عملی سبق یہ ہے کہ علم حاصل کرتے وقت تکبر، عجلت اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے کے رویے سے مکمل طور پر بچنا چاہیے۔ استاد کا ادب و احترام اور اس کے سامنے تواضع اختیار کرنا علم کی برکت اور نفع کا اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح طالب علم کو یہ ذہن نشین کرنا چاہیے کہ علم کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا، چنانچہ کسی بھی درجے پر پہنچ کر مطمئن ہو کر رک جانا مناسب نہیں، بلکہ ہمیشہ سیکھنے کی جستجو اور صبر کے ساتھ محنت جاری رکھنی چاہیے، جیسا کہ اقتباس میں مذکور عالم نے اپنے قول و عمل سے سکھایا۔

سبق 15۔ قصص النبیین سے منتخب حکایت؛ جامع نظرثانی

حکایت کے مطابق چرواہا سچائی اور امانت داری کی وجہ سے لوگوں میں مشہور تھا۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی اسے کوئی گمشدہ چیز ملتی تو وہ بغیر کسی معاوضے کی طلب کے اسے اس کے اصل مالک کو لوٹا دیتا تھا۔ یہ عادت محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں تھی بلکہ اس کی مستقل خصلت تھی، جس کی وجہ سے پورے گاؤں کے لوگ اسے دیانت دار اور قابلِ اعتماد شخص سمجھتے تھے۔ اسی شہرت کی بنیاد پر بعد میں پیش آنے والا واقعہ بھی اس کے کردار سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

حکایت کے مطابق ایک اجنبی شخص چرواہے کے پاس سے گزرا تو اس سے ایک تھیلی گر گئی جس میں کافی رقم موجود تھی، اور اسے اس بات کا احساس تک نہ ہوا۔ چرواہے نے وہ تھیلی اٹھا لی، لیکن اسے اپنے پاس رکھنے یا اس میں سے کچھ لینے کے بجائے اس کے مالک کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کافی دیر تک انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اجنبی شخص غمزدہ دل کے ساتھ اپنی تھیلی تلاش کرتا ہوا واپس آیا، جس پر چرواہے نے اسے پوری تھیلی جوں کی توں واپس کر دی۔

جب اجنبی شخص چرواہے کی امانت داری پر حیران ہوا اور اسے انعام دینا چاہا، تو چرواہے نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ 'إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً لَا أَطْلُبُ عَلَيْهَا أَجْرًا مِنَ النَّاسِ'، یعنی میں نے تو صرف امانت ادا کی ہے، اس پر لوگوں سے کوئی اجر نہیں چاہتا۔ اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چرواہے کے نزدیک امانت داری کوئی ایسا عمل نہیں جس کا صلہ دنیاوی انعام کی صورت میں لیا جائے، بلکہ یہ ایک اخلاقی فرض ہے جسے پورا کرنا خود اپنے آپ میں کافی اجر ہے۔

حکایت کے آخری جملے میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ پورے گاؤں میں مشہور ہو گیا اور لوگ اس چرواہے کو سچائی اور امانت کی مثال کے طور پر یاد کرنے لگے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نیک عمل، خواہ کتنا ہی خاموشی سے کیوں نہ کیا جائے، بالآخر معاشرے میں پہچانا جاتا ہے اور لوگوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ بن جاتا ہے۔ چرواہے کا معمولی پیشہ اس کی عزت میں کوئی کمی نہیں لایا، بلکہ اس کے کردار نے اسے لوگوں کی نظروں میں بلند مقام عطا کیا۔

اس سبق میں یہ حکایت جان بوجھ کر ایک تدریسی اور اخلاقی 'حکایت' کے طور پر پیش کی گئی ہے، نہ کہ کسی مستند تاریخی یا نبوی واقعے کے طور پر۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کسی غیر مصدقہ روایت کو تاریخی حقیقت سمجھ کر آگے بیان نہ کریں، بلکہ اسے محض ایک اخلاقی سبق اور زبان سیکھنے کی مشق کے طور پر پڑھیں۔ یہ طریقہ علمی دیانت داری کا تقاضا ہے، کیونکہ کسی بھی واقعے کو مستند قرار دینے کے لیے سند اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ یہاں مقصد صرف زبان اور اخلاق کی تعلیم ہے۔

«كَانَ» ایک فعلِ ناقص ہے جو اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے، لیکن اس جملے میں چونکہ ترتیب بدل کر ظرف مقدم لایا گیا ہے، اس لیے «فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ» جار مجرور بطور خبر مقدم استعمال ہوا ہے اور «رَجُلٌ» اسمِ کان مؤخر مرفوع ہے، جبکہ «صَالِحٌ» اس کی صفت ہے جو رفع، تذکیر اور تنکیر میں اپنے موصوف کے مطابق آئی ہے۔ اس قسم کی ترکیب عربی نثر میں کسی کہانی کا آغاز کرنے کے لیے نہایت عام ہے، جو اردو کے 'ایک زمانے میں ایک آدمی تھا' والے اسلوب سے مشابہت رکھتی ہے۔

«رَأَى» ایک فعلِ معتل ناقص ہے، کیونکہ اس کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہے۔ فعل ماضی کی صیغہ سازی میں جب اس پر ضمیر متصل، جیسے «ـهُ»، لاحق ہوتا ہے تو یہ «رَآهُ» کی صورت اختیار کرتا ہے، جس میں ہمزہ اور الف کے امتزاج سے مدہ کی شکل بنتی ہے۔ اس فعل کا فاعل «الرَّاعِي» ہے اور «ـهُ» میں موجود ضمیر مفعول بہ کے طور پر اس اجنبی شخص کی طرف لوٹتی ہے جسے چرواہے نے دیکھا۔ اس مثال سے فعلِ ناقص کی صرفی خصوصیات کو عملی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

نظرثانی کے خلاصے میں بتایا گیا ہے کہ اضافت کی ترکیب میں دو اسم آپس میں جڑ کر ایک نیا معنیٰ پیدا کرتے ہیں، جس میں پہلا اسم مضاف اور دوسرا مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ مضاف کبھی تنوین یا 'ال' قبول نہیں کرتا، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، جیسا کہ مثال «كِتَابُ الطَّالِبِ» میں دیا گیا ہے، جہاں «كِتَابُ» مضاف اور «الطَّالِبِ» مضاف الیہ ہے۔ یہ قاعدہ عربی جملوں میں ملکیت، نسبت یا تعلق ظاہر کرنے کا سب سے بنیادی اور کثیر الاستعمال طریقہ ہے، اور اسے پہچاننا جملے کے درست ترجمے کے لیے ضروری ہے۔

صرف کے خلاصے میں فعلِ صحیح کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں: سالم، مضعّف اور مہموز۔ فعلِ سالم وہ عام فعل ہے جس کے حروفِ اصلی میں نہ حرفِ علت ہو اور نہ دو حروف ایک جیسے ہوں، جیسے «كَتَبَ»۔ فعلِ مضعّف وہ فعل ہے جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہو، جیسے «مَدَّ»، جس میں دونوں ملتے جلتے حروف اکثر مدغم ہو جاتے ہیں۔ فعلِ مہموز وہ فعل ہے جس کے حروفِ اصلی میں سے کوئی ایک ہمزہ ہو، جیسے «أَخَذَ»، جس کی صرفی تبدیلیوں میں ہمزے کی جگہ کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔

خلاصے کے مطابق فعلِ معتل کی چار قسمیں ہیں: مثال، اجوف، ناقص اور لفیف۔ فعلِ مثال وہ ہے جس کا پہلا حرفِ اصلی حرفِ علت ہو، جیسے «وَعَدَ»۔ فعلِ اجوف وہ ہے جس کا درمیانی حرف حرفِ علت ہو، جیسے «قَالَ»، جس میں اکثر یہ حرف الف میں بدل جاتا ہے۔ فعلِ ناقص وہ ہے جس کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہو، جیسے «رَمَى» یا «دَعَا»۔ فعلِ لفیف وہ ہے جس میں دو حروفِ علت اکٹھے پائے جائیں، جیسے «وَفَى»، اور اسے مزید لفیفِ مفروق اور لفیفِ مقرون میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ دونوں حروفِ علت ملے ہوئے ہیں یا الگ الگ حروف کے درمیان واقع ہیں۔

خلاصے کے مطابق فعل ماضی کسی گزرے ہوئے کام کو ظاہر کرتا ہے، جیسے «كَتَبَ» یعنی 'اس نے لکھا'۔ فعل مضارع حال یا مستقبل کے کام کو ظاہر کرتا ہے اور ہمیشہ چار حروفِ مضارعت (أ، ن، ي، ت) میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے، جیسے «يَكْتُبُ» یعنی 'وہ لکھتا ہے / لکھے گا'۔ فعل امر کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسے «اُكْتُبْ» یعنی 'لکھو'۔ فعل نہی کسی کام سے روکنے کے لیے فعل مضارع سے پہلے «لَا» لگا کر بنایا جاتا ہے، اور فعل مضارع مجزوم ہو جاتا ہے، جیسے «لَا تَكْتُبْ» یعنی 'مت لکھو'۔ ان چاروں صیغوں کی پہچان جملے کے صحیح زمانی اور حکمی مفہوم کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

سبق کا دوسرا حصہ سمسٹر بھر میں پڑھائے گئے تمام اہم نحوی اور صرفی قواعد کا ایک مختصر اور مرتب خلاصہ پیش کرتا ہے، جس میں اسمِ اشارہ، تنوین و ال، حروفِ جر، اضافت، نعت و منعوت، ضمائر، جمع، تثنیہ، مشتقات اور مرکبات جیسے نحوی موضوعات، اور فعل ماضی، مضارع، امر، نہی، صحیح، معتل کی اقسام اور فعلِ رباعی جیسے صرفی موضوعات شامل ہیں۔ یہ خلاصہ طلبہ کو پورے سمسٹر کے پھیلے ہوئے مواد کو ایک ہی جگہ، مختصر اور قابلِ فہم انداز میں دوبارہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے، جس سے حتمی امتحان کی تیاری کے دوران وقت کی بچت ہوتی ہے اور بھولے ہوئے قواعد فوری طور پر یاد آ جاتے ہیں۔