ہوماسباق ‹ سبق 5
سبق 5 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 7-8

ضمائر غائب (ہو، ہی) اور نعت و منعوت

جب کسی شخص یا چیز کا ذکر پہلے ہو چکا ہو تو اسم کو بار بار دہرانے کے بجائے کون سا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور کسی اسم کی صفت بیان کرتے وقت عربی میں کن چار باتوں میں مطابقت ضروری ہے؟

1تمہید

اس سبق میں ہم ضمائر منفصلہ غائب، نعت و منعوت کی مطابقت کے چار اصول، فعل مضارع کی مکمل گردان اور اعراب کے ابتدائی تصور کا مطالعہ کریں گے۔ یہ مواد دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق سات اور آٹھ پر مبنی ہے۔

2ضمائر منفصلہ غائب کا تعارف

ضمائر منفصلہ غائب وہ الفاظ ہیں جو کسی غیر حاضر شخص یا چیز کی جگہ استعمال ہوتے ہیں تاکہ اسم کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان میں ھو (وہ، مذکر واحد)، ھی (وہ، مؤنث واحد)، ھما (وہ دونوں)، ھم (وہ سب، مذکر جمع) اور ھن (وہ سب، مؤنث جمع) شامل ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پہلے ذکر ہو

﴿هَذَا طَالِبٌیہ ایک طالب علم ہے

تو بعد میں اسی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے

﴿هُوَ طَالِبٌوہ طالب علم ہے

، جس میں ھو نے اسم کی جگہ لے لی۔

3ضمائر غائب کا عملی استعمال

اسی طرح مؤنث کے لیے

﴿هِيَ مُدَرِّسَةٌوہ ایک استانی ہے

کہا جائے گا، اور دو یا زیادہ افراد کے لیے

﴿هُمَا طَالِبَانِوہ دونوں طالب علم ہیں

اور

﴿هُمْ طُلَّابٌوہ سب طالب علم ہیں

استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضمائر جملے میں مبتدا کی جگہ آ کر خبر کے ساتھ مل کر مکمل اسمیہ جملہ بناتے ہیں، اور طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ ہر ضمیر کے ساتھ صحیح جنس اور تعداد کی خبر لگائے، ورنہ جملے کی ترکیب متضاد ہو جائے گی۔

4نعت و منعوت — بنیادی تصور

اس کے بعد نعت اور منعوت کا اہم مبحث آتا ہے، جہاں نعت وہ لفظ ہے جو موصوف (منعوت) کی صفت بیان کرتا ہے اور ہمیشہ منعوت کے فوراً بعد آتا ہے۔ نعت اور منعوت میں چار چیزوں میں مکمل مطابقت ضروری ہے: جنس، عدد، تعریف و تنکیر، اور اعراب۔ سب سے پہلے جنس کی مطابقت دیکھیں:

﴿بَيْتٌ كَبِيرٌایک بڑا گھر

میں دونوں مذکر ہیں، جبکہ

﴿سَيَّارَةٌ جَمِيلَةٌایک خوبصورت گاڑی

میں دونوں مؤنث ہیں۔ عدد کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر منعوت واحد ہو تو نعت بھی واحد رہے گی، تثنیہ کے ساتھ تثنیہ اور جمع کے ساتھ جمع نعت آئے گی۔

5تعریف و تنکیر اور اعراب کی مطابقت

تعریف و تنکیر کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر منعوت معرفہ (ال کے ساتھ) ہو تو نعت بھی معرفہ ہوگی، اور اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت بھی نکرہ رہے گی۔ مثال کے طور پر

﴿الْكِتَابُ الْجَدِيدُنئی کتاب

میں دونوں الفاظ پر ال ہے، اس لیے یہ درست ترکیب ہے۔ چوتھا اصول اعراب کی مطابقت ہے، یعنی نعت کا اعراب بھی منعوت کے اعراب کے مطابق ہوگا، چاہے وہ رفع ہو، نصب ہو یا جر۔

6فعل مضارع کی مکمل گردان

اب فعل مضارع کی مکمل گردان ملاحظہ کریں، جو چودہ صیغوں پر مشتمل ہے۔ غائب کے لیے:

﴿يَكْتُبُھو

،

﴿يَكْتُبَانِھما مذکر

،

﴿يَكْتُبُونَھم

۔ غائبہ کے لیے:

﴿تَكْتُبُھی

،

﴿تَكْتُبَانِھما مؤنث

،

﴿يَكْتُبْنَھن

۔ حاضر مذکر کے لیے:

﴿تَكْتُبُأنتَ

،

﴿تَكْتُبَانِأنتما

،

﴿تَكْتُبُونَأنتم

۔ حاضرہ مؤنث کے لیے:

﴿تَكْتُبِينَأنتِ

،

﴿تَكْتُبَانِأنتما

،

﴿تَكْتُبْنَأنتن

۔ اور متکلم کے لیے:

﴿أَكْتُبُأنا

،

﴿نَكْتُبُنحن

۔

7اعراب کا ابتدائی تعارف — رفع، نصب، جزم

آخر میں اعراب کا ابتدائی تعارف کیا جاتا ہے، جو فعل مضارع کے آخری حرف کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے۔ رفع کی علامت ضمہ ہے، جیسے

﴿يَكْتُبُ

میں آخری حرف پر پیش۔ نصب کی علامت فتحہ ہے، اور جزم کی علامت سکون ہے۔ عام طور پر فعل مضارع جب کسی ناصب یا جازم حرف سے پہلے نہ آئے تو وہ مرفوع ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ گردان کے تمام صیغے اوپر ضمہ کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ تثنیہ کے صیغوں یعنی

﴿يَكْتُبَانِ

اور

﴿تَكْتُبَانِ

میں رفع کی علامت ضمہ کے بجائے نون کا برقرار رہنا ہے، اور اسی طرح جمع مذکر مخاطب و غائب کے صیغوں

﴿تَكْتُبُونَ

اور

﴿يَكْتُبُونَ

میں بھی رفع نون کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تینوں علامتیں آگے چل کر امر اور نہی کے مباحث میں بھی کام آئیں گی، جہاں انہی صیغوں پر جزم کا اطلاق ہو کر نون گرا دیا جائے گا۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 7 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
  2. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 8 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
هُوَوہ (مذکر واحد)
هِيَوہ (مؤنث واحد)
هُمَاوہ دونوں
هُمْوہ سب (مذکر جمع)
هُنَّوہ سب (مؤنث جمع)
كَبِيرٌبڑا
جَمِيلَةٌخوبصورت (مؤنث)
جَدِيدٌنیا
مُدَرِّسَةٌاستانی
نَعْتٌصفت بیان کرنے والا لفظ
مَنْعُوتٌموصوف، جس کی صفت بیان ہو
رَفْعٌاعرابی حالت — پیش/ضمہ
نَصْبٌاعرابی حالت — زبر/فتحہ
جَزْمٌاعرابی حالت — سکون

ضمائر منفصلہ غائب وہ الفاظ ہیں جو کسی غیر حاضر شخص یا چیز کی جگہ لیتے ہیں تاکہ اسم کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ پانچ ہیں: ھو (مذکر واحد)، ھی (مؤنث واحد)، ھما (دونوں)، ھم (مذکر جمع) اور ھن (مؤنث جمع)۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ جملے مختصر اور روانی والے بن جاتے ہیں، جیسے پہلے ھذا طالب کہنے کے بعد دوبارہ ذکر کے لیے صرف ھو طالب کہا جا سکتا ہے۔

دونوں جملوں میں ضمیر اور خبر کے درمیان جنس کی مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔

﴿هُوَ طَالِبٌ

میں ھو مذکر ضمیر ہے اور طالب مذکر خبر ہے، اس لیے یہ درست جملہ ہے۔ اسی طرح

﴿هِيَ مُدَرِّسَةٌ

میں ھی مؤنث ضمیر ہے اور مدرسۃ مؤنث خبر ہے۔ اگر جنس میں فرق ہو، مثلاً ھی کے ساتھ مذکر خبر لگا دی جائے، تو جملہ گرامر کے اعتبار سے غلط ہو جائے گا۔

نعت وہ لفظ ہے جو کسی اسم کی صفت یا خاصیت بیان کرتا ہے، اور جس اسم کی صفت بیان کی جائے اسے منعوت یا موصوف کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿بَيْتٌ كَبِيرٌ

میں بیت منعوت ہے اور کبیر نعت ہے، اور اس کا ترجمہ ہے ایک بڑا گھر۔ نعت ہمیشہ منعوت کے بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار اعتبار سے مطابقت رکھتی ہے۔

نعت اور منعوت میں چار اصولوں کے مطابق مکمل مطابقت ضروری ہے: پہلا جنس، یعنی دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث؛ دوسرا عدد، یعنی دونوں واحد، تثنیہ یا جمع ہوں؛ تیسرا تعریف و تنکیر، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ؛ اور چوتھا اعراب، یعنی نعت کا اعراب منعوت کے اعراب کے مطابق ہوگا۔ ان چاروں میں سے کسی ایک میں بھی فرق آ جائے تو ترکیب غلط ہو جائے گی۔

﴿الْكِتَابُ الْجَدِيدُ

میں منعوت الکتاب معرفہ ہے کیونکہ اس پر ال لگا ہوا ہے، اور نعت الجدید بھی معرفہ ہے کیونکہ اس پر بھی ال موجود ہے۔ اگر نعت کو نکرہ رکھا جاتا، یعنی صرف جدید بغیر ال کے، تو تعریف و تنکیر کی مطابقت ٹوٹ جاتی اور ترکیب درست نہ رہتی۔ اس مثال کا ترجمہ ہے نئی کتاب۔

غائب مذکر کے لیے تین صیغے ہیں: ھو کے لیے

﴿يَكْتُبُ

، ھما مذکر کے لیے

﴿يَكْتُبَانِ

، اور ھم کے لیے

﴿يَكْتُبُونَ

۔ غائبہ مؤنث کے لیے: ھی کے لیے

﴿تَكْتُبُ

، ھما مؤنث کے لیے

﴿تَكْتُبَانِ

، اور ھن کے لیے

﴿يَكْتُبْنَ

۔ یاد رہے کہ ھن کے صیغے میں یاء غائب کا حرفِ مضارعت استعمال ہوتا ہے، جو ایک خاص استثنائی صورت ہے۔

حاضر مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ

﴿تَكْتُبُ

، أنتما کے ساتھ

﴿تَكْتُبَانِ

، اور أنتم کے ساتھ

﴿تَكْتُبُونَ

۔ حاضرہ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ

﴿تَكْتُبِينَ

، أنتما کے ساتھ

﴿تَكْتُبَانِ

، اور أنتن کے ساتھ

﴿تَكْتُبْنَ

۔ متکلم کے لیے أنا کے ساتھ

﴿أَكْتُبُ

اور نحن کے ساتھ

﴿نَكْتُبُ

استعمال ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر چودہ صیغے مکمل ہو جاتے ہیں۔

فعل مضارع کے سلسلے میں تین بنیادی اعرابی حالتیں ہیں۔ رفع کی علامت ضمہ (پیش) ہے، جیسے

﴿يَكْتُبُ

کے آخر میں۔ نصب کی علامت فتحہ (زبر) ہے، اور جزم کی علامت سکون ہے، جیسے

﴿لا تَكْتُبْ

میں۔ عام طور پر فعل مضارع جب کسی خاص حرف سے پہلے نہ آئے تو وہ مرفوع رہتا ہے۔

فعل مضارع اپنی عام (پہلی) حالت میں مرفوع ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر میں ضمہ آتی ہے، جیسے

﴿يَكْتُبُ

اور

﴿تَكْتُبُ

۔ یہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی ناصب حرف (جو نصب کا سبب بنے) یا جازم حرف (جو جزم کا سبب بنے) اس سے پہلے نہ آئے۔ جیسے ہی کوئی ایسا حرف آئے گا، فعل کی آخری حرکت تبدیل ہو کر فتحہ یا سکون میں بدل جائے گی، جیسا کہ نہی کے مبحث میں دیکھا جائے گا۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1ھو کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الفحاضر مذکر واحد
بغائب مذکر واحد
جمتکلم واحد
دغائب مؤنث واحد
ھو غائب مذکر واحد کے لیے استعمال ہونے والا ضمیر منفصل ہے۔
2﴿هِيَ مُدَرِّسَةٌ﴾ کا صحیح ترجمہ کیا ہے؟
الفوہ ایک طالب علم ہے
بوہ ایک استانی ہے
جیہ ایک استانی ہے
دوہ استانیاں ہیں
ھی مؤنث غائب واحد کا ضمیر ہے، اور مدرسۃ کا مطلب استانی ہے۔
3خالی جگہ پر کون سا ضمیر آئے گا: ...... طَالِبَانِ (وہ دونوں طالب علم ہیں)
الفهُمَا
بهُمْ
جهُنَّ
دهُوَ
دو افراد کی طرف اشارہ کے لیے ھما استعمال ہوتا ہے۔
4نعت اور منعوت میں مطابقت کے کتنے اصول ہیں؟
الفدو
بتین
جچار
دپانچ
نعت اور منعوت میں چار اصولوں کی مطابقت لازم ہے: جنس، عدد، تعریف و تنکیر، اور اعراب۔
5﴿بَيْتٌ كَبِيرٌ﴾ میں کبیر کیا کہلاتا ہے؟
الفمنعوت
بنعت
جمضاف
دمضاف الیہ
کبیر بیت کی صفت بیان کر رہا ہے، اس لیے یہ نعت ہے۔
6﴿سَيَّارَةٌ جَمِيلَةٌ﴾ میں جنس کی مطابقت کیسے ہے؟
الفدونوں مذکر ہیں
بدونوں مؤنث ہیں
جسیارۃ مذکر اور جمیلۃ مؤنث ہے
دکوئی مطابقت نہیں
سیارۃ اور جمیلۃ دونوں تاء مربوطہ کے ساتھ مؤنث ہیں، اس لیے جنس کی مطابقت درست ہے۔
7﴿الْكِتَابُ الْجَدِيدُ﴾ کس اصول کی مثال ہے؟
الفجنس کی مطابقت
بعدد کی مطابقت
جتعریف کی مطابقت
داعراب کی مطابقت
دونوں الفاظ پر ال آنے کی وجہ سے یہ تعریف و تنکیر کی مطابقت کی مثال ہے۔
8اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت کیسی ہونی چاہیے؟
الفمعرفہ
بنکرہ
جکوئی بھی
دجمع
تعریف و تنکیر کی مطابقت کے مطابق نکرہ منعوت کے ساتھ نعت بھی نکرہ ہی آئے گی۔
9فعل مضارع کی گردان میں ھن کا صیغہ کیا ہے؟
الفيَكْتُبُونَ
بيَكْتُبْنَ
جتَكْتُبْنَ
دتَكْتُبُونَ
ھن (غائب مؤنث جمع) کے لیے صیغہ يَكْتُبْنَ استعمال ہوتا ہے۔
10أنتِ کے لیے فعل مضارع کا صحیح صیغہ کیا ہے؟
الفتَكْتُبُ
بتَكْتُبِينَ
جتَكْتُبَانِ
ديَكْتُبُ
حاضرہ مؤنث واحد (أنتِ) کے لیے تَكْتُبِينَ استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں یاء اور نون ہے۔
11نحن کے لیے فعل مضارع کا صیغہ کیا ہے؟
الفأَكْتُبُ
بنَكْتُبُ
جتَكْتُبُ
ديَكْتُبُ
متکلم جمع (نحن) کے لیے حرفِ مضارعت ن کے ساتھ نَكْتُبُ آتا ہے۔
12أنتما کے لیے فعل مضارع کیا ہوگا؟
الفتَكْتُبَانِ
بتَكْتُبُونَ
جيَكْتُبَانِ
دتَكْتُبِينَ
دونوں جنسوں کے تثنیہ مخاطب أنتما کے لیے تَكْتُبَانِ استعمال ہوتا ہے۔
13رفع کی علامت کیا ہے؟
الففتحہ
بضمہ
جسکون
دکسرہ
رفع کی بنیادی علامت ضمہ (پیش) ہے، جیسے يَكْتُبُ کے آخر میں۔
14نصب کی علامت کیا ہے؟
الفضمہ
بسکون
جفتحہ
دتنوین
نصب کی بنیادی علامت فتحہ (زبر) ہے۔
15جزم کی علامت کیا ہے؟
الفضمہ
بفتحہ
جسکون
دکسرہ
جزم کی علامت سکون ہے، جیسے لا تَكْتُبْ میں آخری حرف پر سکون ہے۔
16فعل مضارع عمومی حالت میں کس اعراب میں ہوتا ہے؟
الفمنصوب
بمجزوم
جمرفوع
دمجرور
جب تک کوئی ناصب یا جازم حرف نہ آئے، فعل مضارع اپنی اصل حالت یعنی مرفوع میں رہتا ہے۔
17درج ذیل میں سے کون سا صیغہ ھم (غائب مذکر جمع) کے لیے درست ہے؟
الفيَكْتُبُونَ
بتَكْتُبُونَ
جيَكْتُبْنَ
ديَكْتُبَانِ
غائب مذکر جمع ھم کے لیے يَكْتُبُونَ استعمال ہوتا ہے، جس کے آخر میں واو اور نون ہے۔