ضمائر غائب (ہو، ہی) اور نعت و منعوت
جب کسی شخص یا چیز کا ذکر پہلے ہو چکا ہو تو اسم کو بار بار دہرانے کے بجائے کون سا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور کسی اسم کی صفت بیان کرتے وقت عربی میں کن چار باتوں میں مطابقت ضروری ہے؟
1تمہید
اس سبق میں ہم ضمائر منفصلہ غائب، نعت و منعوت کی مطابقت کے چار اصول، فعل مضارع کی مکمل گردان اور اعراب کے ابتدائی تصور کا مطالعہ کریں گے۔ یہ مواد دروسِ اللغۃ العربیہ کے سبق سات اور آٹھ پر مبنی ہے۔
2ضمائر منفصلہ غائب کا تعارف
ضمائر منفصلہ غائب وہ الفاظ ہیں جو کسی غیر حاضر شخص یا چیز کی جگہ استعمال ہوتے ہیں تاکہ اسم کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان میں ھو (وہ، مذکر واحد)، ھی (وہ، مؤنث واحد)، ھما (وہ دونوں)، ھم (وہ سب، مذکر جمع) اور ھن (وہ سب، مؤنث جمع) شامل ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پہلے ذکر ہو
تو بعد میں اسی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے
، جس میں ھو نے اسم کی جگہ لے لی۔
3ضمائر غائب کا عملی استعمال
اسی طرح مؤنث کے لیے
کہا جائے گا، اور دو یا زیادہ افراد کے لیے
اور
استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضمائر جملے میں مبتدا کی جگہ آ کر خبر کے ساتھ مل کر مکمل اسمیہ جملہ بناتے ہیں، اور طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ ہر ضمیر کے ساتھ صحیح جنس اور تعداد کی خبر لگائے، ورنہ جملے کی ترکیب متضاد ہو جائے گی۔
4نعت و منعوت — بنیادی تصور
اس کے بعد نعت اور منعوت کا اہم مبحث آتا ہے، جہاں نعت وہ لفظ ہے جو موصوف (منعوت) کی صفت بیان کرتا ہے اور ہمیشہ منعوت کے فوراً بعد آتا ہے۔ نعت اور منعوت میں چار چیزوں میں مکمل مطابقت ضروری ہے: جنس، عدد، تعریف و تنکیر، اور اعراب۔ سب سے پہلے جنس کی مطابقت دیکھیں:
میں دونوں مذکر ہیں، جبکہ
میں دونوں مؤنث ہیں۔ عدد کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر منعوت واحد ہو تو نعت بھی واحد رہے گی، تثنیہ کے ساتھ تثنیہ اور جمع کے ساتھ جمع نعت آئے گی۔
5تعریف و تنکیر اور اعراب کی مطابقت
تعریف و تنکیر کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر منعوت معرفہ (ال کے ساتھ) ہو تو نعت بھی معرفہ ہوگی، اور اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت بھی نکرہ رہے گی۔ مثال کے طور پر
میں دونوں الفاظ پر ال ہے، اس لیے یہ درست ترکیب ہے۔ چوتھا اصول اعراب کی مطابقت ہے، یعنی نعت کا اعراب بھی منعوت کے اعراب کے مطابق ہوگا، چاہے وہ رفع ہو، نصب ہو یا جر۔
6فعل مضارع کی مکمل گردان
اب فعل مضارع کی مکمل گردان ملاحظہ کریں، جو چودہ صیغوں پر مشتمل ہے۔ غائب کے لیے:
،
،
۔ غائبہ کے لیے:
،
،
۔ حاضر مذکر کے لیے:
،
،
۔ حاضرہ مؤنث کے لیے:
،
،
۔ اور متکلم کے لیے:
،
۔
7اعراب کا ابتدائی تعارف — رفع، نصب، جزم
آخر میں اعراب کا ابتدائی تعارف کیا جاتا ہے، جو فعل مضارع کے آخری حرف کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے۔ رفع کی علامت ضمہ ہے، جیسے
میں آخری حرف پر پیش۔ نصب کی علامت فتحہ ہے، اور جزم کی علامت سکون ہے۔ عام طور پر فعل مضارع جب کسی ناصب یا جازم حرف سے پہلے نہ آئے تو وہ مرفوع ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ گردان کے تمام صیغے اوپر ضمہ کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ تثنیہ کے صیغوں یعنی
اور
میں رفع کی علامت ضمہ کے بجائے نون کا برقرار رہنا ہے، اور اسی طرح جمع مذکر مخاطب و غائب کے صیغوں
اور
میں بھی رفع نون کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تینوں علامتیں آگے چل کر امر اور نہی کے مباحث میں بھی کام آئیں گی، جہاں انہی صیغوں پر جزم کا اطلاق ہو کر نون گرا دیا جائے گا۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 7 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 8 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
ضمائر منفصلہ غائب وہ الفاظ ہیں جو کسی غیر حاضر شخص یا چیز کی جگہ لیتے ہیں تاکہ اسم کو بار بار دہرانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ پانچ ہیں: ھو (مذکر واحد)، ھی (مؤنث واحد)، ھما (دونوں)، ھم (مذکر جمع) اور ھن (مؤنث جمع)۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ جملے مختصر اور روانی والے بن جاتے ہیں، جیسے پہلے ھذا طالب کہنے کے بعد دوبارہ ذکر کے لیے صرف ھو طالب کہا جا سکتا ہے۔
دونوں جملوں میں ضمیر اور خبر کے درمیان جنس کی مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔
میں ھو مذکر ضمیر ہے اور طالب مذکر خبر ہے، اس لیے یہ درست جملہ ہے۔ اسی طرح
میں ھی مؤنث ضمیر ہے اور مدرسۃ مؤنث خبر ہے۔ اگر جنس میں فرق ہو، مثلاً ھی کے ساتھ مذکر خبر لگا دی جائے، تو جملہ گرامر کے اعتبار سے غلط ہو جائے گا۔
نعت وہ لفظ ہے جو کسی اسم کی صفت یا خاصیت بیان کرتا ہے، اور جس اسم کی صفت بیان کی جائے اسے منعوت یا موصوف کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر
میں بیت منعوت ہے اور کبیر نعت ہے، اور اس کا ترجمہ ہے ایک بڑا گھر۔ نعت ہمیشہ منعوت کے بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار اعتبار سے مطابقت رکھتی ہے۔
نعت اور منعوت میں چار اصولوں کے مطابق مکمل مطابقت ضروری ہے: پہلا جنس، یعنی دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث؛ دوسرا عدد، یعنی دونوں واحد، تثنیہ یا جمع ہوں؛ تیسرا تعریف و تنکیر، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ؛ اور چوتھا اعراب، یعنی نعت کا اعراب منعوت کے اعراب کے مطابق ہوگا۔ ان چاروں میں سے کسی ایک میں بھی فرق آ جائے تو ترکیب غلط ہو جائے گی۔
میں منعوت الکتاب معرفہ ہے کیونکہ اس پر ال لگا ہوا ہے، اور نعت الجدید بھی معرفہ ہے کیونکہ اس پر بھی ال موجود ہے۔ اگر نعت کو نکرہ رکھا جاتا، یعنی صرف جدید بغیر ال کے، تو تعریف و تنکیر کی مطابقت ٹوٹ جاتی اور ترکیب درست نہ رہتی۔ اس مثال کا ترجمہ ہے نئی کتاب۔
غائب مذکر کے لیے تین صیغے ہیں: ھو کے لیے
، ھما مذکر کے لیے
، اور ھم کے لیے
۔ غائبہ مؤنث کے لیے: ھی کے لیے
، ھما مؤنث کے لیے
، اور ھن کے لیے
۔ یاد رہے کہ ھن کے صیغے میں یاء غائب کا حرفِ مضارعت استعمال ہوتا ہے، جو ایک خاص استثنائی صورت ہے۔
حاضر مذکر کے لیے: أنتَ کے ساتھ
، أنتما کے ساتھ
، اور أنتم کے ساتھ
۔ حاضرہ مؤنث کے لیے: أنتِ کے ساتھ
، أنتما کے ساتھ
، اور أنتن کے ساتھ
۔ متکلم کے لیے أنا کے ساتھ
اور نحن کے ساتھ
استعمال ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر چودہ صیغے مکمل ہو جاتے ہیں۔
فعل مضارع کے سلسلے میں تین بنیادی اعرابی حالتیں ہیں۔ رفع کی علامت ضمہ (پیش) ہے، جیسے
کے آخر میں۔ نصب کی علامت فتحہ (زبر) ہے، اور جزم کی علامت سکون ہے، جیسے
میں۔ عام طور پر فعل مضارع جب کسی خاص حرف سے پہلے نہ آئے تو وہ مرفوع رہتا ہے۔
فعل مضارع اپنی عام (پہلی) حالت میں مرفوع ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر میں ضمہ آتی ہے، جیسے
اور
۔ یہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی ناصب حرف (جو نصب کا سبب بنے) یا جازم حرف (جو جزم کا سبب بنے) اس سے پہلے نہ آئے۔ جیسے ہی کوئی ایسا حرف آئے گا، فعل کی آخری حرکت تبدیل ہو کر فتحہ یا سکون میں بدل جائے گی، جیسا کہ نہی کے مبحث میں دیکھا جائے گا۔