اسم اشارہ (ھذا) اور سوالیہ کلمات — ما، ہل
کیا کسی سامنے پڑی چیز کی طرف اشارہ کر کے، اس کا نام صرف دو لفظوں کے جملے میں عربی زبان میں بتایا جا سکتا ہے؟
1عربی زبان کی اہمیت
عربی زبان کو دنیا کی زبانوں میں ایک منفرد اور بلند مقام حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ زبان ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرمائی، اور یہی زبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ، فقہ، تفسیر اور اسلامی علوم کے ہزاروں سالہ ذخیرے کی زبان ہے۔ بی ایس اسلامیات کے طالب علم کے لیے عربی زبان کا فہم کوئی اضافی مہارت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بغیر دینی متون تک براہ راست رسائی ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ کورس نہایت سادہ جملوں سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ بنیاد مضبوط ہو۔
2کلمہ کی اقسام: اسم، فعل، حرف
عربی گرامر میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر عربی لفظ (کلمہ) تین اقسام میں سے کسی ایک میں آتا ہے: اسم، فعل اور حرف۔ اسم وہ لفظ ہے جو کسی شخص، چیز یا مقام کا نام ہو، جیسے کِتَابٌ (کتاب) یا رَجُلٌ (آدمی)۔ فعل وہ لفظ ہے جو کسی کام کے کرنے یا زمانے کی نشاندہی کرے، جیسے کَتَبَ (اس نے لکھا)۔ حرف وہ لفظ ہے جس کا اپنا مکمل معنی نہیں ہوتا بلکہ دوسرے الفاظ کو جوڑنے یا کوئی نسبت ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے، جیسے فِي (میں) یا وَ (اور)۔ یہ تین اقسام پوری عربی گرامر کی بنیاد ہیں اور آئندہ اسباق میں بار بار انہی کا حوالہ آئے گا۔
3اسم اشارہ: هَذَا
پہلا اہم قاعدہ اسم اشارہ قریب مذکر یعنی هَذَا (یہ) کا استعمال ہے۔ جب کوئی چیز قریب ہو اور وہ اسم مذکر ہو تو اس کی طرف اشارہ کرنے کے لیے هَذَا استعمال ہوتا ہے، اور اس کے بعد اسم لا کر ایک مکمل جملہ بن جاتا ہے، جیسے:
اس قسم کے جملے کو جملہ اسمیہ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا جملہ جو کسی فعل کے بغیر، محض دو اسموں سے مکمل ہو جائے۔ عربی زبان کی یہ خوبی اردو بولنے والوں کے لیے ابتدا میں نئی لگتی ہے کیونکہ اردو میں 'ہے' کا فعل بولنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ عربی کے حال کے جملے میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
4سوالیہ کلمہ: مَا؟
کسی نامعلوم چیز کے بارے میں پوچھنے کے لیے سوالیہ کلمہ مَا؟ استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے 'یہ کیا ہے؟'۔ یہ کلمہ غیر ذی روح اشیاء کے لیے آتا ہے۔ سوال اور جواب کی ترتیب یوں ہوگی:
غور کریں کہ سوال میں بھی هَذَا ہی استعمال ہوا، کیونکہ اشارہ اسی چیز کی طرف ہے جس کے بارے میں دریافت کیا جا رہا ہے، اور جواب میں اسی طرز پر نیا اسم لگا دیا گیا۔
5سوالیہ کلمہ: هَلْ
جب کسی بات کی تصدیق یا تردید مطلوب ہو، یعنی جواب صرف 'ہاں' یا 'نہیں' میں دینا ہو، تو سوالیہ حرف ہَلْ استعمال ہوتا ہے۔ اس کا جواب یا تو نَعَمْ (ہاں) سے شروع ہوتا ہے یا لَا (نہیں) سے، اور نفی کی صورت میں درست بات بھی بتائی جاتی ہے:
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ هَلْ ایک حرف ہے، اسم یا فعل نہیں، کیونکہ اس کا کام صرف جملے کو سوالیہ بنانا ہے، اس کا مستقل معنی نہیں۔
6خلاصہ اور بنیادی الفاظ
خلاصہ یہ ہے کہ پہلے سبق کی تین بنیادی چیزیں ہیں: هَذَا سے اشارہ کرنا، مَا سے شناخت پوچھنا، اور هَلْ سے ہاں نہیں کا سوال بنانا۔ ساتھ ہی اسم، فعل اور حرف کی تقسیم بھی ذہن میں رکھنی ہے۔ کتاب دروس اللغۃ العربیہ کے پہلے سبق کے مخصوص الفاظ جیسے كِتَابٌ، قَلَمٌ، بَابٌ، بَيْتٌ، مَسْجِدٌ، مِفْتَاحٌ، بِسَاطٌ، فِرَاشٌ، حَصِيرٌ اور مِصْبَاحٌ کو زبانی یاد کرنا اور انہی پر تمرین کرنا اس سبق کی مکمل تفہیم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ آئندہ اسباق میں یہی الفاظ اور یہی جملے کی ساخت بار بار استعمال ہوں گے۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 1 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
عربی زبان میں ہر لفظ (کلمہ) کی تین اقسام ہیں۔ اسم وہ کلمہ ہے جو کسی ذات، چیز یا مقام کا نام ہو، جیسے
۔ فعل وہ کلمہ ہے جو کسی کام کے سرزد ہونے اور اس کے زمانے پر دلالت کرے، جیسے
۔ حرف وہ کلمہ ہے جس کا مستقل و مکمل معنی نہ ہو بلکہ وہ دوسرے الفاظ کے درمیان نسبت یا ربط پیدا کرے، جیسے
یا
جو سوال بنانے کے لیے آتا ہے۔ یہ تقسیم پوری عربی گرامر کی بنیاد ہے۔
هَذَا اسم اشارہ قریب مذکر ہے، یعنی یہ کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے جو قریب ہو اور جس کا اسم مذکر ہو۔ اس کے بعد کوئی مذکر اسم لگا کر مکمل جملہ اسمیہ بن جاتا ہے، جیسے
یا
۔ اس جملے میں کوئی فعل شامل نہیں ہوتا کیونکہ عربی میں حال کے جملے میں 'ہے' کا فعل الگ سے نہیں لگایا جاتا، صرف دو اسموں کی ترتیب ہی جملے کو مکمل کر دیتی ہے۔
جملہ اسمیہ وہ جملہ ہے جو کسی فعل کے بغیر، صرف اسموں کی ترتیب سے مکمل معنی دیتا ہے، جیسے
۔ اس جملے میں پہلا اسم مبتدأ اور دوسرا خبر کہلاتا ہے۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ حال کے زمانے میں 'ہے/ہیں' جیسے فعل کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ اردو میں ایسا جملہ 'ہے' کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہی فرق سیکھنے والوں کو ابتدا میں نیا محسوس ہوتا ہے مگر تھوڑی مشق سے یہ ساخت واضح ہو جاتی ہے۔
مَا وہ سوالیہ کلمہ ہے جو کسی غیر ذی روح چیز کی شناخت پوچھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا اردو مفہوم 'یہ کیا ہے؟' ہے۔ اسے هَذَا کے ساتھ ملا کر سوال بنایا جاتا ہے، جیسے
، اور جواب میں متعلقہ اسم لگا دیا جاتا ہے، جیسے
۔ سوال میں بھی هَذَا ہی برقرار رہتا ہے کیونکہ اشارہ اسی چیز کی طرف ہوتا ہے جسے شناخت کرنا مقصود ہے۔
هَلْ ایک حرف استفہام ہے جو جملے کو ہاں یا نہیں والا سوال بنانے کے لیے جملے کے شروع میں لگایا جاتا ہے، جیسے
۔ اگر بات درست ہو تو جواب نَعَمْ (ہاں) سے شروع کر کے وہی جملہ دہرایا جاتا ہے، جیسے
، اور اگر بات غلط ہو تو لَا (نہیں) کہہ کر درست اسم بتایا جاتا ہے، جیسے
۔ هَلْ کا اپنا کوئی مستقل معنی نہیں، اس لیے یہ حرف کہلاتا ہے نہ کہ اسم۔
هَلْ کا کام صرف یہ ہے کہ کسی خبریہ جملے کو سوالیہ جملے میں بدل دے، اس کا اپنا کوئی مستقل و مکمل معنی نہیں ہوتا جیسا کہ اسم کا ہوتا ہے (مثلاً كِتَابٌ کا معنی خود مکمل ہے) یا جیسا فعل کا ہوتا ہے (جو کام اور زمانے پر دلالت کرتا ہے)۔ چونکہ هَلْ محض ایک نسبت یعنی سوال کا انداز پیدا کرتا ہے اور دوسرے الفاظ سے مل کر ہی اپنا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اسے حرف کی قسم میں شمار کیا جاتا ہے۔
پہلے سبق میں دروس اللغۃ العربیہ کی مشہور فہرست میں یہ الفاظ شامل ہیں: كِتَابٌ (کتاب)، قَلَمٌ (قلم)، بَابٌ (دروازہ)، بَيْتٌ (گھر)، مَسْجِدٌ (مسجد)، مِفْتَاحٌ (چابی)، بِسَاطٌ (دری نما فرش)، فِرَاشٌ (بستر)، حَصِيرٌ (چٹائی)، اور مِصْبَاحٌ (چراغ)۔ یہ تمام الفاظ مذکر اسم ہیں اور اسی وجہ سے هَذَا کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ان الفاظ کو زبانی یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ آئندہ اسباق میں انہی پر نئے قواعد کی مشق کرائی جائے گی۔
'یہ ایک مسجد ہے' کا عربی ترجمہ
ہے، جس میں هَذَا اشارہ کر رہا ہے اور مَسْجِدٌ خبر ہے۔ 'کیا یہ مسجد ہے؟ ہاں، یہ مسجد ہے' کا ترجمہ
ہوگا، جس میں هَلْ سوال بنانے کے لیے شروع میں لگایا گیا اور نَعَمْ سے اثباتی جواب دیا گیا۔ یہ دونوں مثالیں سبق کے دونوں بنیادی جملوں یعنی جملہ اسمیہ اور سوالیہ جملے کی عملی مشق ہیں۔
اس سبق میں طالب علم نے تین بنیادی چیزیں سیکھیں: هَذَا سے قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنا، مَا سے کسی چیز کی شناخت دریافت کرنا، اور هَلْ سے ہاں نہیں کا سوال بنانا، ساتھ ہی اسم، فعل اور حرف کی بنیادی تقسیم بھی۔ یہ تمام باتیں آئندہ اسباق کی بنیاد ہیں کیونکہ دوسرے سبق میں مَنْ کے ذریعے انسانوں کی شناخت، اور تنوین و ال تعریف جیسے مباحث اسی جملہ اسمیہ کی ساخت پر تعمیر کیے جائیں گے۔