رنگ و اعداد؛ اسم الفاعل و اسم المفعول
کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی میں رنگ بتانے کے لیے مذکر اور مؤنث کا الگ وزن استعمال ہوتا ہے، اور 'لکھنے والا' اور 'لکھا ہوا' کے لیے بھی الگ الگ خاص سانچے ہیں؟
1رنگوں کے اسمائے صفت (الألوان) اور جنسی مطابقت
رنگوں کے نام عربی میں اسمِ صفت (نعت) کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور یہ اپنے موصوف (جس اسم کی صفت بیان کریں) کے مذکر و مؤنث ہونے کے مطابق بدلتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر بنیادی رنگ ایک خاص وزن پر آتے ہیں: مذکر کے لیے أَفْعَل اور مؤنث کے لیے فَعْلَاء۔ مثلاً أَحْمَر (سرخ) کی مؤنث حَمْرَاء ہے، أَخْضَر (سبز) کی مؤنث خَضْرَاء ہے، أَبْيَض (سفید) کی مؤنث بَيْضَاء ہے، أَسْوَد (کالا) کی مؤنث سَوْدَاء ہے، اور أَزْرَق (نیلا) کی مؤنث زَرْقَاء ہے۔ چونکہ رنگ نعت ہیں اس لیے یہ اپنے موصوف کی معرفہ/نکرہ، اعراب اور جنس میں بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
2وزن أَفْعَل / فَعْلَاء کی خصوصیت
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ وزن أَفْعَل/فَعْلَاء دراصل اسم تفضیل کے خاندان ہی کا ایک خاص استعمال ہے، لیکن جب یہ رنگوں اور جسمانی عیوب (جیسے أَعْرَج لنگڑا) کے لیے آتا ہے تو یہ عام اسم تفضیل کی طرح "زیادہ" کے معنی نہیں دیتا بلکہ محض ایک وصف بیان کرتا ہے، اور اس کی تانیث قیاسی طور پر فَعْلَاء کے وزن پر ہی آتی ہے، عام صفات کی طرح تاء مربوطہ کے اضافے سے نہیں۔ لہٰذا طالب علم کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک استثنائی گروہ ہے جس کی جمع بھی فُعْل کے وزن پر آتی ہے، جیسے حُمْر (سرخ، جمع)۔
3اعداد ١ تا ١٠ اور معدود سے تعلق
اعداد ١ تا ١٠ کے بنیادی الفاظ یہ ہیں: وَاحِدٌ (ایک)، اثْنَانِ (دو)، ثَلَاثَةٌ (تین)، أَرْبَعَةٌ (چار)، خَمْسَةٌ (پانچ)، سِتَّةٌ (چھ)، سَبْعَةٌ (سات)، ثَمَانِيَةٌ (آٹھ)، تِسْعَةٌ (نو)، عَشَرَةٌ (دس)۔ ابتدائی سطح پر طالب علم کو صرف اتنا جاننا کافی ہے کہ عدد کے بعد آنے والا معدود (گنی جانے والی چیز) اکثر جمع اور مجرور کی صورت میں آتا ہے، جیسے:
تفصیلی قاعدہ (مذکر و مؤنث میں مخالفتِ جنس، یعنی عدد اگر مذکر معدود کے ساتھ ہو تو خود مؤنث کی شکل میں آتا ہے اور اس کے برعکس) آگے چل کر تفصیل سے پڑھایا جائے گا، فی الحال صرف عدد کی بنیادی شکل، ترتیب اور تلفظ یاد کرنا مقصود ہے تاکہ روزمرہ گنتی کے جملے بولے اور سمجھے جا سکیں۔
4اسم الفاعل — وزن فَاعِل
اسم الفاعل وہ اسم مشتق ہے جو فعل کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، یعنی "کرنے والا"۔ فعلِ ثلاثی مجرد سے اس کا وزن ہمیشہ فَاعِل آتا ہے، خواہ فعل کسی بھی باب سے کیوں نہ ہو۔ مثلاً کَتَبَ (اس نے لکھا) سے كَاتِبٌ (لکھنے والا)، قَرَأَ (اس نے پڑھا) سے قَارِئٌ (پڑھنے والا)، اور فَتَحَ (اس نے کھولا) سے فَاتِحٌ (کھولنے والا) بنتا ہے۔ اسم الفاعل بذاتِ خود ایک نعت یا خبر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور جملہ اسمیہ میں فاعل کے قائم مقام بھی آ سکتا ہے، نیز یہ مذکر و مؤنث اور واحد و جمع میں بھی ڈھل جاتا ہے، جیسے كَاتِبَةٌ (لکھنے والی، مؤنث)۔
5اسم المفعول — وزن مَفْعُول
اسم المفعول اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل واقع ہو، یعنی "جس پر کام کیا گیا ہو"۔ فعلِ ثلاثی مجرد سے اس کا وزن ہمیشہ مَفْعُول آتا ہے۔ مثلاً کَتَبَ سے مَكْتُوبٌ (لکھا ہوا)، اور فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھلا ہوا/کھولا گیا) بنتا ہے۔ یہ بھی نعت اور خبر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور اپنے موصوف کے مطابق مؤنث و جمع کی صورت اختیار کرتا ہے۔
6خلاصہ سبق
خلاصہ یہ کہ اس سبق میں تین اہم موضوعات پڑھے: رنگوں کا خاص وزن اور ان کی جنسی مطابقت، اعداد کی بنیادی گنتی، اور دو نہایت اہم مشتقات یعنی اسم الفاعل اور اسم المفعول جو آگے چل کر جملہ سازی اور ترجمہ دونوں میں بار بار کام آئیں گے۔ ان اوزان کو زبانی یاد کر لینا ضروری ہے کیونکہ عربی متن میں یہ گنتی کے بغیر ہر صفحے پر نظر آتے ہیں۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 11 و 12 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
عربی میں بنیادی رنگ عام طور پر مذکر کے لیے أَفْعَل اور مؤنث کے لیے فَعْلَاء کے وزن پر آتے ہیں، جیسے أَحْمَر اور حَمْرَاء۔ یہ وزن عام صفات سے مختلف ہے کیونکہ عام صفات میں مؤنث بنانے کے لیے صرف تاء مربوطہ لگائی جاتی ہے، جبکہ یہاں پورا وزن ہی بدل جاتا ہے۔ یہی وزن جسمانی عیوب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے أَعْرَج (لنگڑا)۔ چونکہ رنگ نعت ہیں اس لیے یہ اپنے موصوف کی جنس، عدد اور اعراب کے مطابق بدلتے ہیں، جیسے قَلَمٌ أَحْمَرُ اور وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ۔ طالب علم کو ہر رنگ کی دونوں صورتیں یاد کرنی چاہئیں۔
پہلی مثال میں قَلَمٌ مذکر اسم ہے، اس لیے اس کی صفت بھی مذکر وزن أَحْمَر پر لائی گئی ہے۔ دوسری مثال میں وَرْدَةٌ مؤنث اسم ہے (تاء مربوطہ کی وجہ سے)، اس لیے اس کی صفت مؤنث وزن حَمْرَاء پر لائی گئی۔ یہ عربی گرامر کا بنیادی اصول ہے کہ نعت ہمیشہ اپنے منعوت کے ساتھ جنس، عدد، معرفہ/نکرہ اور اعراب میں مطابقت رکھتی ہے۔ دونوں مثالوں میں نعت و منعوت دونوں نکرہ اور مرفوع ہیں، اسی مطابقت کی وجہ سے جملہ گرامری طور پر درست بنا ہے۔
اعداد یہ ہیں: وَاحِدٌ، اثْنَانِ، ثَلَاثَةٌ، أَرْبَعَةٌ، خَمْسَةٌ، سِتَّةٌ، سَبْعَةٌ، ثَمَانِيَةٌ، تِسْعَةٌ، عَشَرَةٌ۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ عدد تین سے دس تک کے بعد آنے والا معدود اکثر جمع اور مجرور کی حالت میں آتا ہے، جیسے ثَلَاثَةُ كُتُبٍ (تین کتابیں) اور خَمْسَةُ أَقْلَامٍ (پانچ قلم)۔ اس سبق میں صرف بنیادی گنتی اور اس مختصر اصول پر اکتفا کیا گیا ہے، جبکہ مذکر مؤنث کی مخالفتِ جنس والا مکمل قاعدہ آئندہ اسباق میں تفصیل سے سمجھایا جائے گا۔
اسم الفاعل وہ مشتق اسم ہے جو فعل انجام دینے والے شخص یا چیز کو ظاہر کرتا ہے، یعنی اس کا معنی 'کرنے والا' ہوتا ہے۔ فعلِ ثلاثی مجرد سے اس کا وزن ہمیشہ فَاعِل آتا ہے۔ مثال کے طور پر کَتَبَ سے كَاتِبٌ (لکھنے والا)، قَرَأَ سے قَارِئٌ (پڑھنے والا) اور فَتَحَ سے فَاتِحٌ (کھولنے والا) بنایا جاتا ہے۔ اسم الفاعل جملے میں بطور نعت، خبر یا حتیٰ کہ فاعل کے قائم مقام بھی استعمال ہو سکتا ہے، اور یہ مذکر، مؤنث، واحد و جمع میں ڈھل جاتا ہے۔
اسم المفعول وہ مشتق اسم ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل واقع ہوا ہو، یعنی اس کا معنی 'جس پر کام کیا گیا' ہوتا ہے۔ ثلاثی مجرد فعل سے اس کا وزن ہمیشہ مَفْعُول آتا ہے۔ مثلاً کَتَبَ سے مَكْتُوبٌ (لکھا ہوا) اور فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھولا ہوا/کھلا) بنتا ہے۔ جملوں میں یہ نعت اور خبر دونوں طرح آتا ہے، جیسے الْبَابُ مَفْتُوحٌ (دروازہ کھلا ہے) اور هَذَا كِتَابٌ مَكْتُوبٌ بِالْعَرَبِيَّةِ (یہ عربی میں لکھی گئی کتاب ہے)۔
اسم الفاعل کا وزن فَاعِل ہے اور یہ فعل کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، جیسے كَاتِبٌ یعنی لکھنے والا۔ اسم المفعول کا وزن مَفْعُول ہے اور یہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل واقع ہوا، جیسے مَكْتُوبٌ یعنی لکھا ہوا۔ دونوں ثلاثی مجرد فعل سے مشتق ہوتے ہیں مگر ان کا صیغہ اور معنی بالکل مخالف سمت رکھتا ہے، ایک فاعل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا مفعول کی طرف۔ دونوں کی پہچان کے لیے وزن کا فرق ہی سب سے بڑا معیار ہے۔
أَبْيَضُ کی مؤنث بَيْضَاءُ ہے اور أَسْوَدُ کی مؤنث سَوْدَاءُ ہے۔ ان کو مؤنث اسم کے ساتھ بطور نعت استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے
اور
۔ چونکہ وَرْدَةٌ اور قِطَّةٌ دونوں مؤنث اسم ہیں، اس لیے ان کی صفت بھی مؤنث وزن فَعْلَاء پر لائی گئی ہے۔ یہی اصول ہر رنگ کی نعت پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے طالب علم کو ہر رنگ کا مذکر مؤنث جوڑا زبانی یاد ہونا چاہیے۔
جی ہاں، دونوں کی جمع سالم اور مکسر دونوں طریقوں سے آ سکتی ہے۔ مثلاً كَاتِبٌ کی جمع مذکر سالم كَاتِبُونَ اور جمع مکسر كُتَّابٌ آتی ہے، جبکہ مَكْتُوبٌ کی جمع مَكْتُوبَاتٌ (مؤنث اشیاء کے لیے) بھی آتی ہے۔ جملے میں یہ اپنے موصوف کے عدد کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں، جیسے
۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مشتقات محض واحد تک محدود نہیں بلکہ مکمل اسمی تصریف رکھتے ہیں۔
ان تینوں موضوعات کو ایک ہی جملے میں یوں جمع کیا جا سکتا ہے:
۔ اس جملے میں عدد ثَلَاثَة، معدود كُتُب اور رنگ حَمْرَاء بطور نعت ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں، اور فعل كَتَبْتُ خود اسم الفاعل كَاتِب کی جڑ سے ماخوذ ہے۔ اس طرح کی مشقی مثالیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ گرامر کے مختلف اجزاء کس طرح ایک فصیح اور روزمرہ جملے میں یکجا ہوتے ہیں۔