ہوماسباق ‹ سبق 9
سبق 9 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 14

مثنی (تثنیہ)؛ مرکب اضافی و توصیفی

جب کسی چیز کی تعداد بالکل دو ہو تو عربی زبان اس کے لیے واحد یا جمع کے بجائے ایک تیسری الگ صورت استعمال کرتی ہے — کیا آپ جانتے ہیں یہ کیسے بنتی ہے؟

1المثنی — تثنیہ کا قاعدہ اور اعراب

المثنی یعنی تثنیہ عربی زبان کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو اردو اور بیشتر دیگر زبانوں میں موجود نہیں، کیونکہ عربی میں اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں: واحد (ایک)، مثنی (دو) اور جمع (تین یا زیادہ)۔ مثنی بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ حالتِ رفع میں واحد اسم کے آخر میں ـَانِ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ حالتِ نصب اور جر میں ـَيْنِ کا اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً كِتَابٌ (ایک کتاب) سے مثنی رفع میں كِتَابَانِ اور نصب و جر میں كِتَابَيْنِ بنتا ہے۔ یہ قاعدہ تمام اسموں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث۔

﴿هَذَانِ كِتَابَانِیہ دونوں کتابیں ہیں — رفع
﴿رَأَيْتُ كِتَابَيْنِمیں نے دو کتابیں دیکھیں — نصب

2مثنی اسمائے اشارہ: هَذَانِ اور هَاتَانِ

مثنی کے لیے اسمائے اشارہ بھی خاص صورت اختیار کرتے ہیں۔ مذکر مثنی کے لیے هَذَانِ (یہ دونوں) اور مؤنث مثنی کے لیے هَاتَانِ (یہ دونوں، مؤنث) استعمال ہوتے ہیں۔ یہ اسمائے اشارہ بھی حالتِ نصب و جر میں هَذَيْنِ اور هَاتَيْنِ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مثنی اسم کا اعراب بدلتا ہے۔

﴿هَاتَانِ سَيَّارَتَانِیہ دونوں گاڑیاں ہیں

3فعل کی مثنی گردان اور مضاف بننے پر نون کا حذف

فعل کی گردان میں بھی مثنی کا ایک الگ صیغہ ہوتا ہے، جو طالب علم پہلے فعل ماضی کی گردان میں دیکھ چکا ہے۔ مثلاً فعل ماضی کَتَبَ کی مثنی مذکر غائب کی صورت هُمَا كَتَبَا (وہ دونوں مرد لکھے) اور مثنی مؤنث غائب کی صورت هُمَا كَتَبَتَا (وہ دونوں عورتیں لکھیں) ہے۔ یہاں صرف اس اصول کی یاد دہانی مقصود ہے کہ مثنی صرف اسم تک محدود نہیں بلکہ فعل کے صیغوں میں بھی اپنا اثر ظاہر کرتا ہے، اور آئندہ اسباق میں فعل مضارع کی مثنی صورتیں بھی تفصیل سے پڑھائی جائیں گی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ عربی میں مثنی کے لیے مخاطب اور متکلم کے صیغے بھی الگ سے موجود ہیں، مثلاً كَتَبْتُمَا (تم دونوں نے لکھا)، جو ظاہر کرتا ہے کہ عربی گردان کا نظام واحد اور جمع کے علاوہ ایک مکمل درمیانی درجہ بھی رکھتا ہے، جسے سیکھے بغیر مکمل عربی گردان کا فہم ممکن نہیں۔ ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ حرفِ نون (ن) جو ـَانِ اور ـَيْنِ کے آخر میں آتا ہے، مرکب اضافی میں مضاف کی حیثیت اختیار کرنے پر گر جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جمع مذکر سالم کے ساتھ ہوتا ہے۔ مثلاً

﴿كِتَابَا الطَّالِبِطالب علم کی دو کتابیں

میں كِتَابَانِ سے نون گر کر كِتَابَا رہ گیا ہے کیونکہ یہ اب مضاف بن چکا ہے۔ یہ باریک نکتہ آگے چل کر اضافت اور مثنی کے امتزاج کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

4مرکب اضافی کا اعادہ

مرکب اضافی، جسے پہلے بھی متعارف کرایا جا چکا ہے، دو اسموں کے امتزاج سے بننے والی وہ ترکیب ہے جو ملکیت یا نسبت کا معنی دیتی ہے۔ اس میں پہلا جزو مضاف اور دوسرا جزو مضاف الیہ کہلاتا ہے، اور بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی اعرابی حالت میں کیوں نہ ہو۔ مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین۔

﴿كِتَابُ الطَّالِبِطالب علم کی کتاب

5مرکب توصیفی کی پہچان

مرکب توصیفی ایک بالکل مختلف ترکیب ہے، جس میں ایک اسم (موصوف) اور اس کی صفت (نعت) مل کر ایک اکائی بناتے ہیں۔ مرکب اضافی کے برعکس، مرکب توصیفی میں دونوں اجزاء اعراب میں مطابقت رکھتے ہیں، یعنی اگر موصوف مرفوع ہے تو صفت بھی مرفوع ہوگی، اور دونوں معرفہ یا دونوں نکرہ ہوں گے۔

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُخوبصورت کتاب

6مرکب اضافی اور مرکب توصیفی کا موازنہ

ان دونوں مرکبات کا فرق واضح کرنے کے لیے موازنہ مفید ہے:

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

میں طالب علم کی ملکیت ظاہر ہو رہی ہے، یعنی مضاف الیہ الطَّالِبِ مجرور ہے اور مضاف كِتَابُ پر ال یا تنوین نہیں آیا۔ اس کے برعکس

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ

میں الْجَمِيلُ محض ایک وصف بیان کر رہا ہے، اور یہاں دونوں اجزاء پر ال بھی آیا ہے اور دونوں مرفوع بھی ہیں۔ گویا مرکب اضافی میں معنیٰ نسبت یا ملکیت کا ہوتا ہے اور اعراب میں دونوں اجزاء مختلف ہوتے ہیں، جبکہ مرکب توصیفی میں معنیٰ توصیف کا ہوتا ہے اور دونوں اجزاء ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ عربی متن میں دونوں تراکیب اکثر ایک ساتھ بھی استعمال ہوتی ہیں، جیسے

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَمِيلُطالب علم کی خوبصورت کتاب

جس میں اضافت اور توصیف دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — سبق 14 (ڈاکٹر و. عبدالرحیم، الجامعہ الاسلامیہ، مدینہ منورہ)
كِتَابَانِ / كِتَابَيْنِدو کتابیں (رفع/نصب و جر)
سَيَّارَتَانِدو گاڑیاں (رفع)
هَذَانِیہ دونوں (مذکر)
هَاتَانِیہ دونوں (مؤنث)
هَذَيْنِان دونوں کو/کا (مذکر، نصب و جر)
هَاتَيْنِان دونوں کو/کا (مؤنث، نصب و جر)
هُمَا كَتَبَاوہ دونوں مرد لکھے (فعل ماضی مثنی)
هُمَا كَتَبَتَاوہ دونوں عورتیں لکھیں (فعل ماضی مثنی)
مُضَافٌاضافت کا پہلا جزو
مُضَافٌ إِلَيْهِاضافت کا دوسرا جزو (ہمیشہ مجرور)
الْجَمِيلُخوبصورت
مَوْصُوفٌموصوف (جس کی صفت بیان کی جائے)

المثنی عربی میں اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی چیز کی صرف دو تعداد ظاہر کرے۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ حالتِ رفع میں واحد اسم کے آخر میں ـَانِ کا اضافہ کیا جاتا ہے، اور حالتِ نصب و جر میں ـَيْنِ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً كِتَابٌ سے مثنی رفع میں كِتَابَانِ اور نصب و جر میں كِتَابَيْنِ بنتا ہے۔ یہ قاعدہ عربی زبان کی خاص صفت ہے کیونکہ اردو یا انگریزی میں واحد اور جمع کے علاوہ کوئی الگ صیغہ موجود نہیں۔

هَذَانِ اسم اشارہ قریب کا مثنی مذکر صیغہ ہے، جبکہ هَاتَانِ اسی کا مثنی مؤنث صیغہ ہے۔ دونوں کا مطلب 'یہ دونوں' ہوتا ہے مگر ان کا استعمال اشارہ کیے جانے والے اسم کی جنس پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر

﴿هَذَانِ كِتَابَانِ

میں چونکہ كِتَابَانِ مذکر ہے، اس لیے هَذَانِ استعمال ہوا، جبکہ

﴿هَاتَانِ سَيَّارَتَانِ

میں سَيَّارَتَانِ مؤنث ہونے کی وجہ سے هَاتَانِ آیا۔ دونوں حالتِ نصب و جر میں بالترتیب هَذَيْنِ اور هَاتَيْنِ بن جاتے ہیں۔

فعل ماضی کی مثنی گردان میں مذکر غائب کی صورت هُمَا كَتَبَا (وہ دونوں مرد لکھے) ہے، جبکہ مؤنث غائب کی صورت هُمَا كَتَبَتَا (وہ دونوں عورتیں لکھیں) ہے۔ دونوں صیغوں میں فعل کے آخر میں الف کا اضافہ مثنی کی علامت ہے، اور مؤنث میں اس سے پہلے تاء التانیث بھی آتی ہے۔ یہ صیغے طالب علم پہلے فعل ماضی کی مکمل گردان میں دیکھ چکا ہے اور اب مثنی اسم کے تناظر میں انہیں دہرایا گیا ہے۔

مرکب اضافی وہ ترکیب ہے جو دو اسموں کے ملاپ سے ملکیت یا نسبت کا معنی پیدا کرتی ہے۔ پہلا جزو مضاف اور دوسرا جزو مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی اعرابی حالت میں ہو، اور مضاف پر نہ ال آتا ہے نہ تنوین۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِطالب علم کی کتاب

میں الطَّالِبِ ہمیشہ مجرور رہے گا۔

مرکب توصیفی وہ ترکیب ہے جس میں ایک موصوف اور اس کی صفت مل کر ایک گرامری اکائی بناتے ہیں۔ اس میں موصوف اور صفت جنس، عدد، معرفہ/نکرہ اور اعراب چاروں میں مطابقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُخوبصورت کتاب

میں الْكِتَابُ موصوف اور الْجَمِيلُ اس کی صفت ہے، دونوں معرفہ (ال کے ساتھ) اور دونوں مرفوع ہیں، اس لیے یہ ایک درست مرکب توصیفی ہے۔

مرکب اضافی میں دونوں اجزاء کا اعراب الگ الگ ہوتا ہے: مضاف کا اعراب جملے میں اس کے مقام کے مطابق بدلتا ہے جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔ اس کے برعکس مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت دونوں کا اعراب یکساں ہوتا ہے، یعنی اگر موصوف مرفوع ہے تو صفت بھی مرفوع ہوگی۔ یہی بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

اور

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ

کی ساخت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ

کا معنی 'طالب علم کی کتاب' ہے، یعنی یہاں ملکیت یا نسبت کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ کتاب طالب علم سے متعلق ہے۔ جبکہ

﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ

کا معنی 'خوبصورت کتاب' ہے، یعنی یہاں کسی چیز کی ملکیت نہیں بلکہ اس کی ایک صفت یا وصف بیان کیا جا رہا ہے۔ گویا پہلی ترکیب دو الگ اسموں کے تعلق سے بنتی ہے جبکہ دوسری ترکیب ایک اسم اور اس کی صفت کے امتزاج سے بنتی ہے۔

جی ہاں، دونوں تراکیب ایک ہی جملے میں اکٹھی آ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَمِيلُطالب علم کی خوبصورت کتاب

میں پہلے كِتَابُ الطَّالِبِ سے مرکب اضافی بنی ہے، اور پھر الْجَمِيلُ اس پوری اضافت کے مجموعی موصوف یعنی كِتَابُ کی صفت بن کر آیا ہے، اس لیے وہ بھی مرفوع اور معرفہ ہے۔ اس طرح کی مثالیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ عربی جملے کس طرح تہہ در تہہ ترکیبوں سے مل کر بنتے ہیں۔

اس جملے میں هَذَانِ اسم اشارہ مثنی مذکر مبتدا کے طور پر مرفوع ہے، اور كِتَابَانِ اس کی خبر ہے جو مثنی ہونے کی وجہ سے مرفوع حالت میں ـَانِ کے ساتھ آیا ہے۔ چونکہ دونوں مبتدا اور خبر مثنی مذکر ہیں، اس لیے مطابقت مکمل ہے۔ اس جملے کا ترجمہ 'یہ دونوں کتابیں ہیں' ہے، اور اگر یہی جملہ کسی فعل کے مفعول کی حیثیت سے آتا تو كِتَابَيْنِ کی صورت میں ـَيْنِ کے ساتھ آتا۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1مثنی کی رفع کی علامت کیا ہے؟
الفـَيْنِ
بـَانِ
جونَ
دينَ
مثنی کی حالتِ رفع میں ـَانِ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے كِتَابَانِ۔
2مثنی کی نصب و جر کی علامت کیا ہے؟
الفـَانِ
بـَيْنِ
جاتٌ
دونَ
مثنی کی حالتِ نصب و جر میں ـَيْنِ کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے كِتَابَيْنِ۔
3كِتَابٌ کی مثنی حالتِ رفع میں کیا ہوگی؟
الفكِتَابَيْنِ
بكِتَابَانِ
جكُتُبٌ
دكِتَابُونَ
حالتِ رفع میں كِتَابٌ کی مثنی كِتَابَانِ بنتی ہے۔
4﴿رَأَيْتُ كِتَابَيْنِ﴾ میں كِتَابَيْنِ کس حالت میں ہے؟
الفرفع
بنصب
ججمع سالم
دمرکب اضافی
یہ لفظ فعل رَأَيْتُ کا مفعول ہے، اس لیے یہ حالتِ نصب میں ہے اور ـَيْنِ کے ساتھ آیا ہے۔
5مذکر مثنی کے لیے اسم اشارہ قریب کیا ہے؟
الفهَاتَانِ
بهَذَانِ
جهَؤُلَاءِ
دذَلِكَ
مذکر مثنی کے لیے هَذَانِ استعمال ہوتا ہے۔
6مؤنث مثنی کے لیے اسم اشارہ قریب کیا ہے؟
الفهَذَانِ
بهَاتَانِ
جتِلْكَ
دهَؤُلَاءِ
مؤنث مثنی کے لیے هَاتَانِ استعمال ہوتا ہے۔
7هَذَانِ کی حالتِ نصب و جر میں شکل کیا ہوگی؟
الفهَذَيْنِ
بهَاتَيْنِ
جهَؤُلَاءِ
دهَذِهِ
هَذَانِ نصب و جر کی حالت میں هَذَيْنِ بن جاتا ہے۔
8فعل ماضی كَتَبَ کی مثنی مذکر غائب کی صورت کیا ہے؟
الفكَتَبُوا
بكَتَبَا
جكَتَبَتَا
دكَتَبْتُمَا
مثنی مذکر غائب کے لیے كَتَبَا (وہ دونوں مرد لکھے) استعمال ہوتا ہے۔
9فعل ماضی كَتَبَ کی مثنی مؤنث غائب کی صورت کیا ہے؟
الفكَتَبَا
بكَتَبْنَ
جكَتَبَتَا
دكَتَبَتْ
مثنی مؤنث غائب کے لیے كَتَبَتَا (وہ دونوں عورتیں لکھیں) استعمال ہوتا ہے۔
10مرکب اضافی میں مضاف الیہ کی اعرابی حالت کیا ہوتی ہے؟
الفہمیشہ مرفوع
بہمیشہ منصوب
جہمیشہ مجرور
دجملے کے مطابق بدلتی ہے
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی حالت میں ہو۔
11مرکب اضافی میں مضاف پر کیا نہیں آتا؟
الفحرکت
بال اور تنوین
جاعراب
دحرف
مضاف پر نہ ال آتا ہے اور نہ تنوین۔
12﴿كِتَابُ الطَّالِبِ﴾ کا ترجمہ کیا ہے؟
الفخوبصورت کتاب
بطالب علم کی کتاب
جدو کتابیں
دطالب علموں کی کتابیں
یہ مرکب اضافی ہے جس کا معنی 'طالب علم کی کتاب' ہے۔
13مرکب توصیفی کسے کہتے ہیں؟
الفدو اسموں کی ملکیت کی ترکیب
بموصوف اور صفت کی ترکیب
جفعل اور فاعل کی ترکیب
دعدد اور معدود کی ترکیب
مرکب توصیفی موصوف اور اس کی صفت کے امتزاج سے بنتا ہے۔
14﴿الْكِتَابُ الْجَمِيلُ﴾ میں دونوں اجزاء کے اعراب کے بارے میں کیا درست ہے؟
الفدونوں مختلف اعراب رکھتے ہیں
بدونوں ایک جیسا اعراب رکھتے ہیں
جصرف پہلا لفظ معرب ہے
دکوئی اعراب نہیں
مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت اعراب میں مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔
15مرکب اضافی اور مرکب توصیفی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفدونوں ایک جیسے ہیں
بایک ملکیت ظاہر کرتا ہے، دوسرا وصف
جدونوں صرف افعال پر مشتمل ہیں
دکوئی فرق نہیں
مرکب اضافی نسبت/ملکیت ظاہر کرتا ہے جبکہ مرکب توصیفی وصف بیان کرتا ہے۔
16﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَمِيلُ﴾ میں الْجَمِيلُ کس کی صفت ہے؟
الفالطَّالِبِ کی
بكِتَابُ کی
جدونوں کی
دکسی کی نہیں
الْجَمِيلُ پوری اضافت کے مجموعی موصوف یعنی كِتَابُ کی صفت ہے، اسی لیے وہ مرفوع آیا۔
17هَاتَانِ سَيَّارَتَانِ میں سَيَّارَتَانِ کس اعرابی حالت میں ہے؟
الفنصب
بجر
جرفع
دجزم
یہ جملہ اسمیہ کی خبر ہے، مبتدا هَاتَانِ کی طرح مرفوع ہے، اس لیے ـَانِ کے ساتھ آیا۔