الادب العربی: اخلاقی و علمی مضامین پر مبنی نثری اقتباسات
کیا علم انسان کو مغرور بناتا ہے یا متواضع؟ آئیے اس سوال کا جواب ایک عربی اقتباس میں تلاش کریں۔
1تعارف
عربی ادب میں اخلاقی و علمی مضامین کو ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہا ہے، خصوصاً تواضع اور طلبِ علم کے موضوعات پر لکھی گئی مختصر نثری تحریریں طلبہ کی تربیت کے لیے بہت مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ذیل میں ایک منتخب اقتباس دیا گیا ہے جو ایک سچے عالم کی تواضع اور علم کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مکمل عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ ملاحظہ کریں، پھر اس پر گرامری و فہمی تبصرہ کیا جائے گا۔
2اقتباس: پہلا حصہ
3اقتباس: دوسرا حصہ
4گرامری وضاحت
گرامری نقطۂ نظر سے یہ اقتباس شرطیہ اور تعجبی اسلوب کی عمدہ مثالیں پیش کرتا ہے۔ جملہ «كُلَّمَا ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا ازْدَادَ تَوَاضُعًا» میں «كُلَّمَا» ایک شرطی اسلوب پیدا کرتا ہے جس کا مفہوم ہے 'جب بھی'، اور اس کے بعد دو افعال ماضی «ازْدَادَ» بطور فعل شرط اور جواب شرط استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح «عِلْمًا» اور «تَوَاضُعًا» یہاں تمییز کے طور پر منصوب آئے ہیں، جو فعل «ازْدَادَ» کے مبہم پہلو کو واضح کرتے ہیں۔ جملہ «مَا أَنَا إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ» میں «مَا... إِلَّا» کا اسلوبِ حصر استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے 'میں نہیں ہوں مگر'، یعنی صرف ایک ہی چیز کی نفی کے بعد اثبات۔ فعل امر و نہی کے قاعدے کی رو سے «فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ وَيَصْبِرَ» میں فعل مضارع منصوب بعد از «أَنْ» کی مثال ملتی ہے، جو دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول میں پڑھائے گئے فعل مضارع کے احکام کی عملی مثال ہے۔
5فہمی نکات
اس اقتباس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ حقیقی علم انسان کو متکبر نہیں بلکہ متواضع بناتا ہے۔ جتنا زیادہ انسان علم میں آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی وہ اپنی کم علمی اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کا احساس کرتا ہے۔ روایت میں بیان کردہ عالم کا جواب اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑے سے بڑا عالم بھی خود کو ابھی طالبِ علم ہی سمجھتا ہے۔ طلبہ کے لیے اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم حاصل کرتے وقت تکبر اور جلد بازی سے بچنا چاہیے، اور استاد کی عزت و تواضع کو لازمی جزو سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی رویہ علمِ نافع کے حصول کا اصل راستہ ہے۔
مصادر و مراجع
- اس طرز کے منتخب اقتباسات پر مبنی اصل تحریر
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — گرامری اعادہ
اقتباس میں علم کو نور سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح روشنی انسان کو اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے، اسی طرح علم بھی انسان کے دل و دماغ کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر حق اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ 'الْعِلْمُ نُورٌ يَهْدِي صَاحِبَهُ إِلَى طَرِيقِ الْحَقِّ'، یعنی علم اپنے حامل کو حق کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ تشبیہ عربی ادب میں بہت عام ہے اور اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کے اخلاق اور کردار کو بھی سنوارتی ہے۔
متن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ 'كُلَّمَا ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا ازْدَادَ تَوَاضُعًا وَخُشُوعًا'، یعنی انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے اسے اتنا ہی زیادہ متواضع اور عاجز ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی علم اور تکبر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، بلکہ سچا علم انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلاتا ہے۔ جو شخص علم حاصل کر کے مغرور ہو جائے، اصل میں اس نے علم کی روح کو نہیں پایا، کیونکہ حقیقی عالم ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے اور اسے سیکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
اقتباس میں حقیقی عالم کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ 'لَا يَفْتَخِرُ بِعِلْمِهِ عَلَى النَّاسِ'، یعنی وہ اپنے علم پر لوگوں کے سامنے فخر نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ 'مَا عَرَفَهُ قَلِيلٌ بِجَانِبِ مَا جَهِلَهُ'، یعنی جو کچھ اس نے جانا ہے وہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے جو وہ نہیں جانتا۔ یہ دونوں باتیں مل کر حقیقی عالم کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں: وہ علم کی بنیاد پر تفاخر کرنے کے بجائے مزید سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے اور اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہے۔
روایت کے مطابق جب ایک شخص نے عالم سے کہا کہ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم ہیں، تو عالم نے تواضع سے جواب دیا: 'مَا أَنَا إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ لَمْ يَبْلُغْ نِهَايَةَ الطَّرِيقِ'، یعنی میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں جو ابھی راستے کی انتہا کو نہیں پہنچا۔ اس جواب میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ علم ایک لامتناہی سفر ہے جس کی کوئی حتمی منزل نہیں، اور جتنا بھی علم حاصل ہو جائے، انسان کو اپنے آپ کو ابھی طالبِ علم ہی سمجھنا چاہیے۔ یہی سوچ انسان کو ہمیشہ سیکھنے پر آمادہ رکھتی ہے اور تکبر سے محفوظ رکھتی ہے۔
اقتباس کے آخری حصے میں بتایا گیا ہے کہ 'مَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ النَّافِعَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ لِمُعَلِّمِهِ وَيَصْبِرَ عَلَى طَلَبِهِ'، یعنی جو شخص نفع بخش علم چاہتا ہے اسے اپنے استاد کے سامنے تواضع اختیار کرنی چاہیے اور علم حاصل کرنے میں صبر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ 'الْعِلْمُ لَا يُنَالُ بِالتَّكَبُّرِ وَلَا بِالْعَجَلَةِ'، یعنی علم نہ تکبر سے حاصل ہوتا ہے اور نہ جلد بازی سے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ علم کے حصول کے لیے استاد کا ادب، صبر اور مسلسل محنت ضروری اجزاء ہیں، اور ان کے بغیر علم کی برکت اور نفع حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس جملے میں «كُلَّمَا» ایک شرطیہ اسلوب کا اسمِ شرط ہے جس کا معنی ہے 'جب بھی'، اور یہ عموماً دو فعل ماضی کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے جن میں سے پہلا فعلِ شرط اور دوسرا جوابِ شرط ہوتا ہے۔ یہاں پہلا «ازْدَادَ الْإِنْسَانُ عِلْمًا» فعلِ شرط ہے جس میں «ازْدَادَ» فعل ماضی، «الْإِنْسَانُ» فاعل مرفوع اور «عِلْمًا» تمییز منصوب ہے۔ دوسرا «ازْدَادَ تَوَاضُعًا» جوابِ شرط ہے جس میں فاعل محذوف ہے (وہی 'الإنسان' مراد ہے) اور «تَوَاضُعًا» بھی تمییز کے طور پر منصوب آیا ہے۔ اس اسلوب سے دو کاموں کے درمیان تناسب اور مسلسل اضافے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔
«مَا... إِلَّا» عربی زبان میں حصر کا ایک نہایت مؤثر اسلوب ہے، جس کا مطلب ہے کسی بات کو نفی کے ذریعے پہلے رد کرنا اور پھر 'إِلَّا' کے بعد صرف ایک ہی چیز کو ثابت کرنا۔ اس جملے میں «مَا أَنَا» سے عمومی نفی کی گئی ہے، یعنی 'میں نہیں ہوں'، اور پھر «إِلَّا طَالِبُ عِلْمٍ» سے صرف ایک ہی وصف کو ثابت کیا گیا ہے، یعنی 'مگر ایک طالبِ علم'۔ اس اسلوب کا مقصد یہ ہے کہ متکلم کی بات میں شدت اور تاکید پیدا ہو، اور یہاں اس سے عالم کی گہری تواضع کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
عربی گرامر کے قاعدے کے مطابق جب فعل مضارع سے پہلے حروفِ ناصبہ میں سے کوئی حرف آئے، جیسے «أَنْ، لَنْ، كَيْ»، تو فعل مضارع منصوب ہو جاتا ہے اور اس کی علامتِ نصب فتحہ ہوتی ہے۔ یہاں «فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَوَاضَعَ وَيَصْبِرَ» میں «أَنْ» کے بعد آنے والے دونوں افعال «يَتَوَاضَعَ» اور «يَصْبِرَ» اسی وجہ سے منصوب آئے ہیں، اور آخر میں فتحہ کی علامت واضح ہے۔ یہ قاعدہ دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول میں فعل مضارع کے احکام کے تحت پڑھایا جاتا ہے، اور یہاں اس کا عملی اطلاق دیکھا جا سکتا ہے۔
اس اقتباس سے طالب علم کے لیے سب سے اہم عملی سبق یہ ہے کہ علم حاصل کرتے وقت تکبر، عجلت اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے کے رویے سے مکمل طور پر بچنا چاہیے۔ استاد کا ادب و احترام اور اس کے سامنے تواضع اختیار کرنا علم کی برکت اور نفع کا اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح طالب علم کو یہ ذہن نشین کرنا چاہیے کہ علم کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا، چنانچہ کسی بھی درجے پر پہنچ کر مطمئن ہو کر رک جانا مناسب نہیں، بلکہ ہمیشہ سیکھنے کی جستجو اور صبر کے ساتھ محنت جاری رکھنی چاہیے، جیسا کہ اقتباس میں مذکور عالم نے اپنے قول و عمل سے سکھایا۔