ہوماسباق ‹ سبق 12
سبق 12 از 15 · دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — افعالِ معتل و رباعی

فعل ناقص، فعل لفیف اور رباعی مجرد و مزید

کیا آپ جانتے ہیں کہ ﴿دَعَا﴾ کا آخری حرف اصل میں 'الف' نہیں بلکہ 'واو' تھا، اور یہ کہ ایک ہی فعل میں دو دو حروفِ علت بھی اکٹھے آ سکتے ہیں؟

1الفعل الناقص کا تعارف اور مثالیں

پچھلے سبق میں ہم نے فعلِ مثال اور فعلِ اجوف کا مطالعہ کیا، جن میں بالترتیب پہلا اور درمیانی حرف حرفِ علت تھا۔ اب ہم فعلِ معتل کی تیسری قسم، یعنی

﴿الْفِعْلُ النَّاقِصُ

کی طرف آتے ہیں، جس میں فعل کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿دَعَااس نے بلایا

کی جڑ

﴿د-ع-و

ہے، اور

﴿رَمَىاس نے پھینکا

کی جڑ

﴿ر-م-ي

ہے۔ ان دونوں افعال کا مضارع بالترتیب

﴿يَدْعُو

اور

﴿يَرْمِي

ہے۔ چونکہ آخری حرف فعل کے بالکل کنارے پر واقع ہے، اس لیے مختلف صیغوں میں یہ حرف کبھی گر جاتا ہے، کبھی سکڑ جاتا ہے اور کبھی الف میں بدل جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے 'ناقص' یعنی ناقص یا کم زور فعل کہا جاتا ہے۔

2ناقص کی گردان: ماضی میں آخری حرفِ علت کی تبدیلی

ناقص کی گردان میں سب سے پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ فاعل کے ضمیر کی نوعیت کے مطابق آخری حرفِ علت کی صورت بدلتی رہتی ہے۔ جب فاعل واحد مذکر غائب ہو، جیسے

﴿ہُوَ دَعَا

، تو آخری حرف

﴿و

ماقبل فتحہ کے ساتھ مل کر الف میں بدل جاتا ہے۔ لیکن جب فاعل کا ضمیر متحرک لاحقہ ہو، جیسے

﴿ہُمْ دَعَوْاانہوں نے بلایا

، تو اصل

﴿و

اپنی صورت میں لوٹ آتا ہے۔ اور جب فاعل کا ضمیر ساکن سے شروع ہو، جیسے متکلم

﴿ـتُ

، تو

﴿دَعَوْتُمیں نے بلایا

بنتا ہے، جہاں اصل واو ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ الف کے بعد ساکن حرف کا آنا ممکن نہیں۔

3ناقص کی گردان: مضارع مجزوم میں حذف کا قاعدہ

﴿رَمَى

کی گردان میں یہی اصول یاء کے ساتھ چلتا ہے، مگر

﴿ہُمْ رَمَوْاانہوں نے پھینکا

میں یاء، فتحہ کے بعد آنے کی وجہ سے واو میں بدل جاتی ہے، جبکہ متکلم کے ساتھ

﴿رَمَيْتُمیں نے پھینکا

بنتا ہے، جہاں اصل یاء صاف ظاہر ہے۔ مضارع میں بھی فرق نمایاں ہوتا ہے:

﴿يَدْعُو

کا مجزوم

﴿لَمْ يَدْعُاس نے نہیں بلایا

بنتا ہے، جہاں آخری واو مکمل طور پر گر جاتا ہے، جبکہ

﴿يَرْمِي

کا مجزوم

﴿لَمْ يَرْمِاس نے نہیں پھینکا

بنتا ہے، یعنی جزم کی حالت میں ناقص کا آخری حرفِ علت حذف ہو جاتا ہے کیونکہ جزم کی علامت خود سکون ہے اور حرفِ علت پر سکون لانا ممکن نہیں۔

4الفعل اللفیف اور اس کی دو اقسام

اب ہم فعلِ معتل کی ایک اور دلچسپ قسم،

﴿الْفِعْلُ اللَّفِيفُ

کی طرف آتے ہیں، جس میں فعل کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں:

﴿لَفِيفٌ مَفْرُوقٌالگ الگ لفیف

، جس میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہو، جیسے

﴿وَفَىاس نے وعدہ پورا کیا

، جس کی جڑ

﴿و-ف-ي

ہے۔ دوسری قسم

﴿لَفِيفٌ مَقْرُونٌملا ہوا لفیف

ہے، جس میں دوسرا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہو، جیسے

﴿طَوَىاس نے لپیٹا

، جس کی جڑ

﴿ط-و-ي

ہے۔ لفیف مفروق دراصل مثال اور ناقص کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے، جبکہ لفیف مقرون اجوف اور ناقص کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے، اس لیے ان کی گردان میں دونوں طرح کے قواعد بیک وقت لاگو ہوتے ہیں۔

5الرباعی المجرد اور الرباعی المزید

ان تمام اقسام سے ہٹ کر، جو تین حروفی افعال کا احاطہ کرتی ہیں، اب ہم چار حروفی فعل کی طرف آتے ہیں، جسے

﴿الرُّبَاعِيُّ الْمُجَرَّدُبغیر زائد حرف کا چار حرفی فعل

کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن

﴿فَعْلَلَ

ہے، یعنی چار حروفِ اصلیہ بغیر کسی زائد حرف کے فعل بناتے ہیں۔ اس کی مشہور مثال

﴿دَحْرَجَلڑھکانا

ہے، جس کا مضارع

﴿يُدَحْرِجُوہ لڑھکاتا ہے

ہے۔ اس کے مقابلے میں

﴿الرُّبَاعِيُّ الْمَزِيدُزائد حرف والا چار حرفی فعل

وہ ہے جس میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک اضافی حرف، عموماً

﴿ت

، بڑھایا جاتا ہے، جیسے

﴿تَدَحْرَجَخود لڑھکنا، لڑھکتے چلے جانا

، جو مطاوعت یعنی فعل کے خود پر واقع ہونے کا معنی دیتا ہے۔

6خلاصہ: صحیح، مضاعف، مثال، اجوف، ناقص، لفیف اور رباعی کا موازنہ

اب تک زیرِ مطالعہ آنے والی تمام اقسام کا خلاصہ یوں پیش کیا جا سکتا ہے: فعلِ صحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں، اور اس کی ذیلی قسم مضاعف میں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہونے پر ادغام کا قاعدہ لاگو ہوتا ہے۔ فعلِ مثال میں پہلا حرف حرفِ علت ہونے کی وجہ سے مضارع میں وہ حذف ہو جاتا ہے۔ فعلِ اجوف میں درمیانی حرفِ علت طویل اور مختصر آواز کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔ فعلِ ناقص میں آخری حرفِ علت کبھی الف بنتا ہے، کبھی گرتا ہے اور کبھی اصل صورت میں لوٹتا ہے۔ فعلِ لفیف میں دو حرفِ علت بیک وقت موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا قواعد یکجا ہو جاتے ہیں۔ اور رباعی مجرد و مزید چار حروف والے افعال کی الگ صنف ہیں، جو زائد حرف کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ممتاز ہوتے ہیں۔ یوں صرف کا یہ باب عربی فعل کی داخلی ساخت اور اس کی صوتی حکمت کو مکمل طور پر واضح کر دیتا ہے۔

مصادر و مراجع

  1. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — متعلقہ مباحثِ صرف (ناقص، لفیف اور رباعی)
  2. میزان الصرف و پنج گنج، مؤلفہ مولانا عبد الستار خان — اوزانِ رباعی اور اعلال کی تائید کے لیے
دَعَا - يَدْعُوبلانا، دعا کرنا
رَمَى - يَرْمِيپھینکنا
بَقِيَ - يَبْقَىباقی رہنا
سَعَى - يَسْعَىکوشش کرنا
بَنَى - يَبْنِيتعمیر کرنا
وَفَى - يَفِيوعدہ پورا کرنا (لفیف مفروق)
طَوَى - يَطْوِيلپیٹنا (لفیف مقرون)
وَقَى - يَقِيبچانا (لفیف مفروق)
دَحْرَجَ - يُدَحْرِجُلڑھکانا (رباعی مجرد)
تَدَحْرَجَ - يَتَدَحْرَجُخود لڑھکنا (رباعی مزید)
زَلْزَلَ - يُزَلْزِلُہلا دینا (رباعی مجرد)
وَسْوَسَ - يُوَسْوِسُوسوسہ ڈالنا (رباعی مجرد)
﴿الفعل الناقص

وہ فعل ہے جس کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہو۔

﴿دَعَااس نے بلایا

کی جڑ

﴿د-ع-و

ہے، جہاں آخری حرف واو ہے، اور اس کا مضارع

﴿يَدْعُو

ہے۔

﴿رَمَىاس نے پھینکا

کی جڑ

﴿ر-م-ي

ہے، جہاں آخری حرف یاء ہے، اور اس کا مضارع

﴿يَرْمِي

ہے۔ چونکہ آخری حرف فعل کے کنارے پر ہوتا ہے، اس لیے مختلف صیغوں میں یہ حرف کبھی الف بنتا ہے، کبھی گر جاتا ہے اور کبھی اصل صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے ناقص کہا جاتا ہے۔

﴿دَعَا

کی اصل صورت

﴿دَعَوَ

تھی، جہاں آخری حرف

﴿و

ماقبل فتحہ کے ساتھ آتا ہے۔ جب کوئی حرفِ علت اپنی جنس کی مختصر حرکت سے پہلے متحرک حالت میں ہو تو عربی کے اعلال کے اصول کے مطابق وہ اپنی جنس کے حرفِ مد میں بدل جاتا ہے، یعنی فتحہ کے بعد واو، الف بن جاتا ہے۔ چونکہ فاعل واحد مذکر غائب کا ضمیر مستتر ہے اور کوئی مزید لاحقہ نہیں لگتا، اس لیے یہ تبدیلی اپنی مکمل صورت میں ظاہر ہو کر

﴿دَعَا

بن جاتی ہے۔

جب فاعل کا ضمیر

﴿ـتُ

کی طرح ساکن حرف سے شروع ہو تو الف کے بعد ساکن حرف کا آنا ممکن نہیں، اس لیے الف اپنی اصل صورت، یعنی واو، میں لوٹ آتا ہے اور اسے ساکن بنا کر ضمیر سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے

﴿دَعَوْتُ

بنتا ہے۔ اسی طرح

﴿ہُمْ دَعَوْا

میں واو الجماعۃ متحرک لاحقے کے طور پر آتا ہے، اور چونکہ الف متحرک ضمیر سے پہلے برقرار نہیں رہ سکتا، اس لیے یہاں بھی اصل واو ظاہر ہو کر

﴿دَعَوْا

بنتا ہے، جہاں واوِ اصلی اور واوِ جماعت دونوں یکجا نظر آتے ہیں۔

﴿يَدْعُو

کا مجزوم

﴿لَمْ يَدْعُاس نے نہیں بلایا

بنتا ہے، اور

﴿يَرْمِي

کا مجزوم

﴿لَمْ يَرْمِاس نے نہیں پھینکا

بنتا ہے۔ جزم کی حالت میں فعل کے آخر پر سکون کی علامت لازم ہوتی ہے، لیکن حرفِ علت پر سکون لانا ممکن نہیں، اس لیے آخری حرفِ علت مکمل طور پر حذف کر دیا جاتا ہے اور اس کی حذف شدہ حالت ہی جزم کی علامت بن جاتی ہے۔ یوں ناقص کی گردان میں جزم کے موقع پر ہمیشہ آخری حرفِ علت گر جاتا ہے۔

﴿الفعل اللفیف

وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں:

﴿لفیف مفروق

، جس میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہوں اور درمیان میں ایک صحیح حرف حائل ہو، جیسے

﴿وَفَىو-ف-ي

؛ اور

﴿لفیف مقرون

، جس میں دوسرا اور تیسرا حرف، یعنی دونوں حرفِ علت باہم ملے ہوئے ہوں، جیسے

﴿طَوَىط-و-ي

۔ لفظ 'مفروق' جدائی اور 'مقرون' ملاپ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو دونوں قسموں میں حرفِ علت کے باہمی فاصلے یا اتصال کو ظاہر کرتا ہے۔

﴿لفیف مفروق

میں چونکہ پہلا حرف حرفِ علت ہے، اس لیے اس پر مثال کا قاعدہ لاگو ہوتا ہے (مضارع میں پہلا حرف گر سکتا ہے)، اور چونکہ تیسرا حرف بھی حرفِ علت ہے، اس پر ناقص کا قاعدہ بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً

﴿وَفَى

کا مضارع

﴿يَفِي

بنتا ہے جہاں پہلا واو گر جاتا ہے۔

﴿لفیف مقرون

میں دوسرا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہونے کی وجہ سے اجوف اور ناقص دونوں کے قواعد بیک وقت اثرانداز ہوتے ہیں، جیسے

﴿طَوَى

کا مضارع

﴿يَطْوِي

۔

﴿الرباعی المجرد

وہ فعل ہے جو چار حروفِ اصلیہ پر مشتمل ہو اور جس میں کوئی زائد حرف شامل نہ ہو۔ اس کا وزن

﴿فَعْلَلَ

ہے، یعنی چاروں حروف بلا کسی اضافے کے فعل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی مشہور مثال

﴿دَحْرَجَاس نے لڑھکایا

ہے، جس کا مضارع

﴿يُدَحْرِجُوہ لڑھکاتا ہے

ہے۔ اسی وزن پر دیگر مثالیں

﴿زَلْزَلَہلا دینا

اور

﴿وَسْوَسَوسوسہ ڈالنا

بھی آتی ہیں، جو چار حروف کی بنیادی صرفی ساخت کو ظاہر کرتی ہیں۔

﴿الرباعی المزید

وہ فعل ہے جس میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک یا زائد حرف کا اضافہ کیا جائے، تاکہ نیا معنی پیدا ہو۔ مثال کے طور پر

﴿دَحْرَجَ

کے شروع میں

﴿ت

بڑھا کر

﴿تَدَحْرَجَخود لڑھکنا

بنایا جاتا ہے، جو مطاوعت، یعنی فعل کے فاعل پر خود واقع ہونے کا معنی دیتا ہے: جہاں دَحْرَجَ کا معنی ہے 'اس نے کسی چیز کو لڑھکایا'، وہاں تَدَحْرَجَ کا معنی ہے 'وہ خود لڑھک گیا'۔ یوں زائد حرف

﴿ت

فعل کے بنیادی معنی میں انعکاسی کیفیت شامل کر دیتا ہے۔

فعلِ صحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں ہوتا اور گردان سادہ رہتی ہے، جبکہ مضاعف میں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہونے پر ادغام لاگو ہوتا ہے۔ مثال میں پہلا حرف حرفِ علت مضارع میں حذف ہو جاتا ہے، اجوف میں درمیانی حرفِ علت طویل و مختصر آواز کے درمیان بدلتا ہے، اور ناقص میں آخری حرفِ علت الف بنتا، گرتا یا اصل صورت میں لوٹتا ہے۔ لفیف میں دو حرفِ علت بیک وقت موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ قواعد یکجا ہوتے ہیں۔ رباعی مجرد و مزید ان سب سے الگ ہیں کیونکہ ان کی بنیاد چار حروف پر ہے، اور مزید میں اضافی حرف نیا معنی پیدا کرتا ہے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1الفعل الناقص کی پہچان کیا ہے؟
الفپہلا حرف حرفِ علت ہو
بدرمیانی حرف حرفِ علت ہو
جآخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہو
ددو حروف حرفِ علت ہوں
ناقص وہ فعل ہے جس کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہو، جیسے دَعَا (د-ع-و)۔
2﴿دَعَا﴾ کی جڑ کیا ہے؟
الفد-ع-ا
بد-ع-و
جد-و-ع
دع-د-و
﴿دَعَا﴾ اصل میں ﴿دَعَوَ﴾ تھا، یعنی جڑ ﴿د-ع-و﴾ ہے، آخری واو فتحہ کے بعد الف بن گیا۔
3﴿رَمَى﴾ کا مضارع کیا ہے؟
الفيَرْمُو
بيَرْمِي
جيَرْمَي
ديَرْمُي
﴿رَمَى﴾ کی جڑ ﴿ر-م-ي﴾ ہے، اس لیے مضارع ﴿يَرْمِي﴾ (وہ پھینکتا ہے) بنتا ہے۔
4﴿دَعَوْتُ﴾ میں اصل واو کیوں ظاہر ہوا؟
الفکیونکہ فعل مضاعف ہے
بکیونکہ ساکن ضمیر سے پہلے الف نہیں آ سکتا
جکیونکہ فعل امر ہے
دکیونکہ فعل مہموز ہے
ساکن ضمیر ﴿ـتُ﴾ سے پہلے حرفِ مد (الف) نہیں آ سکتا، اس لیے اصل واو دوبارہ ظاہر ہو کر ساکن حالت میں آتا ہے۔
5﴿يَدْعُو﴾ کا مجزوم صیغہ کیا بنتا ہے؟
الفلَمْ يَدْعُو
بلَمْ يَدْعُ
جلَمْ يَدْعَ
دلَمْ يَدْعِ
جزم کی حالت میں آخری حرفِ علت مکمل حذف ہو جاتا ہے، اس لیے ﴿لَمْ يَدْعُ﴾ بنتا ہے۔
6﴿لَمْ يَرْمِ﴾ میں کیا تبدیلی رونما ہوئی؟
الفیاء گر گئی
بیاء واو میں بدل گئی
جیاء الف بن گئی
دیاء میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
جزم کی وجہ سے آخری حرفِ علت یاء حذف ہو جاتی ہے، اس لیے ﴿لَمْ يَرْمِ﴾ بنتا ہے۔
7الفعل اللفیف کی تعریف کیا ہے؟
الفجس کے دو حروفِ اصلیہ حرفِ علت ہوں
بجس کا صرف پہلا حرف حرفِ علت ہو
ججس کا کوئی حرف حرفِ علت نہ ہو
دجس میں چار حروف ہوں
لفیف وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔
8﴿وَفَى﴾ کس قسم کا لفیف ہے؟
الفلفیف مقرون
بلفیف مفروق
جاجوف
دناقص
﴿وَفَى﴾ (و-ف-ي) میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہیں اور درمیان میں صحیح حرف حائل ہے، اس لیے یہ لفیف مفروق ہے۔
9﴿طَوَى﴾ کس قسم کا لفیف ہے؟
الفلفیف مفروق
بلفیف مقرون
جمثال
دمضاعف
﴿طَوَى﴾ (ط-و-ي) میں دوسرا اور تیسرا حرف دونوں حرفِ علت اور باہم ملے ہوئے ہیں، اس لیے یہ لفیف مقرون ہے۔
10لفیف مفروق کی گردان میں کون کون سے قواعد یکجا ہوتے ہیں؟
الفمضاعف اور اجوف کے
بمثال اور ناقص کے
جصحیح اور مہموز کے
داجوف اور مضاعف کے
چونکہ پہلا حرف حرفِ علت مثال کا اور تیسرا حرف ناقص کا قاعدہ لاتا ہے، اس لیے دونوں قواعد ایک ساتھ لاگو ہوتے ہیں۔
11الرباعی المجرد کا وزن کیا ہے؟
الففَعَلَ
بفَعَّلَ
جفَعْلَلَ
دأَفْعَلَ
رباعی مجرد کا وزن ﴿فَعْلَلَ﴾ ہے، جو چار حروفِ اصلیہ سے بغیر کسی زائد حرف کے بنتا ہے۔
12﴿دَحْرَجَ﴾ کا مضارع کیا ہے؟
الفيَدْحَرِجُ
بيُدَحْرِجُ
جيَدَحْرَجُ
ديُدَحْرَجُ
رباعی مجرد کے مضارع کی علامت ابتدائی ﴿يُ﴾ ہے، اس لیے ﴿يُدَحْرِجُ﴾ (وہ لڑھکاتا ہے) بنتا ہے۔
13الرباعی المزید کی پہچان کیا ہے؟
الفچار اصلی حروف کے ساتھ ایک زائد حرف کا اضافہ
بتین اصلی حروف پر مشتمل ہونا
جدوسرا تیسرا حرف یکساں ہونا
دآخری حرف حرفِ علت ہونا
رباعی مزید میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک اضافی حرف، عموماً ت، شامل کیا جاتا ہے۔
14﴿تَدَحْرَجَ﴾ کا معنی کیا ہے اور یہ کس بنیاد پر دَحْرَجَ سے مختلف ہے؟
الفاس نے لڑھکایا؛ فرق صرف تلفظ کا ہے
بوہ خود لڑھک گیا؛ زائد ت مطاوعت کا معنی دیتا ہے
جاس نے دوسرے کو لڑھکنے پر مجبور کیا
دکوئی فرق نہیں، دونوں ہم معنی ہیں
زائد حرف ﴿ت﴾ فعل میں انعکاسی (مطاوعت کا) معنی شامل کرتا ہے، اس لیے تَدَحْرَجَ کا معنی 'خود لڑھک جانا' ہے۔
15درج ذیل میں سے کون سا فعل ناقص یائی ہے؟
الفدَعَا
برَمَى
جقَالَ
دمَدَّ
﴿رَمَى﴾ کی جڑ ﴿ر-م-ي﴾ ہے، جہاں آخری حرف یاء ہے، اس لیے یہ ناقص یائی ہے۔
16فعل صحیح اور فعل ناقص میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفصحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں، ناقص میں آخری حرف حرفِ علت ہے
بدونوں ایک جیسے ہیں
جصحیح میں درمیانی حرف حرفِ علت ہے
دناقص میں پہلا حرف حرفِ علت ہے
فعل صحیح کے حروفِ اصلیہ حرفِ علت سے پاک ہوتے ہیں، جبکہ ناقص کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہوتا ہے، جو گردان میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
17مثال، اجوف اور ناقص میں حرفِ علت کی جگہ کے اعتبار سے کیا ترتیب ہے؟
الفمثال: آخر، اجوف: درمیان، ناقص: آغاز
بمثال: آغاز، اجوف: درمیان، ناقص: آخر
جتینوں میں حرفِ علت درمیان میں ہوتا ہے
دتینوں میں حرفِ علت آخر میں ہوتا ہے
مثال میں پہلا حرف، اجوف میں درمیانی حرف اور ناقص میں آخری حرف حرفِ علت ہوتا ہے، یہی بنیادی امتیاز ہے۔