فعل ناقص، فعل لفیف اور رباعی مجرد و مزید
کیا آپ جانتے ہیں کہ ﴿دَعَا﴾ کا آخری حرف اصل میں 'الف' نہیں بلکہ 'واو' تھا، اور یہ کہ ایک ہی فعل میں دو دو حروفِ علت بھی اکٹھے آ سکتے ہیں؟
1الفعل الناقص کا تعارف اور مثالیں
پچھلے سبق میں ہم نے فعلِ مثال اور فعلِ اجوف کا مطالعہ کیا، جن میں بالترتیب پہلا اور درمیانی حرف حرفِ علت تھا۔ اب ہم فعلِ معتل کی تیسری قسم، یعنی
کی طرف آتے ہیں، جس میں فعل کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر
کی جڑ
ہے، اور
کی جڑ
ہے۔ ان دونوں افعال کا مضارع بالترتیب
اور
ہے۔ چونکہ آخری حرف فعل کے بالکل کنارے پر واقع ہے، اس لیے مختلف صیغوں میں یہ حرف کبھی گر جاتا ہے، کبھی سکڑ جاتا ہے اور کبھی الف میں بدل جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے 'ناقص' یعنی ناقص یا کم زور فعل کہا جاتا ہے۔
2ناقص کی گردان: ماضی میں آخری حرفِ علت کی تبدیلی
ناقص کی گردان میں سب سے پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ فاعل کے ضمیر کی نوعیت کے مطابق آخری حرفِ علت کی صورت بدلتی رہتی ہے۔ جب فاعل واحد مذکر غائب ہو، جیسے
، تو آخری حرف
ماقبل فتحہ کے ساتھ مل کر الف میں بدل جاتا ہے۔ لیکن جب فاعل کا ضمیر متحرک لاحقہ ہو، جیسے
، تو اصل
اپنی صورت میں لوٹ آتا ہے۔ اور جب فاعل کا ضمیر ساکن سے شروع ہو، جیسے متکلم
، تو
بنتا ہے، جہاں اصل واو ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ الف کے بعد ساکن حرف کا آنا ممکن نہیں۔
3ناقص کی گردان: مضارع مجزوم میں حذف کا قاعدہ
کی گردان میں یہی اصول یاء کے ساتھ چلتا ہے، مگر
میں یاء، فتحہ کے بعد آنے کی وجہ سے واو میں بدل جاتی ہے، جبکہ متکلم کے ساتھ
بنتا ہے، جہاں اصل یاء صاف ظاہر ہے۔ مضارع میں بھی فرق نمایاں ہوتا ہے:
کا مجزوم
بنتا ہے، جہاں آخری واو مکمل طور پر گر جاتا ہے، جبکہ
کا مجزوم
بنتا ہے، یعنی جزم کی حالت میں ناقص کا آخری حرفِ علت حذف ہو جاتا ہے کیونکہ جزم کی علامت خود سکون ہے اور حرفِ علت پر سکون لانا ممکن نہیں۔
4الفعل اللفیف اور اس کی دو اقسام
اب ہم فعلِ معتل کی ایک اور دلچسپ قسم،
کی طرف آتے ہیں، جس میں فعل کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں:
، جس میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہو، جیسے
، جس کی جڑ
ہے۔ دوسری قسم
ہے، جس میں دوسرا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہو، جیسے
، جس کی جڑ
ہے۔ لفیف مفروق دراصل مثال اور ناقص کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے، جبکہ لفیف مقرون اجوف اور ناقص کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے، اس لیے ان کی گردان میں دونوں طرح کے قواعد بیک وقت لاگو ہوتے ہیں۔
5الرباعی المجرد اور الرباعی المزید
ان تمام اقسام سے ہٹ کر، جو تین حروفی افعال کا احاطہ کرتی ہیں، اب ہم چار حروفی فعل کی طرف آتے ہیں، جسے
کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن
ہے، یعنی چار حروفِ اصلیہ بغیر کسی زائد حرف کے فعل بناتے ہیں۔ اس کی مشہور مثال
ہے، جس کا مضارع
ہے۔ اس کے مقابلے میں
وہ ہے جس میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک اضافی حرف، عموماً
، بڑھایا جاتا ہے، جیسے
، جو مطاوعت یعنی فعل کے خود پر واقع ہونے کا معنی دیتا ہے۔
6خلاصہ: صحیح، مضاعف، مثال، اجوف، ناقص، لفیف اور رباعی کا موازنہ
اب تک زیرِ مطالعہ آنے والی تمام اقسام کا خلاصہ یوں پیش کیا جا سکتا ہے: فعلِ صحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں، اور اس کی ذیلی قسم مضاعف میں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہونے پر ادغام کا قاعدہ لاگو ہوتا ہے۔ فعلِ مثال میں پہلا حرف حرفِ علت ہونے کی وجہ سے مضارع میں وہ حذف ہو جاتا ہے۔ فعلِ اجوف میں درمیانی حرفِ علت طویل اور مختصر آواز کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔ فعلِ ناقص میں آخری حرفِ علت کبھی الف بنتا ہے، کبھی گرتا ہے اور کبھی اصل صورت میں لوٹتا ہے۔ فعلِ لفیف میں دو حرفِ علت بیک وقت موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا قواعد یکجا ہو جاتے ہیں۔ اور رباعی مجرد و مزید چار حروف والے افعال کی الگ صنف ہیں، جو زائد حرف کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ممتاز ہوتے ہیں۔ یوں صرف کا یہ باب عربی فعل کی داخلی ساخت اور اس کی صوتی حکمت کو مکمل طور پر واضح کر دیتا ہے۔
مصادر و مراجع
- دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — متعلقہ مباحثِ صرف (ناقص، لفیف اور رباعی)
- میزان الصرف و پنج گنج، مؤلفہ مولانا عبد الستار خان — اوزانِ رباعی اور اعلال کی تائید کے لیے
وہ فعل ہے جس کا آخری حرفِ اصلی واو یا یاء ہو۔
کی جڑ
ہے، جہاں آخری حرف واو ہے، اور اس کا مضارع
ہے۔
کی جڑ
ہے، جہاں آخری حرف یاء ہے، اور اس کا مضارع
ہے۔ چونکہ آخری حرف فعل کے کنارے پر ہوتا ہے، اس لیے مختلف صیغوں میں یہ حرف کبھی الف بنتا ہے، کبھی گر جاتا ہے اور کبھی اصل صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے ناقص کہا جاتا ہے۔
کی اصل صورت
تھی، جہاں آخری حرف
ماقبل فتحہ کے ساتھ آتا ہے۔ جب کوئی حرفِ علت اپنی جنس کی مختصر حرکت سے پہلے متحرک حالت میں ہو تو عربی کے اعلال کے اصول کے مطابق وہ اپنی جنس کے حرفِ مد میں بدل جاتا ہے، یعنی فتحہ کے بعد واو، الف بن جاتا ہے۔ چونکہ فاعل واحد مذکر غائب کا ضمیر مستتر ہے اور کوئی مزید لاحقہ نہیں لگتا، اس لیے یہ تبدیلی اپنی مکمل صورت میں ظاہر ہو کر
بن جاتی ہے۔
جب فاعل کا ضمیر
کی طرح ساکن حرف سے شروع ہو تو الف کے بعد ساکن حرف کا آنا ممکن نہیں، اس لیے الف اپنی اصل صورت، یعنی واو، میں لوٹ آتا ہے اور اسے ساکن بنا کر ضمیر سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے
بنتا ہے۔ اسی طرح
میں واو الجماعۃ متحرک لاحقے کے طور پر آتا ہے، اور چونکہ الف متحرک ضمیر سے پہلے برقرار نہیں رہ سکتا، اس لیے یہاں بھی اصل واو ظاہر ہو کر
بنتا ہے، جہاں واوِ اصلی اور واوِ جماعت دونوں یکجا نظر آتے ہیں۔
کا مجزوم
بنتا ہے، اور
کا مجزوم
بنتا ہے۔ جزم کی حالت میں فعل کے آخر پر سکون کی علامت لازم ہوتی ہے، لیکن حرفِ علت پر سکون لانا ممکن نہیں، اس لیے آخری حرفِ علت مکمل طور پر حذف کر دیا جاتا ہے اور اس کی حذف شدہ حالت ہی جزم کی علامت بن جاتی ہے۔ یوں ناقص کی گردان میں جزم کے موقع پر ہمیشہ آخری حرفِ علت گر جاتا ہے۔
وہ فعل ہے جس کے تین حروفِ اصلیہ میں سے دو حرف حرفِ علت ہوں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں:
، جس میں پہلا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہوں اور درمیان میں ایک صحیح حرف حائل ہو، جیسے
؛ اور
، جس میں دوسرا اور تیسرا حرف، یعنی دونوں حرفِ علت باہم ملے ہوئے ہوں، جیسے
۔ لفظ 'مفروق' جدائی اور 'مقرون' ملاپ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو دونوں قسموں میں حرفِ علت کے باہمی فاصلے یا اتصال کو ظاہر کرتا ہے۔
میں چونکہ پہلا حرف حرفِ علت ہے، اس لیے اس پر مثال کا قاعدہ لاگو ہوتا ہے (مضارع میں پہلا حرف گر سکتا ہے)، اور چونکہ تیسرا حرف بھی حرفِ علت ہے، اس پر ناقص کا قاعدہ بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً
کا مضارع
بنتا ہے جہاں پہلا واو گر جاتا ہے۔
میں دوسرا اور تیسرا حرف حرفِ علت ہونے کی وجہ سے اجوف اور ناقص دونوں کے قواعد بیک وقت اثرانداز ہوتے ہیں، جیسے
کا مضارع
۔
وہ فعل ہے جو چار حروفِ اصلیہ پر مشتمل ہو اور جس میں کوئی زائد حرف شامل نہ ہو۔ اس کا وزن
ہے، یعنی چاروں حروف بلا کسی اضافے کے فعل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی مشہور مثال
ہے، جس کا مضارع
ہے۔ اسی وزن پر دیگر مثالیں
اور
بھی آتی ہیں، جو چار حروف کی بنیادی صرفی ساخت کو ظاہر کرتی ہیں۔
وہ فعل ہے جس میں چار اصلی حروف کے ساتھ ایک یا زائد حرف کا اضافہ کیا جائے، تاکہ نیا معنی پیدا ہو۔ مثال کے طور پر
کے شروع میں
بڑھا کر
بنایا جاتا ہے، جو مطاوعت، یعنی فعل کے فاعل پر خود واقع ہونے کا معنی دیتا ہے: جہاں دَحْرَجَ کا معنی ہے 'اس نے کسی چیز کو لڑھکایا'، وہاں تَدَحْرَجَ کا معنی ہے 'وہ خود لڑھک گیا'۔ یوں زائد حرف
فعل کے بنیادی معنی میں انعکاسی کیفیت شامل کر دیتا ہے۔
فعلِ صحیح میں کوئی حرفِ علت نہیں ہوتا اور گردان سادہ رہتی ہے، جبکہ مضاعف میں دوسرا تیسرا حرف یکساں ہونے پر ادغام لاگو ہوتا ہے۔ مثال میں پہلا حرف حرفِ علت مضارع میں حذف ہو جاتا ہے، اجوف میں درمیانی حرفِ علت طویل و مختصر آواز کے درمیان بدلتا ہے، اور ناقص میں آخری حرفِ علت الف بنتا، گرتا یا اصل صورت میں لوٹتا ہے۔ لفیف میں دو حرفِ علت بیک وقت موجود ہونے کی وجہ سے مذکورہ قواعد یکجا ہوتے ہیں۔ رباعی مجرد و مزید ان سب سے الگ ہیں کیونکہ ان کی بنیاد چار حروف پر ہے، اور مزید میں اضافی حرف نیا معنی پیدا کرتا ہے۔