ہوماسباق ‹ سبق 15
سبق 15 از 15 · قراءتِ ادب — حصہ سوم؛ نظرثانیِ سمسٹر

قصص النبیین سے منتخب حکایت؛ جامع نظرثانی

سچائی اور امانت داری کا صلہ کیا ہمیشہ مال ہی ہوتا ہے، یا اس سے بڑھ کر کچھ اور؟

1تعارف

عربی ادب میں اخلاقی حکایات کا ایک بھرپور ذخیرہ موجود ہے، جن میں سادہ اور مختصر واقعات کے ذریعے صداقت، امانت اور صبر جیسی اعلیٰ صفات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ذیل میں ایک ایسی ہی مختصر اور تمثیلی حکایت پیش کی جا رہی ہے جو زبان سیکھنے کی مشق کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی سبق بھی فراہم کرتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ حکایت کسی مستند تاریخی یا نبوی واقعے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک تدریسی اور اخلاقی حکایت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔

2حکایت: پہلا حصہ

﴿كَانَ فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ رَجُلٌ صَالِحٌ يَعْمَلُ رَاعِيًا لِلْغَنَمِ فِي قَرْيَةٍ صَغِيرَةٍقدیم زمانے میں ایک نیک آدمی ایک چھوٹے گاؤں میں بکریوں کا چرواہا تھا۔
﴿وَكَانَ هَذَا الرَّاعِي مَعْرُوفًا بَيْنَ النَّاسِ بِالصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ، فَكَانَ إِذَا وَجَدَ شَيْئًا ضَائِعًا رَدَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَطْلُبَ جَزَاءًیہ چرواہا لوگوں کے درمیان سچائی اور امانت داری کے لیے مشہور تھا، چنانچہ جب بھی اسے کوئی گمشدہ چیز ملتی تو وہ بغیر کسی معاوضے کی طلب کے اسے اس کے مالک کو لوٹا دیتا تھا۔

3حکایت: دوسرا حصہ

﴿وَذَاتَ يَوْمٍ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ، فَسَقَطَتْ مِنْهُ كِيسَةٌ فِيهَا دَرَاهِمُ كَثِيرَةٌ، وَلَمْ يَشْعُرْ بِذَلِكَایک دن ایک اجنبی آدمی اس کے پاس سے گزرا، تو اس سے ایک تھیلی گر گئی جس میں کافی رقم تھی، اور اسے اس کا احساس تک نہ ہوا۔
﴿فَأَخَذَ الرَّاعِي الْكِيسَةَ وَانْتَظَرَ صَاحِبَهَا طَوِيلًا حَتَّى عَادَ يَبْحَثُ عَنْهَا بِقَلْبٍ حَزِينٍچرواہے نے وہ تھیلی اٹھا لی اور اس کے مالک کا کافی دیر انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ آدمی غمزدہ دل کے ساتھ اسے تلاش کرتے ہوئے واپس آیا۔

4حکایت: تیسرا حصہ

﴿فَلَمَّا رَآهُ الرَّاعِي، أَعْطَاهُ الْكِيسَةَ كَامِلَةً وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًاجب چرواہے نے اسے دیکھا تو اسے پوری تھیلی واپس دے دی اور اس میں سے کچھ بھی نہ لیا۔
﴿فَتَعَجَّبَ الرَّجُلُ مِنْ أَمَانَتِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُكَافِئَهُ، فَرَفَضَ الرَّاعِي ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً لَا أَطْلُبُ عَلَيْهَا أَجْرًا مِنَ النَّاسِآدمی اس کی امانت داری پر حیران ہوا اور اسے انعام دینا چاہا، مگر چرواہے نے انکار کر دیا اور کہا: میں نے تو صرف امانت ادا کی ہے، اس پر لوگوں سے کوئی اجر نہیں چاہتا۔
﴿وَانْتَشَرَتْ هَذِهِ الْحِكَايَةُ فِي الْقَرْيَةِ، فَصَارَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ هَذَا الرَّاعِيَ مَثَلًا فِي الصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِیہ حکایت گاؤں میں مشہور ہو گئی، اور لوگ اس چرواہے کو سچائی اور امانت کی مثال کے طور پر یاد کرنے لگے۔
﴿وَتَعَلَّمَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ الصِّدْقَ يَجْلِبُ لِصَاحِبِهِ مَحَبَّةَ النَّاسِ وَثِقَتَهُمْ، وَإِنْ كَانَ فِي الظَّاهِرِ لَا يُعَادِلُ شَيْئًا مِنَ الْمَالِگاؤں والوں نے اس قصے سے یہ سیکھا کہ سچائی اپنے حامل کے لیے لوگوں کی محبت اور اعتماد لے آتی ہے، اگرچہ بظاہر اس کی کوئی مالی قیمت نہ ہو۔
﴿فَصَارَتِ الْحِكَايَةُ عِبْرَةً تُرْوَى لِلْأَبْنَاءِ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍچنانچہ یہ حکایت ایک ایسی عبرت بن گئی جو نسل در نسل بچوں کو سنائی جانے لگی۔

5گرامری وضاحت

گرامری اعتبار سے اس حکایت میں فعل ماضی نمایاں ہے، جیسے «كَانَ، مَرَّ، سَقَطَتْ، أَخَذَ، أَعْطَاهُ»۔ جملہ «كَانَ فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ رَجُلٌ صَالِحٌ» میں «رَجُلٌ» اسمِ کان مرفوع اور «صَالِحٌ» اس کی صفت ہے۔ «فَلَمَّا رَآهُ الرَّاعِي» میں «لَمَّا» شرطیہ ظرف زمانی ہے، اور «رَأَى» فعلِ معتل ناقص ہے۔ جملہ «إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً» میں «إِنَّمَا» اسلوبِ حصر ہے، جو چرواہے کے عمل کو محض امانت میں محدود کرتا ہے، نہ کہ معاوضے میں۔

6فہمی نکات

اس حکایت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سچائی اور امانت داری انسان کو معاشرے میں عزت اور نیک نامی عطا کرتی ہے، خواہ وہ کتنے ہی معمولی پیشے سے وابستہ ہو۔ چرواہے نے مالی فائدے پر دیانت کو ترجیح دی اور انعام بھی قبول نہ کیا، کیونکہ اس کے نزدیک امانت کی ادائیگی کسی معاوضے کی محتاج نہیں۔ یہ حکایت سکھاتی ہے کہ نیکی کا اصل اجر اللہ تعالیٰ کی رضا اور نیک نامی ہے، نہ کہ محض دنیاوی صلہ۔

7سمسٹر کی جامع نظرثانی — تعارف

اب اس سبق کے دوسرے حصے میں پورے سمسٹر کے بنیادی نحوی و صرفی قواعد کا مختصر و جامع خلاصہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ حتمی امتحان کی تیاری میں اس سے مدد لے سکیں۔ یہ محض یاد دہانی ہے، تفصیل کے لیے دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول اور سمسٹر کے اسباق کی طرف رجوع کیا جائے۔

8نحو کا خلاصہ — حصہ اول

نحو کا خلاصہ — حصہ اول: اسمِ اشارہ (هَذَا، هَذِهِ، ذَلِكَ، تِلْكَ) قریب یا دور کی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ معرفہ اسم (جس پر 'ال' ہو) پر تنوین نہیں آتی، جبکہ نکرہ اسم پر عموماً تنوین آتی ہے۔ حروفِ جر (فِي، مِنْ، إِلَى، عَلَى، عَنْ، بِـ، لِـ، كَـ) اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتے ہیں۔ اضافت میں مضاف تنوین و 'ال' نہیں لیتا اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، جیسے «كِتَابُ الطَّالِبِ»۔ نعت اپنے منعوت سے اعراب، تذکیر و تانیث، تعریف و تنکیر اور عدد میں مطابقت رکھتا ہے، جیسے «الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ»۔

9نحو کا خلاصہ — حصہ دوم

نحو کا خلاصہ — حصہ دوم: ضمائر منفصل (أَنَا، أَنْتَ، هُوَ) اور ضمائر متصل (ـي، ـكَ، ـهُ، ـهَا) میں فرق ہے کہ متصل ضمیر کسی اسم، فعل یا حرف سے جڑ جاتا ہے۔ جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع مذکر سالم (مُسْلِمُونَ)، جمع مؤنث سالم (مُسْلِمَاتٌ) اور جمع مکسر (كُتُبٌ، رِجَالٌ)۔ تثنیہ صرف دو کے لیے آتا ہے اور اس کی علامت «ـانِ / ـيْنِ» ہے، جیسے «كِتَابَانِ»۔ مشتق اسماء، یعنی اسمِ فاعل (كَاتِبٌ)، اسمِ مفعول (مَكْتُوبٌ) اور اسمِ تفضیل (أَفْضَلُ)، فعل کے مادّے سے بنتے ہیں۔ مرکبات میں مرکبِ اضافی، توصیفی اور اشاری کی پہچان جملے کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے۔

10صرف کا خلاصہ — حصہ اول

صرف کا خلاصہ — حصہ اول: فعل ماضی گزرے کام پر دلالت کرتا ہے، جیسے «كَتَبَ»۔ فعل مضارع حال یا مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور حروفِ مضارعت (أ، ن، ي، ت) سے شروع ہوتا ہے، جیسے «يَكْتُبُ»۔ فعل امر حکم دیتا ہے، جیسے «اُكْتُبْ»، اور فعل نہی «لَا» کے ساتھ فعل مضارع مجزوم لاتا ہے، جیسے «لَا تَكْتُبْ»۔ فعلِ صحیح، جس کے حروفِ اصلی حرفِ علت سے خالی ہوں، تین قسموں پر مشتمل ہے: سالم («كَتَبَ»)، مضعّف (دوسرا تیسرا حرف یکساں، جیسے «مَدَّ»)، اور مہموز (جس میں ہمزہ ہو، جیسے «أَخَذَ»)۔

11صرف کا خلاصہ — حصہ دوم

صرف کا خلاصہ — حصہ دوم: فعلِ معتل، جس کے حروفِ اصلی میں حرفِ علت ہو، چار قسموں پر مشتمل ہے: مثال (پہلا حرف حرفِ علت، جیسے «وَعَدَ»)، اجوف (درمیانی حرف حرفِ علت، جیسے «قَالَ»)، ناقص (آخری حرف حرفِ علت، جیسے «رَمَى، رَأَى»)، اور لفیف (دو حروفِ علت اکٹھے، جیسے «وَفَى»)۔ فعلِ رباعی مجرد چار اصلی حروف پر مشتمل ہوتا ہے، جیسے «دَحْرَجَ»، جس کا مضارع «يُدَحْرِجُ» کے وزن پر آتا ہے۔ ان اقسام کی پہچان فعل کے صحیح صیغے بنانے میں مدد دیتی ہے۔

12اختتامی نصیحت

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ خاکہ عربی جملے کی تعمیر اور فعل کی صورت گری کی کنجی ہے۔ طالب علم ہر قاعدے کے ساتھ ایک مثال یاد رکھے، دروسِ اللغۃ العربیہ، جزء اول کی مشقیں دہرائے، اور اس حکایت جیسے نمونوں پر یہ قواعد آزمائے۔

مصادر و مراجع

  1. اس طرز کے منتخب اقتباسات پر مبنی اصل تحریر
  2. دروس اللغۃ العربیہ، جزء اول — مکمل سمسٹر گرامری اعادہ
رَاعٍچرواہا
غَنَمبکریاں، بھیڑ بکریاں
أَمَانَةامانت داری
ضَائِعگمشدہ، ضائع شدہ
رَدَّاس نے لوٹایا
كِيسَةتھیلی
دَرَاهِمروپے، سکے
شَعَرَ بِـاس نے محسوس کیا
انْتَظَرَاس نے انتظار کیا
حَزِينغمزدہ
كَافَأَاس نے انعام دیا
رَفَضَاس نے انکار کیا
أَجْراجر، معاوضہ
انْتَشَرَوہ پھیل گئی

حکایت کے مطابق چرواہا سچائی اور امانت داری کی وجہ سے لوگوں میں مشہور تھا۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی اسے کوئی گمشدہ چیز ملتی تو وہ بغیر کسی معاوضے کی طلب کے اسے اس کے اصل مالک کو لوٹا دیتا تھا۔ یہ عادت محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں تھی بلکہ اس کی مستقل خصلت تھی، جس کی وجہ سے پورے گاؤں کے لوگ اسے دیانت دار اور قابلِ اعتماد شخص سمجھتے تھے۔ اسی شہرت کی بنیاد پر بعد میں پیش آنے والا واقعہ بھی اس کے کردار سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

حکایت کے مطابق ایک اجنبی شخص چرواہے کے پاس سے گزرا تو اس سے ایک تھیلی گر گئی جس میں کافی رقم موجود تھی، اور اسے اس بات کا احساس تک نہ ہوا۔ چرواہے نے وہ تھیلی اٹھا لی، لیکن اسے اپنے پاس رکھنے یا اس میں سے کچھ لینے کے بجائے اس کے مالک کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کافی دیر تک انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اجنبی شخص غمزدہ دل کے ساتھ اپنی تھیلی تلاش کرتا ہوا واپس آیا، جس پر چرواہے نے اسے پوری تھیلی جوں کی توں واپس کر دی۔

جب اجنبی شخص چرواہے کی امانت داری پر حیران ہوا اور اسے انعام دینا چاہا، تو چرواہے نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ 'إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً لَا أَطْلُبُ عَلَيْهَا أَجْرًا مِنَ النَّاسِ'، یعنی میں نے تو صرف امانت ادا کی ہے، اس پر لوگوں سے کوئی اجر نہیں چاہتا۔ اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چرواہے کے نزدیک امانت داری کوئی ایسا عمل نہیں جس کا صلہ دنیاوی انعام کی صورت میں لیا جائے، بلکہ یہ ایک اخلاقی فرض ہے جسے پورا کرنا خود اپنے آپ میں کافی اجر ہے۔

حکایت کے آخری جملے میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ پورے گاؤں میں مشہور ہو گیا اور لوگ اس چرواہے کو سچائی اور امانت کی مثال کے طور پر یاد کرنے لگے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نیک عمل، خواہ کتنا ہی خاموشی سے کیوں نہ کیا جائے، بالآخر معاشرے میں پہچانا جاتا ہے اور لوگوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ بن جاتا ہے۔ چرواہے کا معمولی پیشہ اس کی عزت میں کوئی کمی نہیں لایا، بلکہ اس کے کردار نے اسے لوگوں کی نظروں میں بلند مقام عطا کیا۔

اس سبق میں یہ حکایت جان بوجھ کر ایک تدریسی اور اخلاقی 'حکایت' کے طور پر پیش کی گئی ہے، نہ کہ کسی مستند تاریخی یا نبوی واقعے کے طور پر۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کسی غیر مصدقہ روایت کو تاریخی حقیقت سمجھ کر آگے بیان نہ کریں، بلکہ اسے محض ایک اخلاقی سبق اور زبان سیکھنے کی مشق کے طور پر پڑھیں۔ یہ طریقہ علمی دیانت داری کا تقاضا ہے، کیونکہ کسی بھی واقعے کو مستند قرار دینے کے لیے سند اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ یہاں مقصد صرف زبان اور اخلاق کی تعلیم ہے۔

«كَانَ» ایک فعلِ ناقص ہے جو اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے، لیکن اس جملے میں چونکہ ترتیب بدل کر ظرف مقدم لایا گیا ہے، اس لیے «فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ» جار مجرور بطور خبر مقدم استعمال ہوا ہے اور «رَجُلٌ» اسمِ کان مؤخر مرفوع ہے، جبکہ «صَالِحٌ» اس کی صفت ہے جو رفع، تذکیر اور تنکیر میں اپنے موصوف کے مطابق آئی ہے۔ اس قسم کی ترکیب عربی نثر میں کسی کہانی کا آغاز کرنے کے لیے نہایت عام ہے، جو اردو کے 'ایک زمانے میں ایک آدمی تھا' والے اسلوب سے مشابہت رکھتی ہے۔

«رَأَى» ایک فعلِ معتل ناقص ہے، کیونکہ اس کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہے۔ فعل ماضی کی صیغہ سازی میں جب اس پر ضمیر متصل، جیسے «ـهُ»، لاحق ہوتا ہے تو یہ «رَآهُ» کی صورت اختیار کرتا ہے، جس میں ہمزہ اور الف کے امتزاج سے مدہ کی شکل بنتی ہے۔ اس فعل کا فاعل «الرَّاعِي» ہے اور «ـهُ» میں موجود ضمیر مفعول بہ کے طور پر اس اجنبی شخص کی طرف لوٹتی ہے جسے چرواہے نے دیکھا۔ اس مثال سے فعلِ ناقص کی صرفی خصوصیات کو عملی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

نظرثانی کے خلاصے میں بتایا گیا ہے کہ اضافت کی ترکیب میں دو اسم آپس میں جڑ کر ایک نیا معنیٰ پیدا کرتے ہیں، جس میں پہلا اسم مضاف اور دوسرا مضاف الیہ کہلاتا ہے۔ مضاف کبھی تنوین یا 'ال' قبول نہیں کرتا، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، جیسا کہ مثال «كِتَابُ الطَّالِبِ» میں دیا گیا ہے، جہاں «كِتَابُ» مضاف اور «الطَّالِبِ» مضاف الیہ ہے۔ یہ قاعدہ عربی جملوں میں ملکیت، نسبت یا تعلق ظاہر کرنے کا سب سے بنیادی اور کثیر الاستعمال طریقہ ہے، اور اسے پہچاننا جملے کے درست ترجمے کے لیے ضروری ہے۔

صرف کے خلاصے میں فعلِ صحیح کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں: سالم، مضعّف اور مہموز۔ فعلِ سالم وہ عام فعل ہے جس کے حروفِ اصلی میں نہ حرفِ علت ہو اور نہ دو حروف ایک جیسے ہوں، جیسے «كَتَبَ»۔ فعلِ مضعّف وہ فعل ہے جس کا دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہو، جیسے «مَدَّ»، جس میں دونوں ملتے جلتے حروف اکثر مدغم ہو جاتے ہیں۔ فعلِ مہموز وہ فعل ہے جس کے حروفِ اصلی میں سے کوئی ایک ہمزہ ہو، جیسے «أَخَذَ»، جس کی صرفی تبدیلیوں میں ہمزے کی جگہ کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔

خلاصے کے مطابق فعلِ معتل کی چار قسمیں ہیں: مثال، اجوف، ناقص اور لفیف۔ فعلِ مثال وہ ہے جس کا پہلا حرفِ اصلی حرفِ علت ہو، جیسے «وَعَدَ»۔ فعلِ اجوف وہ ہے جس کا درمیانی حرف حرفِ علت ہو، جیسے «قَالَ»، جس میں اکثر یہ حرف الف میں بدل جاتا ہے۔ فعلِ ناقص وہ ہے جس کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہو، جیسے «رَمَى» یا «دَعَا»۔ فعلِ لفیف وہ ہے جس میں دو حروفِ علت اکٹھے پائے جائیں، جیسے «وَفَى»، اور اسے مزید لفیفِ مفروق اور لفیفِ مقرون میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ دونوں حروفِ علت ملے ہوئے ہیں یا الگ الگ حروف کے درمیان واقع ہیں۔

خلاصے کے مطابق فعل ماضی کسی گزرے ہوئے کام کو ظاہر کرتا ہے، جیسے «كَتَبَ» یعنی 'اس نے لکھا'۔ فعل مضارع حال یا مستقبل کے کام کو ظاہر کرتا ہے اور ہمیشہ چار حروفِ مضارعت (أ، ن، ي، ت) میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے، جیسے «يَكْتُبُ» یعنی 'وہ لکھتا ہے / لکھے گا'۔ فعل امر کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسے «اُكْتُبْ» یعنی 'لکھو'۔ فعل نہی کسی کام سے روکنے کے لیے فعل مضارع سے پہلے «لَا» لگا کر بنایا جاتا ہے، اور فعل مضارع مجزوم ہو جاتا ہے، جیسے «لَا تَكْتُبْ» یعنی 'مت لکھو'۔ ان چاروں صیغوں کی پہچان جملے کے صحیح زمانی اور حکمی مفہوم کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

سبق کا دوسرا حصہ سمسٹر بھر میں پڑھائے گئے تمام اہم نحوی اور صرفی قواعد کا ایک مختصر اور مرتب خلاصہ پیش کرتا ہے، جس میں اسمِ اشارہ، تنوین و ال، حروفِ جر، اضافت، نعت و منعوت، ضمائر، جمع، تثنیہ، مشتقات اور مرکبات جیسے نحوی موضوعات، اور فعل ماضی، مضارع، امر، نہی، صحیح، معتل کی اقسام اور فعلِ رباعی جیسے صرفی موضوعات شامل ہیں۔ یہ خلاصہ طلبہ کو پورے سمسٹر کے پھیلے ہوئے مواد کو ایک ہی جگہ، مختصر اور قابلِ فہم انداز میں دوبارہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے، جس سے حتمی امتحان کی تیاری کے دوران وقت کی بچت ہوتی ہے اور بھولے ہوئے قواعد فوری طور پر یاد آ جاتے ہیں۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 22 سوالات)
1حکایت کے مطابق چرواہا کس صفت کی وجہ سے مشہور تھا؟
الفدولت مندی
بسچائی اور امانت داری
جطاقت
دخوش لباسی
متن میں بیان ہے کہ چرواہا صدق اور امانت کی وجہ سے مشہور تھا۔
2اجنبی شخص سے کیا چیز گری؟
الفکتاب
بتھیلی جس میں دراہم تھے
جچھڑی
دکمبل
متن میں بیان ہے 'فَسَقَطَتْ مِنْهُ كِيسَةٌ فِيهَا دَرَاهِمُ كَثِيرَةٌ'۔
3چرواہے نے تھیلی ملنے کے بعد کیا کیا؟
الفاسے چھپا دیا
بمالک کا انتظار کیا اور واپس کر دی
جاسے بیچ دیا
داسے پھینک دیا
متن کے مطابق چرواہے نے مالک کا انتظار کیا اور پوری تھیلی واپس کر دی۔
4لفظ «ضَائِع» کا معنی کیا ہے؟
الفنیا
بگمشدہ
جمہنگا
دبھاری
«ضَائِع» کا معنی ہے گمشدہ یا ضائع شدہ۔
5اجنبی شخص نے تھیلی واپس ملنے پر کیا پیشکش کی؟
الفسزا دینے کی
بانعام دینے کی
جشکایت کرنے کی
دخاموش رہنے کی
متن کے مطابق اجنبی نے چرواہے کو انعام دینا چاہا۔
6چرواہے نے انعام قبول کرنے سے انکار کیوں کیا؟
الفوہ ناراض تھا
بوہ کہتا تھا کہ امانت پر اجر نہیں مانگتا
جوہ رقم کو کم سمجھتا تھا
دوہ اجنبی کو نہیں جانتا تھا
چرواہے نے کہا 'إِنَّمَا أَدَّيْتُ أَمَانَةً لَا أَطْلُبُ عَلَيْهَا أَجْرًا'۔
7حکایت کے آخر میں گاؤں کے لوگ چرواہے کو کس چیز کی مثال کے طور پر یاد کرنے لگے؟
الفبہادری
بسچائی اور امانت
جدولت
دعلم
متن میں بیان ہے کہ لوگ اسے صدق و امانت کی مثال کے طور پر یاد کرتے تھے۔
8یہ حکایت اس سبق میں کس طور پر پیش کی گئی ہے؟
الفمستند تاریخی واقعے کے طور پر
بایک تدریسی و اخلاقی حکایت کے طور پر
جمستند حدیث کے طور پر
دسرکاری دستاویز کے طور پر
متن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ایک تدریسی و اخلاقی حکایت ہے، مستند تاریخی روایت نہیں۔
9جملہ «كَانَ فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ رَجُلٌ صَالِحٌ» میں «رَجُلٌ» کا گرامری کردار کیا ہے؟
الفخبرِ کان مقدم
باسمِ کان مؤخر مرفوع
جمفعول بہ
دحال منصوب
یہاں خبر مقدم (جار مجرور) کے بعد «رَجُلٌ» اسمِ کان مؤخر مرفوع ہے۔
10«رَأَى» کس قسم کا فعل ہے؟
الففعلِ سالم
بفعلِ معتل ناقص
جفعلِ مضعّف
دفعلِ مہموز صرف
«رَأَى» کا آخری حرفِ اصلی حرفِ علت ہے، اس لیے یہ فعلِ معتل ناقص ہے۔
11نحو کے خلاصے کے مطابق مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دمجزوم
قاعدے کے مطابق مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔
12نعت اور منعوت کس چیز میں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں؟
الفصرف رنگ میں
باعراب، تذکیر و تانیث، تعریف و تنکیر اور عدد میں
جصرف حجم میں
دصرف مقام میں
خلاصے کے مطابق نعت اپنے منعوت سے ان چار پہلوؤں میں مطابقت کرتا ہے۔
13جمع مذکر سالم کی علامت کیا ہوتی ہے؟
الفـانِ / ـيْنِ
بـونَ / ـينَ
جـاتٌ
دکوئی خاص علامت نہیں
جمع مذکر سالم کی علامت «ـونَ» یا «ـينَ» ہوتی ہے، جیسے «مُسْلِمُونَ»۔
14تثنیہ کی علامت کیا ہے؟
الفـونَ / ـينَ
بـانِ / ـيْنِ
جـاتٌ
دتنوین
تثنیہ کی علامت «ـانِ» یا «ـيْنِ» ہوتی ہے، جیسے «كِتَابَانِ»۔
15اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کس زمرے میں آتے ہیں؟
الفحروف
بمشتقات (مشتق اسماء)
جضمائر
داسماء اشارہ
اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول فعل کے مادّے سے بننے والے مشتق اسماء ہیں۔
16فعل مضارع ہمیشہ کن حروف میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے؟
الفا، ب، ت، ث
بأ، ن، ي، ت
جك، ل، م، ن
دص، ض، ط، ظ
فعل مضارع حروفِ مضارعت أ، ن، ي، ت میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے۔
17فعل نہی کیسے بنایا جاتا ہے؟
الففعل ماضی سے «لَنْ» لگا کر
بفعل مضارع سے پہلے «لَا» لگا کر اور اسے مجزوم کر کے
جفعل امر سے «قَدْ» لگا کر
داسم پر تنوین لگا کر
فعل نہی، فعل مضارع سے پہلے «لَا» لگا کر اور فعل کو مجزوم کر کے بنایا جاتا ہے، جیسے «لَا تَكْتُبْ»۔
18فعلِ مضعّف کی پہچان کیا ہے؟
الفپہلا حرف حرفِ علت ہو
بدوسرا اور تیسرا حرف ایک جیسا ہو
جدرمیانی حرف حرفِ علت ہو
دآخری حرف ہمزہ ہو
فعلِ مضعّف میں دوسرا اور تیسرا حرفِ اصلی ایک جیسا ہوتا ہے، جیسے «مَدَّ»۔
19فعلِ اجوف کی مثال کون سی ہے؟
الفكَتَبَ
بقَالَ
جوَعَدَ
ددَحْرَجَ
«قَالَ» کا درمیانی حرفِ اصلی حرفِ علت ہے، اس لیے یہ فعلِ اجوف ہے۔
20فعلِ لفیف کی پہچان کیا ہے؟
الفایک حرفِ علت
بدو حروفِ علت
جکوئی حرفِ علت نہیں
دچار حروفِ اصلی
فعلِ لفیف میں دو حروفِ علت اکٹھے پائے جاتے ہیں، جیسے «وَفَى»۔
21فعلِ رباعی مجرد کی مثال کون سی دی گئی ہے؟
الفكَتَبَ
بقَالَ
جدَحْرَجَ
درَمَى
«دَحْرَجَ» چار اصلی حروف پر مشتمل فعلِ رباعی مجرد کی مثال ہے۔
22مضاف اسم پر عموماً کیا چیز نہیں آتی؟
الفحرکت
بتنوین اور ال
جضمیر
دجمع کی علامت
قاعدے کے مطابق مضاف تنوین اور 'ال' دونوں سے خالی ہوتا ہے۔